Skip to content
Zenga News

امریکا نے سعودی عرب میں غیر ہنگامی سرکاری عملے کو وہاں سے نکلنے کا حکم دے دیا، حوثی حملوں کے بعد

امریکی محکمۂ خارجہ نے بدھ کے روز حوثی حملوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے غیر ہنگامی عملے اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے، انڈونیشیائی خبر رساں ادارے انتارا کے مطابق۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: King Khalid International Airport, Riyadh Saudi Arabia
File photo: King Khalid International Airport, Riyadh Saudi Arabia تصویر: liton islam / Wikimedia Commons · CC BY 3.0

واشنگٹن — امریکی محکمۂ خارجہ نے بدھ، 21 اکتوبر کے روز غیر ہنگامی امریکی سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ انڈونیشیائی خبر رساں ادارے انتارا کے مطابق یہ فیصلہ حوثی گروپ کے حملوں میں اضافے کی بنا پر کیا گیا ہے۔

یہ رپورٹ مکمل طور پر انتارا سے لی گئی ہے، جس نے اپنی رپورٹ 22 اکتوبر کو شائع کی۔ زینگا نیوز نے ان تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

حکم اور وضاحت

انتارا کے مطابق محکمۂ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگوٹ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ یہ حکم صرف سعودی عرب پر لاگو ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک پر لاگو نہیں ہوتا۔

"یہ حکم صرف سعودی عرب پر لاگو ہوتا ہے، مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک پر نہیں۔" — ٹومی پگوٹ، محکمۂ خارجہ کے ترجمان، انتارا کے انڈونیشیائی متن سے ترجمہ شدہ

انتارا نے بتایا کہ یہ فیصلہ سعودی عرب پر حوثی حملوں میں اضافے کے بعد کیا گیا۔ اس کے مطابق ان حملوں میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کوششیں شامل تھیں۔ انتارا کے حوالے سے امریکی عہدیدار نے کہا کہ ان حملوں سے شہری ہلاکتیں ہوئیں اور سفر کا نظام شدید متاثر ہوا۔

ریاض میں سفارت خانے کا سکیورٹی الرٹ

انتارا نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے نے بدھ کے روز سکیورٹی الرٹ جاری کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس الرٹ میں مزید حملوں کے امکان سے خبردار کیا گیا۔ انتارا نے ان رپورٹس کو شائع کرنے والے ذرائع کا نام نہیں بتایا، اور نہ ہی الرٹ کا متن فراہم کیا۔

موجودہ سفری ہدایت

ادارے نے بتایا کہ سعودی عرب فی الحال امریکی سفری ہدایت کی سطح 3 کے تحت ہے۔ اس سطح پر امریکی شہریوں سے کئی خطرات کے پیش نظر سفر پر نظرثانی کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ انتارا نے ان خطرات میں ڈرون اور میزائل حملے، مسلح تنازعہ اور دہشت گردی شامل کیے۔

انتارا کی رپورٹ میں ہفتہ، 19 ستمبر 2026 کو لی گئی ایک تصویر شامل تھی، جس میں ریاض کے شمال مشرق میں واقع شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب گھنا دھواں اٹھتا دکھائی دیتا ہے۔ تصویر کے کیپشن میں ژنہوا کو کریڈٹ دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ دھواں کس وجہ سے اٹھا، اور نہ ہی یہ کہ تصویر محکمۂ خارجہ کے بیان کردہ حملوں سے متعلق ہے یا نہیں۔

کیا معلوم نہیں

انتارا کی رپورٹ کئی سوالات کے جواب نہیں دیتی۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے امریکی سرکاری ملازمین یا ان کے اہل خانہ متاثر ہوں گے۔ روانگی کی کوئی آخری تاریخ بھی نہیں دی گئی۔ یہ واضح نہیں کہ کون سے ہوائی اڈے یا انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، کتنے شہری ہلاک یا زخمی ہوئے، یا یہ ہلاکتیں کب ہوئیں۔

رپورٹ میں حوثیوں کا کوئی ردعمل شامل نہیں۔ سعودی حکومت کا بھی کوئی تبصرہ نہیں۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ امریکا مزید اقدامات کرے گا یا نہیں، مثلاً سفری ہدایت کی سطح بڑھانا۔

پس منظر

انتارا کے حوالے سے امریکی نظام کے تحت سطح 3 کی ہدایت مسافروں سے سفر پر نظرثانی کا تقاضا کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بدھ کے حکم سے پہلے ہی سعودی عرب کو ڈرون اور میزائل حملوں، مسلح تنازعے اور دہشت گردی کے خطرے کی وجہ سے یہ درجہ حاصل تھا۔

انتارا کے بیان کردہ حکم کا تعلق سفری ہدایت سے آگے کے اقدام سے ہے۔ یہ سرکاری ملازمین سے متعلق ہے، نجی مسافروں سے نہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ حکم صرف ان اہلکاروں پر لاگو ہوتا ہے جو ہنگامی عملے میں شامل نہیں۔ انتارا نے وضاحت نہیں کی کہ محکمۂ خارجہ اس زمرے کی تعریف کیا کرتا ہے، اور نہ ہی یہ بتایا کہ کون سے سفارتی یا قونصلر کام جاری رہیں گے۔

انتارا کی یہ رپورٹ ژنہوا نے تحریر کی اور امام بدیلاکسونو نے اس کی ادارت کی۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج