Skip to content
Zenga News

قطر کا کہنا ہے کہ امریکہ-ایران بحران کے خاتمے کے لیے ثالثی جاری ہے

قطری وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی قیادت میں کی جانے والی کوششیں پاکستان کے ساتھ اس کی ثالثی کی تکمیل کرتی ہیں، اور ایران سے خیر سگالی کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، دو عرب نشریاتی اداروں کی ٹیلیگرام پوسٹس کے مطابق۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: Luego de su actividad en Kuwait, el Canciller Jorge Faurie se trasladó a Doha, donde mantuvo hoy una agenda de trabajo que incluyó reuniones con altas autoridades de Qatar, además de un encuentro de negocios e inversiones, acompañado por
File photo: Luego de su actividad en Kuwait, el Canciller Jorge Faurie se trasladó a Doha, donde mantuvo hoy una agenda de trabajo que incluyó reuniones con altas autoridades de Qatar, además de un encuentro de negocios e inversiones, acompañado por تصویر: Cancillería Argentina / Wikimedia Commons · CC BY 2.0

دوحہ — قطری وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز کہا کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک کی سفارتی کوششیں قطر اور پاکستان کی قیادت میں جاری ثالثی کی تکمیل کرتی ہیں، الجزیرہ عربی اور العربیہ کی ٹیلیگرام پوسٹس کے مطابق۔

الجزیرہ عربی نے ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وزارت نے سعودی عرب کے "بھائیوں" اور جسے اس نے "مکہ اتحاد" کہا، ان ممالک کی کوششوں کو قطر اور پاکستان کے کام کی تکمیل کرنے والا قرار دیا۔ اس پوسٹ پر "بریکنگ" کا لیبل تھا۔ چینل نے دستیاب مواد میں مکمل بیان شائع نہیں کیا۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

ایک الگ ٹیلیگرام پوسٹ میں العربیہ نے رپورٹ کیا کہ وزارت نے ایران پر زور دیا کہ وہ خیر سگالی کا مظاہرہ کرے اور خلیجی ریاستوں کو دی جانے والی دھمکیاں بند کرے۔ اس پوسٹ میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ کن دھمکیوں کی بات ہو رہی ہے، وہ کب دی گئیں، یا وہ کس طرح پہنچائی گئیں۔

دونوں پوسٹس ایک دوسرے کے ایک منٹ کے اندر، تقریباً 10:25 GMT پر شائع ہوئیں۔ دونوں میں سے کسی میں بھی وزارت کے اصل بیان کا لنک نہیں تھا، اور زنگا نیوز نے مکمل متن کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔ لہٰذا یہ مؤقف نشریاتی اداروں کی رپورٹ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تصدیق شدہ الفاظ کے طور پر نہیں۔

تہران اجلاس

الگ سے، الجزیرہ انگلش نے رپورٹ کیا کہ ایران، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے عہدیداروں نے پیر کے روز تہران میں ملاقات کی۔ اس کے مطابق مذاکرات کا مقصد مزید کشیدگی کو روکنا تھا۔ رپورٹ کی سرخی میں کہا گیا کہ ایران امریکہ کو مذاکرات کے حوالے سے "سنجیدہ نہیں" سمجھتا ہے۔ دستیاب مختصر متن میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایران میں یہ جائزہ کس نے پیش کیا، یا تہران میں کیا زیرِ بحث آیا یا کس بات پر اتفاق ہوا۔

ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ آیا قطری عہدیدار تہران اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔ نہ ہی یہ واضح ہے کہ قطری بیانات اس اجلاس کے براہِ راست جواب میں تھے۔

جن امور کی تصدیق نہیں ہوئی

مواد میں امریکہ-ایران بحران کی موجودہ صورتِ حال بیان نہیں کی گئی۔ اس میں حالیہ فوجی واقعات، زیرِ غور شرائط، یا امریکی حکومت کے مؤقف کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ قطر کے خیر سگالی کے مطالبے پر ایران کا کوئی ردِعمل شامل نہیں کیا گیا۔ پوسٹس میں "مکہ اتحاد" کی شناخت اور رکنیت کی وضاحت نہیں کی گئی۔

پس منظر

اس رپورٹ کی سرخی قطر کے اس بیان کی عکاسی کرتی ہے کہ ثالثی جاری ہے۔ ذرائع سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم دو متوازی سفارتی راستے جاری ہیں: ایک میں قطر اور پاکستان شامل ہیں، اور دوسرا سعودی عرب اور دیگر ریاستوں پر مشتمل ہے۔ الجزیرہ انگلش کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے تہران میں عہدیدار بھیجے۔ الجزیرہ عربی کے ذریعے قطری وزارت کے مطابق، دونوں راستوں کا مقصد ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی حمایت کرنا ہے۔

مذاکرات کے دائرہ کار اور حیثیت کی تصدیق کے لیے دوحہ، تہران یا واشنگٹن کے مزید سرکاری بیانات درکار ہوں گے۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج