Skip to content
Zenga News

اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن: اسرائیل نے مغربی کنارے میں انسانیت کے خلاف جرائم کیے اور غزہ میں نسل کشی جاری ہے

اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ظلم و ستم، تشدد اور عصمت دری جیسے انسانیت کے خلاف جرائم کیے ہیں اور جنگ بندی کے باوجود غزہ میں نسل کشی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل نے ان نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 5 منٹ مطالعہ

یروشلم — اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور امریکہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اب بھی نسل کشی کر رہا ہے۔ اسرائیل نے ان نتائج کو مسترد کر دیا ہے۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے مقبوضہ فلسطینی علاقے، بشمول مشرقی یروشلم، سے متعلق آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق، اس کا احاطہ 7 اکتوبر 2023 سے ستمبر 2026 تک کی مدت پر محیط ہے۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

کمیشن کے نتائج

مغربی کنارے کے بارے میں کمیشن نے کہا کہ اسرائیلی حکام اور افواج نے ظلم و ستم، تشدد، عصمت دری اور دیگر جنسی تشدد کے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔ رپورٹ میں امتیازی بنیادوں پر ظلم و ستم کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کی "بنیاد" قومیت، نسل اور نسلی شناخت ہے۔

کمیشن نے کہا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں، جنہیں آبادکاروں کے مسلسل تشدد نے مزید تقویت دی، شہریوں پر "وسیع اور منظم حملے" کے مترادف ہیں۔ اس نے کہا کہ حکام کا ارادہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے کی سزا کے طور پر علاقے کے باشندوں کو اجتماعی طور پر سزا دینا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے میں فضائی حملوں سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے مطابق 2008 سے 6 اکتوبر 2023 تک اس طرح چھ فلسطینی ہلاک ہوئے، جبکہ 7 اکتوبر 2023 سے 30 ستمبر 2026 کے درمیان 254 افراد ہلاک ہوئے۔

عرب نیوز کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کو بے دخل کرنے اور محکوم بنانے کے لیے تشدد، عصمت دری اور تولیدی تشدد کا استعمال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے میں بچوں کو جان بوجھ کر ہلاک اور معذور کیا، جسے کمیشن نے عمر کی بنیاد پر ظلم و ستم قرار دیا ہے۔

کمیشن نے کہا کہ جنوری 2025 سے جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 1967 کے بعد مغربی کنارے میں سب سے بڑی بے دخلی ہوئی۔ اس نے کہا کہ اگست تک 34,176 فلسطینی بے گھر رہے۔

کمیشن کے چیئرمین سرینواسن مرلی دھر نے کہا: "مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کو جان بوجھ کر ہلاک اور زخمی کرنا اور گھروں کی تباہی، اسرائیل کے مسلسل ذمہ داری سے انکار کے ساتھ مل کر، فلسطینیوں کو ختم کرنے اور بے دخل کرنے اور ایسے حالاتِ زندگی مسلط کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں جو ناقابلِ برداشت ہوں۔"

غزہ اور جنگ بندی

غزہ کے بارے میں کمیشن نے کہا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی افواج "نسل کشی کی کارروائیاں" کرتی آ رہی ہیں۔ اس نے جنگ بندی کو "نام نہاد" قرار دیا۔ کمیشن کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد فلسطینیوں کو "کلی یا جزوی طور پر" ختم کرنا تھا۔

مرلی دھر نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کے علاقائی کنٹرول کی توسیع فلسطینی شہریوں کو ہلاک اور زخمی کرتی جا رہی ہے، خاص طور پر ان کو جو نام نہاد "یلو لائن" کے قریب جاتے ہیں یا اسے عبور کرتے ہیں۔ یہ لائن اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں کو باقی علاقے سے الگ کرتی ہے۔ عرب نیوز کے مطابق یہ مشرقی غزہ کو، جو اسرائیلی فوجی کنٹرول میں ہے، مغرب سے الگ کرتی ہے، جہاں فلسطینی آبادی محدود ہے۔

الجزیرہ کے مطابق غزہ کے طبی حکام نے کہا کہ پیر کے روز علاقے بھر میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم پانچ فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں سے ایک سات سالہ بچی تھی۔ الجزیرہ نے غزہ کی وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا کہ جنگ میں کم از کم 74,500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ وزارت کے مطابق جنگ نے علاقے کی تقریباً تمام آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔

کمیشن نے 1947-48 کی جنگ کو تنازع کی بنیادی وجوہات سے جوڑا۔ اس نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس کے بعد سے اسرائیل نے اپنی سرزمین کی توسیع اور طاقت کے ذریعے فلسطینیوں کی بے دخلی کی کوشش کی ہے، عرب نیوز کے مطابق۔

مرلی دھر نے کہا کہ "زیادہ سے زیادہ زمین پر قبضہ اور فلسطینی آبادی کو کم سے کم کرنا" اسرائیل کی "نوآبادیاتی پالیسیوں" کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "فلسطینی ریاست کے قیام کو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرے کے مترادف قرار دینے" کی کوششیں فلسطینیوں کے خودارادیت کے حق کو عملی شکل دینے کی قابلِ عمل کوششوں کو روک رہی ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی پر تنقید

رپورٹ میں فلسطینی افواج کی جانب سے ہونے والی زیادتیوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں پایا گیا کہ فلسطینی اتھارٹی اختلافِ رائے رکھنے والے افراد کو نشانہ بناتی رہی ہے، الجزیرہ اور عرب نیوز کے مطابق۔ کمیشن نے کہا کہ صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو ہلاک اور زخمی کرنے سے سول سوسائٹی کی جگہ مسلسل محدود ہوتی گئی ہے۔

اسرائیل کا ردِعمل

جنیوا میں اسرائیلی مشن نے رپورٹ کو "اسرائیلی ریاست کو بدنام کرنے اور اس کے وجود کو جرم کے طور پر پیش کرنے کی غلط معلومات کی مہم" کا حصہ قرار دیا۔ ایک بیان میں اس نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ "ان مسخ شدہ باتوں کو مسترد کرے، کمیشن کے نتائج کی تردید کرے اور اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرے"۔

عرب نیوز کے حوالے سے ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نسل کشی کے الزام اور جنسی زیادتی کے دعووں، دونوں کی تردید کرتا ہے۔ اس نے کہا کہ اسرائیل نے رپورٹ کی اشاعت پر فوری ردِعمل نہیں دیا۔ اے پی نے یہ بھی کہا کہ وہ رپورٹ کے دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

عرب نیوز کے مطابق مرلی دھر اس ہفتے یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تھرڈ کمیٹی کے سامنے پیش کریں گے۔

گوتیرش کا بیان

ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کواڈس نیوز نیٹ ورک نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر "نسلی صفائی کا خطرہ" بڑھ رہا ہے۔ چینل کے مطابق انہوں نے پھیلتی ہوئی اسرائیلی بستیوں، فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی اور آبادکاروں کے حملوں میں اضافے کا حوالہ دیا۔ یہ پوسٹ غیر تصدیق شدہ ہے۔ ماخذ مواد میں یہ نہیں بتایا گیا کہ گوتیرش نے یہ بیانات کب یا کہاں دیے، اور زیرِ جائزہ کسی بھی خبری رپورٹ میں ان کا ذکر نہیں ملتا۔

پس منظر

کمیشن تین ارکان پر مشتمل ہے۔ اسے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے 2021 میں قائم کیا تھا۔ الجزیرہ کے مطابق یہ اقوام متحدہ کی مجموعی نمائندگی نہیں کرتا۔

کمیشن نے ستمبر 2025 میں پہلی بار یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے دوران غزہ میں نسل کشی کی تھی۔ اسرائیل نے اس نتیجے کو مسترد کر دیا تھا۔

جنوبی افریقہ کی سابق ہائی کورٹ جج نوی پلے گزشتہ نومبر تک کمیشن کی سربراہ رہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس ماہ نوبل امن انعام جیتا۔ اسرائیل 1967 سے مغربی کنارے پر قابض ہے۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 25 اکتوبر، 2026اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق حبرون کی کارروائی میں 2,000 فلسطینی بے گھر
  2. 27 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن: اسرائیل نے مغربی کنارے میں انسانیت کے خلاف جرائم کیے اور غزہ میں نسل کشی جاری ہے
  3. 27 اکتوبر، 2026اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں بے دخلی کا دائرہ وسیع کر رہا ہے، حبرون میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد 3,000 سے تجاوز
  4. 27 اکتوبر، 2026اسرائیلی حملے میں بے گھر افراد کے خیمے پر ایک شخص ہلاک، طبی ذرائع کا دعویٰ

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج