Skip to content
Zenga News

آئزنکوٹ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کا سیاسی کیریئر ختم ہو چکا ہے، اسرائیلی ایگزٹ پولز میں کانٹے کا مقابلہ

اپوزیشن اتحاد کے رہنما گیڈی آئزنکوٹ نے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ سیاست سے ریٹائر ہو جائیں، جب ایگزٹ پولز میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل کے پہلے انتخابات میں کسی بھی فریق کو اکثریت حاصل ہوتی نظر نہیں آئی۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 6 منٹ مطالعہ
File photo: An aerial view of the Knesset building in Jerusalem. מבט מהאויר של הכנסת בירושלים. 07/18/1995
File photo: An aerial view of the Knesset building in Jerusalem. מבט מהאויר של הכנסת בירושלים. 07/18/1995 تصویر: Tsvika Israeli / Wikimedia Commons · CC BY-SA 3.0

تل ابیب — اسرائیلی اپوزیشن رہنما گیڈی آئزنکوٹ نے بدھ کی صبح سویرے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ سیاست سے ریٹائر ہو جائیں، اور کہا کہ ووٹرز ان کی حکمرانی کو مسترد کر چکے ہیں۔ منگل کے انتخابات کے ایگزٹ پولز میں کسی بھی اتحاد کو اکثریت حاصل ہوتی نظر نہیں آئی۔

مرکز پسند جماعت "یاشار" کے سربراہ آئزنکوٹ نے تل ابیب میں جماعت کے ہیڈکوارٹر پر حامیوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی شہریوں نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا ہے، اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندہ حکومت تشکیل دیں گے، جیسا کہ انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

انہوں نے کہا، "ایک اور انتخاب کروانا غلطی ہوگی، اور عوام کی مرضی پوری کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا میرا فرض ہے۔"

آئزنکوٹ نے تسلیم کیا کہ حتمی نتائج کا اعلان نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود نیتن یاہو کو ایک بڑی اور مضبوط "صیہونی اکثریت" کا سامنا ہے جو ان کے مسلسل اقتدار کی مخالف ہے۔

"اپنی سیاسی ضروریات کے لیے اسرائیل کی سلامتی کو استعمال کرنے کی جرأت مت کرو۔" — گیڈی آئزنکوٹ، جماعت یاشار کے رہنما

سیکیورٹی سربراہان کے نام پیغام

آئزنکوٹ نے اسرائیل کی سیکیورٹی قیادت سے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے انہیں یاد دلایا کہ نیتن یاہو ایک نگراں حکومت کی سربراہی کر رہے ہیں، اور کہا کہ ان کا فرض عوام کی خدمت ہے۔ انہوں نے کہا، "یاد رکھیں کہ آپ صرف اسرائیلی شہریوں کے مفادات کی خدمت کرتے ہیں۔" انہوں نے ان پر کسی بھی دباؤ کے خلاف ثابت قدم رہنے پر زور دیا اور اپنی حمایت کی پیشکش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ تقسیم اور اشتعال انگیزی کا دور ختم ہو چکا ہے۔ انادولو کے مطابق، انہوں نے صیہونی حکومت تشکیل دینے کا عہد کیا جس کی توجہ فوجی لازمی بھرتی پر ہو۔

ایگزٹ پولز میں واضح فاتح نہیں

یہ ووٹنگ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور اس کے بعد غزہ، لبنان اور ایران میں ہونے والی جنگوں کے بعد اسرائیل میں ہونے والا پہلا انتخاب تھا، جیسا کہ بی بی سی نیوز عربی نے بتایا۔ انتخابی مہم سیاسی تقسیم اور حملوں سے پہلے سیکیورٹی کی ناکامیوں اور جنگ کو سنبھالنے کے طریقے پر نیتن یاہو پر تنقید کے سائے میں چلی۔

اسرائیلی چینلز 11، 12 اور 13 کے ابتدائی تخمینوں میں آئزنکوٹ کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کو 120 نشستوں والی کنیسٹ میں 52 سے 53 نشستیں دی گئیں۔ ان تخمینوں میں نیتن یاہو کے اتحاد کو تقریباً 50 نشستیں دی گئیں، جیسا کہ بی بی سی نیوز عربی نے رپورٹ کیا۔

رات گئے ان تخمینوں میں تبدیلی آئی۔ بی بی سی نیوز عربی نے رائٹرز کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ چینل 11 اور چینل 13 کے تازہ ترین سروے میں دونوں اتحاد برابر دکھائی دیے۔ انادولو نے کہا کہ چینل 13 کے تازہ سروے میں ہر اتحاد کو 51 نشستیں دی گئیں، جن میں سے 18 عرب جماعتوں کے لیے تھیں۔ رائٹرز کے حوالے سے بی بی سی کے مطابق، چینل 12 نے نیتن یاہو کے اتحاد کی معمولی برتری کی نشاندہی کی۔

نیتن یاہو کے حامی سمجھے جانے والے چینل 14 نے ان کے اتحاد کو 60 نشستیں دیں۔ یہ اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں سے ایک کم ہے۔

کسی بھی تخمینے میں کسی فریق کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ ایگزٹ پول محض اندازے ہوتے ہیں، سرکاری نتائج نہیں۔

نیتن یاہو کا ردِعمل

نیتن یاہو نے فتح کا اعلان نہیں کیا۔ بدھ کی صبح سویرے یروشلم میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے، بی بی سی نیوز عربی کے مطابق، انہوں نے کہا، "ہمیں ایک مضبوط دائیں بازو کی حکومت تشکیل دینی ہوگی۔" انہوں نے کہا کہ "یہودی اور صیہونی اکثریت" کو متحد ہونا ہوگا۔

انہوں نے عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا، "عرب جماعتوں کی حمایت سے کسی حکومت کا کوئی امکان نہیں ہے۔"

نیتن یاہو نے نشاندہی کی کہ ایگزٹ پولز کے مطابق ان کی جماعت لیکود سب سے بڑی واحد جماعت ہوگی۔ ابتدائی تخمینوں میں لیکود کو 24 یا 25 نشستیں دی گئیں، جبکہ 2022 کے انتخابات میں اسے 32 نشستیں ملی تھیں، بی بی سی نے رپورٹ کیا۔

انہوں نے ایران کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے ایرانی خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا اسرائیل کے پاس "منفرد موقع" ہے۔ بی بی سی نیوز عربی کے مطابق، مہم کے دوران انہوں نے تہران پر نئے حملوں کی دھمکیوں میں اضافہ کیا تھا۔

وزیرِ خارجہ گیڈون ساعر نے کہا کہ اپوزیشن کا جشن قبل از وقت ہے، جیسا کہ بی بی سی نے رپورٹ کیا۔

دیگر اپوزیشن رہنما

اپوزیشن رہنما یائر لاپid نے نیتن یاہو کے اتحاد کے نتائج کو "کچلنے والی شکست" قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "نیتن یاہو اور ان کی حکومت آج ختم ہو گئی" اور نئی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ ڈیموکریٹس جماعت کے رہنما یائر گولان نے کہا کہ اسرائیلیوں نے نیتن یاہو کی حکومت کا "تختہ الٹ" دیا ہے اور اس نتیجے کو "تاریخی موقع" قرار دیا۔

یہ بیانات طے نہیں کرتے کہ اگلا وزیرِ اعظم کون ہوگا۔ بی بی سی نیوز عربی کے مطابق یہ واضح نہیں کہ کوئی اتحاد اکثریتی مخلوط حکومت بنا سکتا ہے یا نہیں۔

ٹرن آؤٹ اور عرب جماعتیں

مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ بند ہونے تک ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا۔ یہ 1999 کے بعد اس مرحلے پر سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ہے اور 2022 کے مقابلے میں 7.1 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ رائٹرز کے حوالے سے بی بی سی کے مطابق، 5,695,682 افراد نے ووٹ ڈالا۔

عرب جماعتوں نے انتخابات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ منصور عباس کی قیادت میں متحدہ عرب لسٹ (رعم) اور یوسف جبارین کی قیادت میں جوائنٹ لسٹ کو مشترکہ طور پر 17 سے 18 نشستیں ملنے کی توقع تھی۔ پچھلے انتخابات میں انہوں نے 10 نشستیں جیتی تھیں۔ بعد کے تخمینوں میں ممکنہ طور پر 19 نشستوں کی نشاندہی کی گئی، جو تصدیق ہونے کی صورت میں ریکارڈ ہوگا، بی بی سی نے رپورٹ کیا۔

آئندہ کیا ہوگا

چینل 12 کے مطابق صدر آئزک ہرتزوگ سے توقع ہے کہ وہ آئزنکوٹ کو اگلی حکومت بنانے کا کام سونپیں گے۔ انادولو کے مطابق یہ فیصلہ سرکاری نتائج اور پارلیمانی جماعتوں کی سفارشات پر منحصر ہوگا۔ اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

ابتدائی نتائج 28 اکتوبر کو متوقع ہیں، اور سرکاری نتائج 4 نومبر کو جاری ہونے ہیں، جیسا کہ بی بی سی نیوز عربی نے بتایا۔ تقریباً 6 لاکھ غیر حاضر ووٹ، جن میں زیادہ تر فوجیوں نے ڈالے، جمعرات سے پہلے مکمل طور پر نہیں گنے جائیں گے۔ بی بی سی کے مطابق اتحاد سازی کے مذاکرات ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔

پس منظر

نیتن یاہو غزہ کی جنگ اور 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد لبنان اور ایران کے ساتھ ہونے والے تنازعات کے دوران اسرائیلی حکومت کی قیادت کر رہے ہیں۔ بی بی سی نیوز عربی کے مطابق ناقدین نے حملوں سے پہلے کی سیکیورٹی ناکامیوں اور جنگ چلانے کے طریقے پر ان پر تنقید کی ہے۔ یہ انتخابات اس تنقید کا بیلٹ باکس پر پہلا عوامی امتحان ہیں۔

ریپبلیکا کے مطابق آئزنکوٹ وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے نیتن یاہو کے اہم حریف ہیں۔ انادولو کے مطابق ووٹوں کی گنتی منگل کی مقامی رات 10 بجے پولنگ بند ہونے کے بعد شروع ہوئی۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 27 اکتوبر، 2026اسرائیلی حملے میں بے گھر افراد کے خیمے پر ایک شخص ہلاک، طبی ذرائع کا دعویٰ
  2. 28 اکتوبر، 2026آئزنکوٹ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کا سیاسی کیریئر ختم ہو چکا ہے، اسرائیلی ایگزٹ پولز میں کانٹے کا مقابلہ
  3. 28 اکتوبر، 2026آئزن کوٹ کہتے ہیں اسرائیل نے تبدیلی کا انتخاب کیا ہے، وہ حکومت بنانے کی کوشش کریں گے
  4. 28 اکتوبر، 2026UN inquiry finds age-based persecution of Palestinian children in West Bank

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج