Skip to content
Zenga News

یمن کے حوثیوں کا سعودی عرب کی راس تنورہ ریفائنری پر میزائل حملے کا دعویٰ

یمن کے حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کی راس تنورہ ریفائنری کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔ سعودی قیادت میں اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے میزائل مار گرائے، جبکہ سعودی حکام نے اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 4 منٹ مطالعہ

ریاض — یمن کے حوثی گروپ نے منگل کو کہا کہ اس نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں واقع راس تنورہ آئل ریفائنری کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ انадولو ایجنسی کے مطابق سعودی حکام نے اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر ایک پیغام میں اس حملے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گروپ کی افواج نے ریفائنری پر بیلسٹک میزائل داغا اور اس حملے سے "بڑے پیمانے پر آگ" بھڑک اٹھی، جیسا کہ دی نیو عرب نے رپورٹ کیا۔ انадولو کے مطابق سریع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ میزائل اپنے ہدف سے ٹکرایا۔

اس دعوے की آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ دونوں ذرائع میں سائٹ پر نقصان سے متعلق کسی سعودی بیان کا ذکر نہیں ہے۔

اتحاد کا دعویٰ ہے کہ اس نے میزائل مار گرائے

حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت کے اتحاد نے منگل کو پہلے کہا تھا کہ اس نے مشرقی صوبے کی جانب گروپ کے داغے گئے تین میزائل مار گرائے۔ دی نیو عرب کے مطابق اتحاد نے یہ بھی کہا کہ اس نے ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل روک لیے۔

انадولو نے زیادہ وسیع اعداد و شمار دیے۔ اس کے مطابق اتحاد نے کہا کہ اس نے منگل کو حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی طرف داغے گئے چار ڈرون اور تین بیلسٹک میزائل روکے۔ دونوں رپورٹوں میں یہ واضح نہیں کہ یہ اعداد ایک ہی حملوں کے سلسلے سے متعلق ہیں یا نہیں، اور ذرائع ان کے درمیان مطابقت نہیں کرتے۔

سمندری سلامتی کی ایجنسی وینگارڈ نے کہا کہ منگل کی صبح سویرے حملے کے بعد راس تنورہ کے علاقے میں آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ "آگ پر قابو پا لیے جانے کی اطلاع ہے، جبکہ نقصان کی حد اور تیل لادنے کے کاموں پر کسی اثر کے بارے میں فی الحال واضح نہیں،" وینگارڈ نے کہا، جیسا کہ دی نیو عرب نے نقل کیا۔

راس تنورہ کے کمپلیکس کے جنوب میں واقع شہر الخبر کے ایک رہائشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے فجر کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنیں اور اس کے موبائل فون پر الرٹ موصول ہوا۔ "ہمیں موبائل پر الرٹ ملا اور پھر ایک بہت زوردار دھماکہ سنائی دیا،" رہائشی نے کہا۔

ریاض میں دھماکے

دی نیو عرب کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض بھر میں دھماکوں کی ایک سیریز سنی گئی، جس سے شہر کے مرکز میں دفاتر کی کھڑکیاں لرز اٹھیں۔ ایک ٹیکسٹ میسج الرٹ میں رہائشیوں کو پناہ لینے کی ہدایت دی گئی۔

اس کے علاوہ انادولو کی رپورٹ کے مطابق سعودی سول ڈیفنس نے نجران، abha اور خمیس مشیط میں ممکنہ خطرے پر ابتدائی انتباہی الرٹ جاری کیے۔ بعد ازاں اس نے اعلان کیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ اس نے یہ نہیں بتایا کہ خطرہ کیا تھا۔

مصری پارلیمان اور حوثیوں کا ردعمل

یہ حملے اس فیصلے کے ایک دن بعد ہوئے جب مصری پارلیمان نے سعودی عرب کو دفاعی فوجی مدد فراہم کرنے کی منظوری دی۔ دی نیو عرب کے مطابق یہ ووٹ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی درخواست پر ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ یہ مدد کس شکل میں ہوگی۔

ایک حوثی عہدیدار نے اس فیصلے کو اعلانِ جنگ قرار دیا۔ حوثیوں کے سیاسی بیورو کے رکن محمد علی الحوثی نے ٹیلیگرام پر ایک پیغام میں کہا: "یہ واقعی حیران کن ہے کہ جب یہ لوگ اس بات پر بات چیت کرنے جاتے ہیں جسے وہ 'خطے میں امن' کہتے ہیں، تو مصر اور اس کی پارلیمان نام نہاد 'مملکتِ سعودی عرب کے دفاع' کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں، اور ایسا کرتے ہوئے یمن کی جمہوریہ کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں۔"

دی نیو عرب نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ حوثیوں نے کہا کہ وہ "کسی بھی ایسے اتحاد سے نہیں ڈرتے جو تشکیل دیا جائے۔"

کیا غیر مصدقہ ہے

دستیاب رپورٹوں سے کئی نکات واضح نہیں ہوتے۔ سعودی حکام نے تصدیق نہیں کی کہ ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا۔ کسی بھی نقصان کی حد معلوم نہیں۔ وینگارڈ کے مطابق تیل لادنے کے کاموں پر کسی بھی اثر کی نوعیت واضح نہیں۔ ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ کوئی جانی نقصان ہوا یا نہیں۔

دی نیو عرب نے وینگارڈ کے حوالے سے بتایا کہ راس تنورہ میں آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ اس بیان کی سعودی حکام نے تصدیق نہیں کی۔ سریع کا بڑی آگ کا بیان صرف حوثی بیان پر مبنی ہے۔

پس منظر

راس تنورہ کی سہولت سعودی عرب کے خلیجی ساحل پر واقع ہے۔ دی نیو عرب اسے مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی ریفائنریوں میں سے ایک اور ملک کے توانائی کے شعبے کا اہم ستون قرار دیتا ہے۔ اس کمپلیکس کی پیداواری صلاحیت 5 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ ہے۔

دی نیو عرب کے مطابق اس پر ایران سے منسوب حملوں میں بارہا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے مطابق مارچ کے اوائل میں ایک ڈرون حملے کے باعث ریفائنری کا جزوی طور پر بند ہونا پڑا۔

دی نیو عرب کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب، جو مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی معیشت اور دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کنندہ ہے، ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کے حملوں کا کئی ہفتوں سے سامنا کر رہا ہے۔ ان اہداف میں آئل تنصیبات اور شہری مقامات شامل ہیں، جن میں ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی شامل ہے۔

انادولو کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے جولائی سے مملکت پر حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے مطابق اکتوبر کے دوران شہری ہوائی اڈوں، آئل تنصیبات اور فوجی مقامات پر میزائل اور ڈرون حملوں میں مزید اضافہ ہوا۔

انادولو کے مطابق سعودی عرب مارچ 2015 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں حوثیوں کے خلاف فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔ حوثی، جن پر ایرانی حمایت حاصل کرنے کا الزام ہے، ستمبر 2014 سے دارالحکومت صنعاء اور یمن کے دیگر حصوں پر قابض ہیں۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 27 اکتوبر، 2026شام نے یمن میں فوج بھیجنے کی تردید کر دی، تجزیہ کار سعودی عرب کی دیگر مدد پر غور کر رہے ہیں
  2. 27 اکتوبر، 2026سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے یمن میں حوثیوں کی میزائل سرنگوں اور لانچ پلیٹ فارمز کو تباہ کر دیا
  3. 28 اکتوبر، 2026یمن کے حوثیوں کا سعودی عرب کی راس تنورہ ریفائنری پر میزائل حملے کا دعویٰ
  4. 28 اکتوبر، 2026اتحادی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے طائف کی جانب داغا گیا حوثی میزائل روک لیا

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج