Skip to content
Zenga News

کرک، اردن میں یونانی آرتھوڈاکس چرچ میں جنازے کے دوران مسلح حملہ آوروں کی فائرنگ سے سات افراد ہلاک

اردن کے حکام کے مطابق جمعے کو کرک کے ایک چرچ میں جنازے کے دوران مسلح افراد نے فائرنگ کی جس سے سات افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 6 منٹ مطالعہ
File photo: Saladin monument in Al-Karak, Jordan
File photo: Saladin monument in Al-Karak, Jordan تصویر: Petar Milošević / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

کرک، اردن — اردن کے حکام کے مطابق جمعے کے روز جنوبی اردن کے شہر کرک میں یونانی آرتھوڈاکس چرچ میں جنازے کے دوران مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس سے سات افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے 40 زخمیوں کی اطلاع دی۔ بی بی سی فارسی نے اردنی حکام کے حوالے سے کم از کم 34 زخمیوں کی اطلاع دی۔ ذرائع نے اس فرق کی وضاحت نہیں کی، جس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اعداد و شمار مختلف اوقات میں جاری کیے گئے۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

کرک دارالحکومت عمان کے جنوب میں تقریباً 180 کلومیٹر (110 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔ بی بی سی فارسی کے مطابق یہ حملہ کرک گورنریٹ کے حمود علاقے میں ہوا۔

سرکاری ردعمل

اردن کے وزیر صحت ابراہیم البدور نے اے پी کے مطابق کہا کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حکومتی بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ "نامعلوم حملہ آوروں" نے کیا اور "تحقیقات تیزی سے جاری ہیں"۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کیا کسی حملہ آور کو گرفتار کیا گیا یا ہلاک کیا گیا۔ اے پی کے مطابق اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔

وزیر داخلہ مazen al-Faraya نے ایک نیوز کانفرنس میں حملہ آوروں کو "انتہا پسندوں کا ایک گروہ" قرار دیا۔ بی بی سی فارسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ سکیورٹی حکام ذمہ داروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ بی بی سی فارسی نے ان کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے حملے کو المناک اور ہولناک قرار دیا اور کہا کہ ملکت کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

شاہ عبداللہ دوم نے ایکس پر کہا کہ اردن "کرک کو نشانہ بنانے والی دہشت گردانہ کارروائی کا سخت ترین سزاؤں کے ساتھ مقابلہ کرے گا"۔ اے پی کے مطابق انہوں نے "شہداء کے خاندانوں" سے اپنی گہری تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔

وزیر اعظم جعفر حسن نے جمعے کی شام کرک میں ایک سکیورٹی اجلاس سے خطاب کیا۔ اے پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ حملہ دہشت گرد نظریے اور اندھی انتہا پسندی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کو سزا دی جائے گی اور انتہا پسندی پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔

ریاستی خبر رساں ادارے پیٹرا نیوز ایجنسی کے حوالے سے، جیسا کہ اے پی نے نقل کیا، اردن نے تین روز کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

فوٹیج اور عینی شاہدین کیا دکھاتے ہیں

اردنی سرکاری ٹیلی وژن نے ایسی فوٹیج نشر کی جسے اے پی نے ایسے دو مسلح افراد کی تصویر قرار دیا جو پستول اٹھائے چرچ کی طرف بڑھتے اور فائرنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بعد ایک تیسرا شخص، جس کے پاس نیم خودکار رائفل دکھائی دیتی ہے، آگے بڑھ کر فائرنگ کرتا ہے۔ اے پی کے مطابق پھر تینوں چرچ کی طرف بھاگتے ہیں۔

بی بی سی فارسی نے سی سی ٹی وی فوٹیج بیان کی جس کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے مطابق فوٹیج میں تین مسلح افراد گلی میں چرچ کی طرف چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ دو چرچ کے احاطے کے دروازے تک آتے ہیں، کچھ دیر کے لیے پیچھے ہٹتے ہیں اور پھر تیسرے شخص کے ساتھ واپس آتے ہیں۔ بی بی سی فارسی کے مطابق تینوں کے پاس پستول دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں بیانات اس بارے میں مختلف ہیں کہ آیا ایک شخص کے پاس رائفل تھی۔

عینی شاہدین کی بنائی گئی ویڈیو میں چرچ کے فرش پر ٹوٹے ہوئے شیشے اور خون کے تالاب دکھائی دیتے ہیں، اے پی کے مطابق۔

چرچ کے اندر موجود سوگوار دورغم حلاسہ نے اے پی کو بتایا کہ جنازہ شروع ہونے کے 15 منٹ بعد شدید فائرنگ شروع ہوئی اور پھر لوگ بھاگنے لگے۔ "یہ ایک عجیب صورتحال تھی، اور شدید فائرنگ"، انہوں نے کہا۔ انہوں نے خود حملہ آوروں کو نہیں دیکھا، لیکن کہا کہ دوسرے لوگوں نے چار افراد دیکھے۔ اے پی نے کہا کہ وہ حملہ آوروں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ اردن کی سکیورٹی سروسز نے تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

تدفین میں موجود خالد المدنات نے بی بی سی عربی کو بتایا کہ حملہ تقریباً 15 منٹ تک جاری رہا۔ ان کے مطابق اس دوران فائرنگ جاری رہی اور لوگ بچنے کی کوشش کرتے رہے۔

"لوگ ایک دوسرے کو دھکیل رہے تھے اور زمین پر گر رہے تھے۔" — خالد المدنات، سوگوار، بی بی سی عربی سے بات کرتے ہوئے

بی بی سی فارسی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ لوگ بینچوں کے نیچے چھپ گئے اور کھڑکیوں سے دور ہٹ گئے۔ المدنات کے مطابق حملہ آور فائرنگ جاری رکھتے ہوئے چرچ سے نکلے، ایک پک اپ ٹرک میں سوار ہوئے اور فرار ہو گئے۔ بی بی سی فارسی کی رپورٹ میں غیر متعین رپورٹوں کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا کہ حملہ آور ایک گاڑی میں آئے تھے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق کرک کے اس ہسپتال کے گرد سکیورٹی سخت کر دی گئی جہاں زخمیوں کو لے جایا گیا۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ قریب جمع ہوئے۔

ردعمل

اے پی کے مطابق لبنان، شام، مصر اور عمان سمیت پورے خطے سے مذمت سامنے آئی۔

بی بی سی فارسی کے مطابق لبنان کے صدر جوزف عون نے حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس نے "موت اور جنازے میں شریک سوگواروں کے تقدس کو پامال کیا" اور تمام مذہبی اور انسانی اقدار کے منافی ہے۔

الازہر کے گرینڈ امام احمد الطیب نے قاہرہ میں متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور فائرنگ کو "وحشیانہ دہشت گردانہ حملہ" قرار دیا، اے پی کے مطابق۔

عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے اپنے اردنی ہم منصب کو فون کیا۔ ان کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے "دہشت گردی کے مقابلے میں اردن کے ساتھ عراق کی یکجہتی" کی تصدیق کی، اے پی کے مطابق۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے حملے کو "خاص طور پر وحشیانہ" قرار دتے ہوئے مذمت کی، ترجمان스테فان دوجاریک نے کہا۔ دوجاریک نے کہا کہ "سیکرٹری جنرل یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ذمہ دار تمام افراد کو تلاش کیا جائے اور جوابدہ ٹھہرایا جائے۔"

جس کی تصدیق نہیں ہوئی

حملہ آوروں کی تعداد واضح نہیں ہے۔ ویڈیو میں تین افراد دکھائی دیتے ہیں، جبکہ ایک عینی شاہد کے مطابق دوسروں نے چار افراد دیکھے۔ حکام نے نہیں بتایا کہ کسی کو گرفتار یا ہلاک کیا گیا ہے یا نہیں۔ حکومت کے انتہا پسندی کے حوالوں کے علاوہ حملہ آوروں کا محرک سرکاری طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ ذرائع نے ہلاک شدگان کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

پس منظر

بی بی سی فارسی کے مطابق کرک گورنریٹ میں مسلمان اکثریت ہے اور وہاں مسیحی برادری بھی خاصی بڑی ہے۔ اس ادارے کے مطابق اردن میں اس نوعیت کے حملے نادر ہیں، اگرچہ ملک میں پہلے بھی ہلاکت خیز حملے ہو چکے ہیں۔

اے پی کے مطابق 2016 میں مسلح افراد نے کرک میں پولیس پر کئی حملوں کے سلسلے میں گھات لگائی، جن میں سیاحوں میں مقبول ایک صلیبی قلعہ بھی شامل تھا۔ دس افراد ہلاک ہوئے، جن میں سات افسر شامل تھے، اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اردنی سکیورٹی فورسز نے طویل محاصرے کے بعد ان مسلح افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج