اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق حبرون کی کارروائی میں 2,000 فلسطینی بے گھر
اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر حبرون میں تقریباً 2,000 افراد کو ان کے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ مقامی رپورٹس میں ایک بند شہر، مکانات کے انہدام اور گھروں کو فوجی چوکیوں میں تبدیل کیے جانے کا ذکر ہے۔

حبرون — اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ہفتے کے روز کہا کہ جمعے کو شروع ہونے والی فوجی کارروائی کے دوران اسرائیلی فورسز نے جنوبی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر حبرون میں تقریباً 2,000 فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا ہے۔
کاٹز نے سرکاری نشریاتی ادارے KAN کو بتایا کہ انادولو ایجنسی کے مطابق بے دخل رہائشیوں کو اُس وقت تک واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک شہر میں نام نہاد "حماس کے ڈھانچے" کو ختم نہیں کر دیا جاتا۔ اسرائیلی فوج نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کارروائی کب ختم ہوگی۔
موقع سے، سوشل میڈیا پر
یہ کارروائی ہفتے کے روز دوسرے دن میں داخل ہو گئی۔ انادولو کے مطابق اسرائیلی فوج نے جمعے کی شب دیر گئے اعلان کیا تھا کہ اس نے ایک ایسی کارروائی شروع کی ہے جو کئی دن تک جاری رہنے کی توقع ہے، جس میں شن بیت سکیورٹی سروس اور بارڈر پولیس کے دستے شامل ہیں۔
چوکی پر حملہ اور ناکہ بندی
اسرائیلی فورسز نے جمعے کو حبرون اور قریبی قصبے حلحول کو بند کر دیا، جب دو فلسطینیوں نے ایک اسرائیلی چوکی پر حملہ کیا۔ اسرائیلی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ انہی اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فورسز نے دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔
جمعے کی دوپہر سے اسرائیلی فورسز نے شہر کے داخلی راستوں اور اسے پڑوسی قصبوں، دیہات اور کیمپوں سے ملانے والی بڑی سڑکوں کو بند رکھا ہوا ہے، جیسا کہ الجزائری ادارے الشروق نے بتایا۔ اس نے فوجی گاڑیوں کی بڑی تعداد اور چوکیوں کے قیام کی اطلاع دی۔ گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور رہائشی شہر میں معمول کے مطابق داخل یا باہر نہیں جا سکے۔
حبرون کے میئر یوسف الجabari نے کہا کہ شہر کو درجنوں فوجی اور بکتربند گاڑیوں نے مکمل طور پر گھیر رکھا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی فورسز آمد و رفت روک رہی ہیں اور درجنوں بلڈوزروں کے ذریعے مکانات اور دکانوں کو وسیع پیمانے پر مسمار کر رہی ہیں، جیسا کہ الشروق نے بتایا۔ دستیاب مواد میں اسرائیلی فوج نے ان دعووں پر تبصرہ نہیں کیا۔
بے دخلی اور انہدام
الشروق کے حوالے سے مقامی تخمینوں کے مطابق فرش الہوا اور ابو کتیلہ کے علاقوں سے تقریباً 250 فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے الجلدہ اور عین دیر بہا کے علاقوں میں بھی درجنوں رہائشیوں کو گھر چھوڑنے پر مجبور کیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دیگر سینکڑوں خاندانوں کو بھی بے دخلی کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔
الشروق کے مطابق کارروائی جاری ہونے کی وجہ سے واقعی گھر چھوڑنے والے خاندانوں کی حتمی تعداد واضح نہیں۔ کاٹز کا تقریباً 2,000 افراد کا اعداد و شمار اور خاندانوں کے بارے میں مقامی تخمینے مختلف ذرائع سے آئے ہیں اور ان میں ہم آہنگی نہیں کی گئی۔
الشروق کے حوالے سے مقامی بیانات کے مطابق خاندانوں کو سامان سمیٹنے کے لیے بہت کم وقت دیا گیا۔ بعض علاقوں میں ہر خاندان کو مبینہ طور پر کپڑوں کا صرف ایک تھیلا لے جانے کی اجازت دی گئی۔ رہائشیوں کو مبینہ طور پر اپنی گاڑیاں لے جانے یا دیگر املاک ہٹانے سے روکا گیا۔ رپورٹ کے مطابق خاندان فرنیچر، سامان اور ذریعۂ معاش پیچھے چھوڑ گئے۔
الجلدہ اور عین دیر بہا میں اسرائیلی فورسز ہفتے کی صبح سویرے فوجی گاڑیوں اور بلڈوزروں کے ساتھ رہائشی محلوں میں داخل ہوئیں، جیسا کہ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ خاندانوں کو کھلے میں انتظار کرایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق درجنوں افراد کو موقع پر روک کر پوچھ گچھ کی گئی اور ان میں سے کچھ کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔
الشروق نے بتایا کہ اس کارروائی میں رہائشی، تجارتی اور صنعتی عمارتوں کا انہدام بھی شامل تھا۔ فرش الہوا میں فورسز نے تین اپارٹمنٹس پر مشتمل ایک رہائشی عمارت مسمار کی اور علاقے کا مرکزی داخلی راستہ بند کر دیا۔ رہائشیوں کے مطابق بے دخلی کی زد میں گھر، دکانیں اور تجارتی و صنعتی املاک آئیں۔ مالکان انہدام یا قبضے کے خوف سے سامان نکالنے کے لیے جلدی کرتے رہے۔
الشروق نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے مختلف محلوں میں کئی مکانات پر قبضہ کر کے انہیں بیرکوں اور کمانڈ پوسٹوں میں تبدیل کر دیا اور ان کی چھتوں پر اسرائیلی پرچم لہرا دیے۔
جمعے کو فورسز نے چوکی پر حملے کے مقام کے قریب امریش خاندان کی تین منزلہ رہائشی عمارت مسمار کر دی، جیسا کہ الشروق نے بتایا۔ اس سے پہلے ہی رہائشیوں کو زبردستی نکال دیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس عمارت کے لیے کارروائی سے کئی ماہ پہلے انہدام کا نوٹس جاری ہوا تھا، جس کی وجہ اجازت نامے کے بغیر تعمیر بتائی گئی۔
خدمات پر اثرات
انادولو کے مطابق حبرون کے محکمۂ تعلیم نے اتوار اور پیر کو اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا۔ حبرون یونیورسٹی اور القدس اوپن یونیورسٹی نے اتوار کی کلاسیں آن لائن منتقل کر دیں۔
میونسپلٹی نے کہا کہ شہر کے داخلی راستوں کی بندش کی وجہ سے کچرا جمع ہو رہا ہے کیونکہ شہر سے باہر واقع ڈمپنگ سائٹس تک رسائی رک گئی ہے۔
الشروق کے مطابق رہائشی اپنی گاڑیاں چھوڑ کر پیدل آگے بڑھ رہے ہیں۔ تجارتی اور معاشی سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ لوگوں کو صحت کی سہولیات اور دیگر بنیادی خدمات تک پہنچنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ ادارے نے ایک 11 سالہ کینسر کی مریضہ بچی کا واقعہ بیان کیا جسے گاڑی نہ ملنے پر بند دروازے کے پار پیدل جانا پڑا تاکہ وہ دورا ہسپتال میں اپنی طبی اپائنٹمنٹ تک پہنچ سکے۔
میونسپلٹی نے کہا کہ اس نے بے گھر خاندانوں اور پھنسے ہوئے رہائشیوں کی مدد کے لیے ہنگامی منصوبہ فعال کر دیا ہے۔ الشروق کے مطابق اس نے ان لوگوں کے لیے پناہ گاہ تلاش کرنے کا کام شروع کر دیا ہے جنہوں نے اپنے گھر چھوڑے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کچھ فلسطینی خاندانوں نے دوسرے خاندانوں کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے ہیں۔
ادارے کی رپورٹ کے مطابق بے دخل ہونے والے خاندان اپنے گھروں اور املاک کے بارے میں فکرمند ہیں۔ اس نے بتایا کہ یہ واضح نہیں کہ کارروائی کب ختم ہوگی یا کیا رہائشی واپس جا سکیں گے۔
پس منظر
انادولو کے مطابق اکتوبر 2023 میں غزہ کی پٹی پر جنگ شروع ہونے کے بعد سے مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی حملوں اور آباد کاروں کے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس میں فلسطینیوں کو ہلاک اور حراست میں لینا، مکانات اور دیگر ڈھانچوں کو مسمار کرنا، مساجد اور گاڑیوں کو جلانا، زرعی زمین کو بلڈوزر سے تباہ کرنا، کسانوں کو ان کے کھیتوں تک جانے سے روکنا اور فلسطینی برادریوں کو بے دخل کرنا شامل ہیں۔ ادارے نے بستیوں کے پھیلاؤ کا ذکر بھی کیا ہے، جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔
حبرون جنوبی مغربی کنارے میں واقع ہے۔ حلحول اس کے قریب واقع ہے اور جمعے کو اسے بھی بند کیا گیا تھا۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 23 اکتوبر، 2026نیتن یاہو کا فائرنگ کے حملے کے بعد الخلیل بند کرنے اور مغربی کنارے میں مکمل لاک ڈاؤن کا حکم
- 23 اکتوبر، 2026گوتیرش کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال "مکمل طور پر قابو سے باہر" ہے
- 24 اکتوبر، 2026نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے کے ہیبرون اور حلحول کے گرد سکیورٹی گھیرا ڈال دیا ہے
- 25 اکتوبر، 2026اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق حبرون کی کارروائی میں 2,000 فلسطینی بے گھر
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Anadolu Agencyen · 25 اکتوبر، 2026
- echoroukonline.comar · 24 اکتوبر، 2026
- Quds News Network (Telegram)en · 25 اکتوبر، 2026
- Quds News Network (Telegram)en · 25 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟