Skip to content
Zenga News

نیتن یاہو کا اتحاد ابتدائی اسرائیلی ووٹوں کی گنتی میں آگے، عرب جماعتیں فیصلہ کن پوزیشن میں

زیادہ تر بیلٹ شمار ہونے کے بعد، اسرائیلی میڈیا کے مطابق نہ بنیامین نیتن یاہو کے اتحاد اور نہ ہی غادی آئزنکوٹ کی اپوزیشن کو اکثریت کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ عرب جماعتوں کے نشستیں حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 5 منٹ مطالعہ
File photo: Jerusalem, Palestine
File photo: Jerusalem, Palestine تصویر: Gary Todd from Xinzheng, China / Wikimedia Commons · CC0

اسرائیل — بنیامین نیتن یاہو کے اتحاد نے منگل کے پارلیمانی انتخابات کے جزوی نتائج میں برتری حاصل کی، تاہم بدھ کو یہ اکثریت سے محروم رہا، اسرائیلی میڈیا کے مطابق۔ 120 نشستوں والی کنیسٹ میں عرب جماعتوں کے فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

انادولو ایجنسی نے ٹائمز آف اسرائیل اور مرکزی الیکشن کمیشن کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ 72.4 فیصد ووٹ شمار ہو چکے تھے۔ اس موقع پر نیتن یاہو کے اتحاد کے 54 نشستیں جیتنے کا امکان تھا، جو حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں سے سات کم ہیں۔ غادی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد کے 48 نشستیں جیتنے کا امکان تھا۔ بنیادی طور پر عرب جماعتوں کے 18 نشستیں لینے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

مختلف اداروں اور گنتی کے مختلف مراحل میں اعداد و شمار قدرے مختلف ہیں۔ دی نیو عرب نے رپورٹ کیا کہ 60 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی پر نیتن یاہو کی قیادت والے اتحاد کے پاس 56 نشستیں تھیں، جو اکثریت سے تقریباً پانچ کم ہیں۔ ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں الجزیرہ عربی نے کہا کہ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق 66 فیصد ووٹ شمار ہو چکے تھے، جن میں نیتن یاہو کے کیمپ کو 54، آئزنکوٹ کے کیمپ کو 48 اور عرب جماعتوں کو 18 نشستیں حاصل تھیں۔ ٹیلیگرام پر ایک اور پوسٹ میں پیلestine کرانیکل نے عارضی اعداد و شمار میں نیتن یاہو کے کیمپ کو 55 اور اپوزیشن کو 49 نشستیں دیں۔ ان پوسٹس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ تمام اعداد و شمار عارضی ہیں۔

جماعتوں کے تخمینے

انادولو کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی لیکود 27 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے رہنے کا امکان تھی۔ آئزنکوٹ کی جماعت "یاشار" کے 21 نشستیں جیتنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ ڈیموکریٹس اور اسرائیل بیتینو میں سے ہر ایک کے آٹھ نشستیں جیتنے کا امکان تھا۔ شاس، یونائیٹڈ توراہ جوڈا اور عوتزما یہودیت میں سے ہر ایک کے سات نشستیں لینے کی توقع تھی۔

عرب جماعتوں میں، جوائنٹ لسٹ کے 12 نشستیں جیتنے کا امکان تھا جبکہ یونائیٹڈ عرب لسٹ، جو رعم کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، کے چھ نشستیں جیتنے کا امکان تھا۔ انادولو نے کہا کہ گنتی جاری رہنے کے ساتھ نتائج تبدیل ہو سکتے ہیں۔

بی بی سی بنگلہ کے مطابق 70 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی گنتی کے بعد، نہ نیتن یاہو کا اتحاد اور نہ ہی آئزنکوٹ کا اتحاد 61 نشستوں کی حد تک پہنچتا دکھائی دیا۔

عرب جماعتیں

دی نیو عرب نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کے بڑے ٹیلی ویژن چینلز کے ایگزٹ پولز میں دونوں عرب فہرستوں کے مجموعی طور پر تقریباً 20 نشستیں جیتنے کا اشارہ ملا۔ اس نے کہا کہ یہ 2022 کے انتخابات میں 10 نشستوں سے زیادہ ہے۔ آؤٹ لیٹ کے مطابق عرب ووٹرز نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے۔ اس کے مطابق اسرائیل کی آبادی میں عرب شہریوں کا حصہ 20 فیصد ہے۔

دی نیو عرب کی شائع کردہ ایک تصویری وضاحت کے مطابق، پولنگ بند ہونے کے بعد 27 اکتوبر کو جوائنٹ لسٹ نے ناصرہ میں اپنے ہیڈکوارٹر میں ایک اجتماع کیا۔

رہنماؤں کے بیانات

نیتن یاہو نے بدھ کی صبح ابتدا میں بات کی۔ دی نیو عرب کے مطابق انھوں نے کہا: "ہمیں ایک مضبوط، دائیں بازو کی، قوم پرست حکومت قائم کرنی ہے۔" انھوں نے مزید کہا: "ہمیں اسرائیل کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے اور ایسی حکومت قائم نہیں کرنی چاہیے جو صہیونیت مخالف عرب جماعتوں پر انحصار کرے۔" دی نیو عرب کے مطابق انھوں نے عرب جماعتوں کے ساتھ شراکت داری کو غداری قرار دے کر مسترد کیا۔

بی بی سی بنگلہ کے مطابق نیتن یاہو نے رات کے دوران حامیوں کو بتایا کہ دائیں بازو کے اتحاد کو صہیونی اور یہودی ووٹرز کی حمایت حاصل ہے۔ نشریاتی ادارے کے مطابق انھوں نے ایک قوم پرست، دائیں بازو کی حکومت کا مطالبہ کیا۔

بی بی سی بنگلہ کے مطابق آئزنکوٹ نے بھی رات کے دوران اپنی جماعت یاشار کے حامیوں سے خطاب کیا۔ نشریاتی ادارے نے کہا کہ زیادہ تر ایگزٹ پولز نے ابتدا میں اپوزیشن کی برتری کی طرف اشارہ کیا تھا۔ اس نے رپورٹ کیا کہ آئزنکوٹ نے کہا کہ ووٹرز نے تبدیلی کا انتخاب کیا ہے اور نیتن یاہو کے بطور وزیراعظم برقرار رہنے کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ نشریاتی ادارے کے مطابق انھوں نے ایک مستحکم حکومت کے لیے کوشش کرنے کا عہد کیا جو تمام اسرائیلی شہریوں کی خدمت کرے۔

ڈیموکریٹس کی قیادت کرنے والے یائر گولان نے بدھ کو اپوزیشن اتحادیوں سے کہا کہ وہ نیتن یاہو کو ہٹانے کے لیے عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کریں، دی نیو عرب کے مطابق۔ انھوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا: "ہمیں نیتن یاہو کی یہودی ووٹوں اور عرب ووٹوں کے درمیان نسل پرستانہ تقسیم کو مزید قبول نہیں کرنا چاہیے۔" انھوں نے مزید کہا: "ہماری ذمہ داری ہے۔ اور ہمارے پاس اسرائیل کے عرب شہریوں کے ساتھ شراکت میں تبدیلی کی حکومت بنانے کا موقع ہے۔"

جو امور غیر تصدیق شدہ ہیں

نشستوں کا حتمی توازن ابھی طے نہیں ہوا۔ ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں پیلestine کرانیکل نے کہا کہ اسرائیلی سروس ممبران کے ڈالے گئے تقریباً 650,000 بیلٹ ابھی شمار نہیں ہوئے۔ پوسٹ کے مطابق اب بحث ممکنہ انحراف، اتحاد میں تبدیلیوں یا ایک اور انتخاب کی طرف مڑ رہی ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت بننے تک نیتن یاہو عبوری وزیراعظم کے طور پر برقرار رہیں گے۔ یہ نکات ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے لیے گئے ہیں، اور مذکورہ آؤٹ لیٹس نے ان کی رپورٹ نہیں کی۔

ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں ٹی آر ٹی ورلڈ نے کہا کہ نہ نیتن یاہو کے اتحاد اور نہ ہی ان کے مخالف اتحادوں نے اکثریت حاصل کی ہے۔ یہ دیگر آؤٹ لیٹس کے جزوی اعداد و شمار سے مطابقت رکھتا ہے۔

پس منظر

بی بی سی بنگلہ کے مطابق کنیسٹ میں کسی بھی جماعت نے کبھی واضح اکثریت حاصل نہیں کی۔ اس لیے اسرائیل پر ہمیشہ اتحادی حکومتیں ہی رہی ہیں۔

گنتی ختم ہونے کے بعد صدر جماعتی رہنماؤں سے مشاورت کرتے ہیں۔ بی بی سی بنگلہ کی رپورٹ کے مطابق پھر صدر اس امیدوار کو دعوت دیتے ہیں جسے حکومت بنانے کا سب سے زیادہ امکان سمجھا جائے۔ اس امیدوار کے پاس اتحاد بنانے کے لیے 28 دن ہوتے ہیں اور وہ 14 دن کی توسیع کی درخواست کر سکتا ہے۔

اگر مذاکرات ناکام ہوں تو صدر کسی اور امیدوار کو موقع دے سکتے ہیں۔ اگر وہ بھی ناکام ہو جائے تو کنیسٹ کے ارکان صدر سے تیسرے رہنما تک رسائی کی درخواست کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی حکومت نہ بن سکے تو نئے انتخابات کا اعلان کیا جاتا ہے۔

بی بی سی بنگلہ نے کہا کہ 2019 اور 2022 کے درمیان، جماعتوں کے بار بار تعاون میں ناکام رہنے کے بعد، اسرائیل میں پانچ الگ انتخابات ہوئے۔ 2022 کے انتخابات میں نیتن یاہو کی لیکود نے 120 میں سے 32 نشستیں جیت کر سب سے بڑی جماعت کی حیثیت حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے کئی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنایا، جس سے ان اور ان کے اتحادیوں کے پاس 64 نشستوں کی اکثریت آ گئی، نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج