ترکیہ میں 4 نومبر سے پہلے ایران سے متعلق اجلاس کے لیے مشاورت جاری، العربیہ کے مطابق
العربیہ نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ 4 نومبر سے پہلے ایران سے متعلق اجلاس منعقد کرنے کے لیے مشاورت جاری ہے۔ شرکا یا مقام کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
مشرق وسطیٰ — العربیہ نے بدھ کے روز ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ 4 نومبر سے پہلے ترکیہ میں ایران سے متعلق اجلاس منعقد کرنے کے لیے مشاورت جاری ہے۔ پوسٹ میں مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
اس پوسٹ میں، جو صرف ایک سرخی پر مشتمل تھی، یہ نہیں بتایا گیا کہ اجلاس میں کون شرکت کرے گا، کس شہر میں اس کی میزبانی ہوگی یا اس میں کن امور پر بات ہوگی۔ اس نے معلومات کا کوئی ذریعہ بھی نہیں بتایا۔ یہ پوسٹ تصدیق شدہ نہیں ہے، اور جائزہ لیے گئے مواد میں اس منصوبے کی تصدیق کرنے والا کوئی حکومتی یا سرکاری بیان دستیاب نہیں تھا۔
کون سی باتیں غیر مصدقہ ہیں
ترکیہ کے کردار، کسی بھی اجلاس کی نوعیت اور شرکا کے بارے میں کسی سرکاری ذریعے نے کوئی بات نہیں کہی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا اس اجلاس کا تعلق قطر کی قیادت میں ہونے والی ثالثی کی کوششوں سے ہے، جن کا ذکر اس ہفتے دیگر ذرائع ابلاغ نے کیا ہے۔
ثالثی کی کوششیں
الگ سے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز کہا کہ تہران ثالثوں کے ساتھ اس بات پر تبادلہ خیال کر رہا ہے کہ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے سات روزہ منصوبے پر کیسے عمل درآمد کیا جائے، جیسا کہ عرب نیوز نے رپورٹ کیا ہے۔
عراقچی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا: "جب کہ ہماری بہادر مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، ایران سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع دینا جاری رکھے ہوئے ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایران "ثالثوں کے ساتھ قریبی اور مسلسل رابطے" میں ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے بدھ کے روز رپورٹ کیا کہ قطر کی قیادت میں علاقائی ثالث ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے "ایک سفارتی معاہدے" پر زور دے رہے ہیں۔ ایکسیوس کے مطابق، جس نے امریکی، اسرائیلی اور دیگر علاقائی ذرائع کا حوالہ دیا، مقصد 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہونے کو روکنا ہے۔ "4 نومبر سے پہلے" کی جو تاریخ اجلاس کے لیے تجویز کی گئی ہے، وہ اسی ووٹنگ کے ایک دن بعد آتی ہے۔
ایکسیوس نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ قطری ایران کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اس کی بمباری سے متاثرہ جوہری مقامات کے دورے کی اجازت دے، جس کے بدلے امریکہ کچھ پابندیوں میں نرمی کرے۔ عرب نیوز نے یہ موقف ایکسیوس سے منسوب کیا۔ اس نے اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
ایران نے کہا ہے کہ اتوار کو ایک قطری وفد مذاکرات کے لیے تہران آیا، جن میں مذاکرات کی صورتِ حال، ہرمز اور توانائی کی فراہمی سمیت دیگر پیش رفت پر بات ہوئی۔
پس منظر
عرب نیوز کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل نے فروری میں ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ اس کے بعد سے ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کر رہا ہے اور اپنی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں کو باقاعدگی سے نشانہ بناتا ہے۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
ستمبر میں ایران نے سات روزہ منصوبہ پیش کیا اور اسے قطر کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا۔ عراقچی نے اس وقت کہا تھا کہ اگر "ضروری شرائط" پوری ہوں، جن میں پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی شامل ہے، تو ہرمز سات دنوں کے اندر کھول دیا جائے گا۔ ایران نے بیرون ملک منجمد اپنے اثاثوں کی بحالی، اپنے تیل کے شعبے پر پابندیاں ہٹانے اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
عرب نیوز نے کہا کہ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملوں کی بڑھتی ہوئی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس نے سفارتی کوششوں کو تعطل کا شکار قرار دیا، خاص طور پر جون کے اُس معاہدے کے ٹوٹنے کے بعد سے، جس میں مستقل تصفیے کا راستہ بیان کیا گیا تھا۔
قطر کی وزارت خارجہ کی جاری کردہ ایک تصویر میں قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم الثانی کو 27 اگست کو تہران میں عراقچی سے ملاقات کرتے دکھایا گیا ہے۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Al Arabiya (Telegram)ar · 28 اکتوبر، 2026
- Arab Newsen · 28 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Englishen · 29 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟