اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں بے دخلی کا دائرہ وسیع کر رہا ہے، حبرون میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد 3,000 سے تجاوز
مقامی حکام کے مطابق جمعہ سے اب تک حبرون میں 3,000 سے زائد فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل کیے جا چکے ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجی کارروائی کا دائرہ وسیع کر رہی ہے۔

حبرون، مقبوضہ مغربی کنارہ — مقامی حکام نے پیر کے روز بتایا کہ جمعہ سے اب تک حبرون میں 3,000 سے زائد فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جا چکا ہے، جب کہ اسرائیلی فوج نے شہر اور اس کے گرد و نواح کے گورنریٹ میں فوجی کارروائی کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
حبرون کے گورنر خالد دudin نے بتایا کہ پورے گورنریٹ میں 488 خاندان، جن میں 3,171 افراد شامل ہیں، بے گھر ہوئے ہیں۔ میئر یوسف الجabri نے الجزیرہ کو بتایا کہ ان میں سے 3,043 افراد شہر کی حدود کے اندر سے تعلق رکھتے ہیں۔
موقع سے، سوشل میڈیا پر
حبرون کے میونسپل حکام کے مطابق بے گھر ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے پورے شہر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ فلسطینی قیدی سوسائٹی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار دنوں میں کم از کم 71 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
مسماری اور گھروں کا فوجی استعمال
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج مسماری کی کارروائیاں بھی کر رہی ہے، جن کے نتیجے میں رہائشی عمارتیں، فیکٹریاں اور سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں۔ اس کے مطابق فوجی سڑکیں بند کر رہے ہیں، گھروں پر چھاپے مار رہے ہیں اور فلسطینیوں پر حملے کر رہے ہیں۔ یہ بیانات الجزیرہ اور فلسطینی حکام کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔ دستیاب مواد میں اسرائیلی فوج کا اپنے اقدامات کے بارے میں مؤقف شامل نہیں تھا۔
الجزیرہ نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ فوجیوں نے بے دخل خاندانوں کے درجنوں گھروں کو فوجی بیرکوں اور عارضی تفتیشی مراکز میں تبدیل کر دیا ہے۔
حبرون میں قائم القدس اوپن یونیورسٹی کے عصری تاریخ کے پروفیسر نعمان عمرو نے الجزیرہ کو بتایا کہ بے دخلی کے اقدامات تین زمروں میں آتے ہیں: مسماری کے لیے، انتقام اور اجتماعی سزا کے لیے، اور فوجی استعمال کے لیے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات "عارضی بے دخلی یا جلاوطنی کے کسی بھی تصور سے آگے بڑھ چکے ہیں"۔
عمرو کے مطابق حتمی مقصد "ایک نئی حقیقت مسلط کرنا" ہے۔ — نعمان عمرو، پروفیسر عصری تاریخ، القدس اوپن یونیورسٹی
اسرائیلی حکام کے بیانات
یہ کارروائی جمعہ کو شروع ہوئی، جب الجزیرہ کے مطابق حبرون کے قریب فائرنگ کے ایک واقعے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔ وزیر اعظم بنjamin نیتن یاہو نے 1967 کی جنگ کے بعد سے "غیر معمولی" کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اس آپریشن کا جواز پیش کیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے حبرون پر "جنین کیمپ ماڈل" لاگو کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے مطابق اس ماڈل میں رہائشیوں کا جبری انخلا، گھروں کی تلاشی، ہتھیاروں کی ضبطی اور سڑکوں کو بلڈوزر سے ہموار کرنا شامل ہے۔
آباد کاروں کی سرگرمیاں
ٹیلیگرام پر ایک الگ پوسٹ میں، قدس نیوز نیٹ ورک نے کہا ہے کہ اسرائیلی آباد کاروں نے حبرون کے شمال مغرب میں واقع قصبے بیت کاحل میں فلسطینی زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ دعویٰ ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر مبنی ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
الجزیرہ کے مطابق مغربی کنارے میں زیتون کی فصل اتارنے والوں پر حملے بار بار ہوتے رہے ہیں۔ اس نے کشیدگی میں اضافے کو منگل کے روز ہونے والے اسرائیلی عام انتخابات سے جوڑا ہے، جن میں نیتن یاہو دوبارہ منتخب ہونے کے خواہاں ہیں۔
پس منظر
حقوق کی تنظیموں نے حبرون کی کارروائی کا موازنہ 2025 کے اوائل میں جنین، نور شمس اور طولکرم کے پناہ گزین کیمپوں میں ہونے والے "آئرن وال" آپریشن سے کیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق اس آپریشن میں کم از کم 102 افراد ہلاک، 33,000 سے زائد بے گھر اور کیمپوں کی نصف سے زیادہ رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں۔
الجزیرہ نے کہا کہ کاتز نے پہلے جنین میں استعمال ہونے والے طریقوں کو "غزہ میں بار بار چھاپوں کے طریقے کا پہلا سبق" قرار دیا تھا۔ اس نے رپورٹ کیا کہ غزہ کی جنگ، جو اب اپنے تیسرے سال میں ہے، میں 74,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جائزے میں شامل مواد میں اس عدد کا کوئی ماخذ یا تاریخ فراہم نہیں کی گئی۔
الجزیرہ کے حوالے سے انسانی حقوق کے ماہرین حبرون کی کارروائی کو فلسطینی آبادی کو مستقل طور پر بے دخل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے اسے دو فوجیوں کی ہلاکت کے ردعمل کے طور پر پیش کیا ہے۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 25 اکتوبر، 2026اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق حبرون کی کارروائی میں 2,000 فلسطینی بے گھر
- 27 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن: اسرائیل نے مغربی کنارے میں انسانیت کے خلاف جرائم کیے اور غزہ میں نسل کشی جاری ہے
- 27 اکتوبر، 2026اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں بے دخلی کا دائرہ وسیع کر رہا ہے، حبرون میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد 3,000 سے تجاوز
- 27 اکتوبر، 2026اسرائیلی حملے میں بے گھر افراد کے خیمے پر ایک شخص ہلاک، طبی ذرائع کا دعویٰ
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Quds News Network (Telegram)en · 26 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Englishen · 26 اکتوبر، 2026
- Arab Newsen · 27 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟