Skip to content
Zenga News

اسرائیلی ایگزٹ پولز میں کسی واضح فاتح کا اشارہ نہیں، عرب جماعتوں کی کامیابی

نیتن یاہو کا اتحاد اور نہ ہی اپوزیشن 61 نشستیں حاصل کرتی نظر آ رہی ہے، جبکہ ایگزٹ پولز اور جزوی نتائج کے مطابق عرب قیادت والی جماعتیں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں، جیسا کہ 28 اکتوبر کو رپورٹ کیا گیا۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 6 منٹ مطالعہ
File photo: Name: Knesset of Israel - Jerusalem Description:
File photo: Name: Knesset of Israel - Jerusalem Description: تصویر: Shlomo Spitzer (שלמה שפיצר) / Wikimedia Commons · CC BY 2.5

یروشلم — منگل کو اسرائیل کے عام انتخابات کے ایگزٹ پولز اور جزوی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نہ وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کا اتحاد اور نہ ہی اپوزیشن اکثریت حاصل کر رہی ہے، جبکہ عرب قیادت والی جماعتیں اپنی اب تک کی سب سے مضبوط کارکردگی کے قریب ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق۔

اسرائیلی نشریاتی اداروں کے ایگزٹ پولز کے مطابق نہ نیتن یاہو اور نہ ہی ان کے بڑے حریف، سابق فوجی سربراہ گیڈی آئزنکوٹ، 120 نشستوں پر مشتمل کنیسٹ میں اکثریت حاصل کرتے نظر آ رہے تھے، بی بی سی اردو نے رپورٹ کیا۔ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

اسی رپورٹ کے مطابق انتخاب میں حصہ لینے والی دو عرب جماعتیں مجموعی طور پر ریکارڈ 18 یا 19 نشستیں جیتنے کا امکان ظاہر کر رہی تھیں۔ بی بی سی اردو نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اعداد و شمار کن نشریاتی اداروں نے جاری کیے۔

جزوی نتائج

عرب نیوز نے اسرائیلی چینل 12 کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ تقریباً 70 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر نیتن یاہو کا اتحاد 54 نشستوں پر تھا۔ اپوزیشن "تبدیلی" اتحاد 47 نشستوں پر تھا۔

اس گنتی کے مطابق نیتن یاہو کی لیکود پارٹی 27 نشستوں پر تھی۔ آئزنکوٹ کی جماعت "یاشار" ایک نشست کی کمی کے ساتھ 20 پر تھی۔ عرب قیادت والے اتحاد "جوائنٹ لسٹ" کی نشستیں بڑھ کر 13 ہو گئیں، عرب نیوز نے کہا، اور اب تک 40 لاکھ سے زائد ووٹ گنے جا چکے تھے۔

عرب نیوز کے مطابق دیگر جماعتوں کی پوزیشن یوں تھی: "ساتھ" 11 نشستوں پر، "دی ڈیموکریٹس" اور "یسرائل بیتنو" ہر ایک 8 نشستوں پر، جبکہ "عوتسما یہودیت"، "یونائیٹڈ توراہ جوڈاism" اور "شاس" ہر ایک 7 نشستوں پر تھیں۔ "رعم"، "مذہبی صہیونیت" اور "شناخت" ہر ایک 6 نشستوں پر تھیں۔ عوتسما یہودیت کی قیادت قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر کر رہے ہیں۔

بی بی سی اردو نے اس سے پہلے کے مرحلے میں، جب 66.3 فیصد بیلٹ گنے جا چکے تھے، قدرے مختلف اعداد دیے۔ اس کے مطابق لیکود 27 اور یاشار 21 نشستوں پر تھی۔ اس نے کہا کہ نیتن یاہو کے ہم خیال دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کا بلاک 54 نشستوں پر تھا، یعنی اکثریت سے سات نشستیں کم۔ نیتن یاہو مخالف بلاک 48 نشستوں پر بتایا گیا۔

بی بی سی اردو کے مطابق اس گنتی میں جوائنٹ لسٹ 12 نشستوں پر آگے تھی اور یونائیٹڈ عرب لسٹ چھ نشستوں پر، جس سے عرب نمائندگی 18 ہو جاتی۔ ادارے کے مطابق ٹرن آؤٹ 77 فیصد سے تجاوز کر گیا، جسے اس نے حالیہ برسوں کے لیے غیر معمولی قرار دیا۔

انادولو ایجنسی نے 16.8 فیصد بیلٹ گنے جانے کے وقت کی ابتدائی تصویر رپورٹ کی۔ اس میں لیکود 24.1 فیصد ووٹوں کے ساتھ آگے تھی، جبکہ یاشار 16.1 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر تھی۔

مختلف اداروں اور گنتی کے مختلف مراحل کے اعداد میں فرق ہے۔ عرب نیوز نے نوٹ کیا کہ گنتی جاری رہنے کے ساتھ نشستوں کی حتمی تقسیم بدل سکتی ہے۔

نیتن یاہو کا عرب حمایت سے حکومت مسترد کرنا

مڈل ईسٹ آئی کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد "شرمناک اور باعثِ ذلت" ہوگا۔

اس ادارے کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ہجوم سے کہا، "یہ ممنوع ہے، صرف ممنوع ہے کہ اسرائیل کو خطرے میں ڈالا جائے اور ایسی حکومت بنائی جائے جو صہیونیت مخالف عرب جماعتوں پر انحصار کرے۔" ادارے نے بتایا کہ انہوں نے ان جماعتوں کو "ہمارے وجود ہی کے خلاف" قرار دیا۔ بی بی سی اردو نے بھی رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو نے کہا کہ عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر حکومت نہیں بن سکتی۔

عرب نیوز کے مطابق نیتن یاہو نے مضبوط دائیں بازو کی حکومت کا مطالبہ کیا ہے اور عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کو مسترد کیا ہے۔ اس کے مطابق نیتن یاہو اور آئزنکوٹ دونوں نے فتح کا دعویٰ کیا ہے۔

آئزنکوٹ کی پوزیشن پر تنازع

عرب قیادت والی جماعتوں کے بارے میں آئزنکوٹ کے موقف پر رپورٹس میں اختلاف ہے۔ عرب نیوز کے مطابق انہوں نے ان کے ساتھ مشروط طور پر کام کرنے کے امکان کا اظہار کیا ہے، تاہم اس نے ایسے انتظام کو سیاسی طور پر حساس قرار دیا۔

انڈونیشیا کے ادارے ریپبلیکا نے اس کے برعکس رپورٹ کیا۔ اس کے مطابق آئزنکوٹ مشترکہ بنیادی اقدار کی کمی کا حوالہ دے کر عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ ریپبلیکا کے مطابق یہودی جماعتوں کی بڑی اکثریت نے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔

ریپبلیکا کا کہنا تھا کہ اگر یہ پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں تو نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے سامنے دو مشکل راستے ہوں گے: یا تو وہ نیتن یاہو کے ساتھ کام نہ کرنے کا انتخابی وعدہ توڑیں، یا پھر عرب اکثریتی جماعتوں کے ساتھ سیاسی سمجھوتہ کریں۔

الجزیرہ عربی کے ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں، اس کے نیوز چینل نے چینل 12 کے حوالے سے بتایا کہ بین گویر نے آئزنکوٹ کے ساتھ قومی یکجہتی حکومت کی بات چیت کے خلاف خبردار کیا تھا۔ پوسٹ کے مطابق انہوں نے اسے "سنگین غلطی" قرار دیا۔ یہ پوسٹ غیر تصدیق شدہ ہے، اور زنگا نیوز نے ان بیانات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔

عرب ووٹرز

ریپبلیکا نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ عرب شہریوں پر مشتمل ہے۔ اس کے مطابق ان میں سے بہت سے خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری کہتے ہیں۔ ادارے کے مطابق سیاسی مایوسی ماضی میں ان کے ووٹ ٹرن آؤٹ کو کم کرتی رہی ہے۔ اس بار، ادارے نے رپورٹ کیا، اسرائیل کی تاریخ کی سب سے دائیں بازو کی حکومت کہلانے والی اتحادی حکومت کو ہٹانے کے لیے بھرپور مہم چلائی گئی۔ یہ حکومت نیتن یاہو کو انتہائی دائیں بازو اور انتہائی راسخ العقیدہ جماعتوں کے ساتھ جوڑتی ہے۔

ادارے نے ناذرتھ میں پمفلٹ تقسیم کرنے والے 23 سالہ طالب علم ارکان بدران کا حوالہ دیا، جنہوں نے کہا کہ حکومت کو گرانا کمیونٹی کا فرض ہے۔ ان کے مطابق یہ حکومت عرب شہریوں کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کرتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے عرب جماعتوں کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔

مساوی حقوق کے لیے مہم چلانے والی تنظیم "مساوا سینٹر" کی سہا سلمان موسیٰ نے ریپبلیکا کو بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد سے عرب شہریوں کو ریاست کے دشمن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس یا غزہ جنگ کی مخالفت کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور برطرفیوں کا الزام لگایا۔ انہوں نے وزراء پر منظم امتیازی سلوک اور اشتعال انگیزی کا بھی الزام لگایا۔

ریپبلیکا کے مطابق شہری معاشرے کے گروہوں کا الزام ہے کہ حکومت نے عرب کمیونٹیز کے بجٹ میں غیر متناسب کٹوتیاں کی ہیں۔ ادارے کے مطابق حکومت کا موقف ہے کہ جنگ کے دوران دفاع اور سلامتی کے لیے یہ کٹوتیاں ضروری ہیں۔

ریپبلیکا نے اے ایف پی کی ایک تصویر بھی شائع کی جس میں جوائنٹ لسٹ کے حامی 27 اکتوبر کو ناذرتھ میں اتحاد کے انتخابی ہیڈکوارٹر پر جوش و خروش سے نعرے لگاتے دکھائی دیے، جب پہلے ایگزٹ پولز نشر ہو رہے تھے۔

پس منظر

بی بی سی اردو کے مطابق کنیسٹ میں آج تک کوئی ایک جماعت 61 یا زائد نشستیں حاصل کر کے اکیلے حکومت نہیں بنا سکی، اس لیے اسرائیلی حکومتیں ہمیشہ مخلوط بنائی جاتی ہیں۔ گنتی ختم ہونے کے بعد صدر جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کرتے ہیں۔ ادارے کے مطابق صدر پھر ان میں سے کسی ایک کو حکومت بنانے کی کوشش کی دعوت دیتے ہیں۔

عرب نیوز نے اس انتخاب کو عوامی بے چینی اور بار بار کے انتخابی تعطل کے پس منظر میں اہم قرار دیا۔ اس کے مطابق نتیجہ ہفتوں پر محیط مذاکرات کا امکان پیدا کرتا ہے۔ حتمی نتائج اور اتحادی بات چیت ہی طے کریں گے کہ اگلی حکومت کون بنائے گا۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج