Skip to content
Zenga News

پاکستان اور افغان طالبان کا انگور اڈہ جھڑپ پر एک دوسرے پر الزام تراشی

پاکستانی اور افغان حکام نے منگل کو انگور اڈہ کراسنگ پر ہونے والی فائرنگ کے بارے میں متضاد بیانات دیے۔ ہر فریق کا کہنا ہے کہ آغاز دوسرے نے کیا۔ دونوں میں سے کسی بیان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

Onur Irmako
Zenga News ایشیا ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ

انگور اڈہ — پاکستانی اور افغان طالبان افواج منگل کو انگور اڈہ کی سرحدی کراسنگ پر آپس میں الجھ پڑیں۔ دونوں طرف کے حکام نے لڑائی کے آغاز کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا، اور ہلاکتوں کے بارے میں ان کے بیانات مختلف ہیں، جیسا کہ بی بی سی اردو اور انتارا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔

پاکستانی مؤقف

موقع سے، سوشل میڈیا پر

لوئر waziristan کے ڈپٹی کمشنر مسرت زمان نے کہا کہ افغان فورسز نے منگل کی شام بلاوجہ فائرنگ کی۔ ان کے مطابق اس کے جواب میں پاکستانی فورسز نے افغانستان کے اندر چوکیوں اور بنکروں کو نشانہ بنایا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ افغان اہلکار اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔

پاکستانی حکام کے مطابق طالبان کی فائرنگ سے ایک شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے، جیسا کہ بی بی سی اردو نے بتایا۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے ایکس پر افغان مؤقف کو من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا۔ اس میں کہا گیا کہ طالبان فورسز نے پاکستانی سرحد کی جانب غیر مسلح شہریوں پر فائرنگ اور گولہ باری کی۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستانی فورسز نے فائرنگ روک دی اور طالبان کی سات چوکیاں تباہ کر دیں، جس سے انہیں بھاری نقصان ہوا۔ پوسٹ میں ان نقصانات کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔

افغان مؤقف

افغانستان کی وزارت دفاع نے کہا کہ پاکستان نے منگل کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے (08:30 GMT) کے قریب چار ڈرون حملے کیے۔ انتارا کے حوالے سے اریانا نیوز کے مطابق ان حملوں میں صوبہ پکتیکا کے ضلع انگور عدہ میں ایک بازار اور قریبی سکیورٹی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔

وزارت کے مطابق افغان دفاعی اور سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں قریبی پاکستانی اڈوں اور چوکیوں پر حملہ کیا۔ اس نے کہا کہ متعدد پاکستانی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے اور تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ وزارت کے مطابق افغان اہلکاروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ بی بی سی اردو کے مطابق وزارت نے ایک کمشنر کے دفتر کو بھی نشانہ بنائے جانے والی جگہوں میں شامل بتایا۔

وزارت نے کہا کہ حملوں کا آغاز پاکستانی فوج نے کیا اور افغان فورسز نے اپنے دفاع اور علاقے کے تحفظ کے لیے جوابی کارروائی کی۔

انتارا نے افغانستان ٹائمز کے ٹیلیگرام پر شائع ہونے والے ایک پیغام کا بھی حوالہ دیا، جس کے مطابق سات پاکستانی فوجی ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے۔ مواد میں کسی دوسرے ذریعے نے اس تعداد کی تصدیق نہیں کی۔

مقامی عینی شاہد

انگور اڈہ کے رہائشی مولانا تسبیح اللہ، جو کشیدگی کم کرنے کے لیے منعقدہ جرگے میں شریک تھے، نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اجلاس کے دوران ایک ہی گولی چلنے کی آواز سنائی دی۔ اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ ان کے مطابق کچھ گھنٹوں بعد ہر قسم کے ہتھیاروں سے فائرنگ دوبارہ شروع ہو گئی، جس میں گولہ باری بھی شامل تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ انگور اڈہ کے بازار اور قریبی گھروں پر گولے گرے۔ بازار کے ساتھ واقع لکڑی کی مارکیٹ پر گولہ گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔ دکانیں اور گھر متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق منگل کو تقریباً رات آٹھ بجے فائرنگ رک گئی۔

مقامی لوگوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سرحد کے بہت قریب رہنے والے کچھ خاندان عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔

جو بات غیر مصدقہ ہے

بی بی سی اردو کا کہنا ہے کہ وہ دونوں فریقوں کے دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ پہلے فائرنگ کس نے کی، پاکستانی فوج کی ہلاکتوں کی تعداد اور دونوں طرف کی چوکیوں کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق متضاد بیانات غیر مصدقہ ہیں۔

پس منظر

انگور اڈہ لوئر جنوبی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر ایک اہم کراسنگ ہے۔ اس کے دوسری طرف افغانستان کا صوبہ پکتیکا واقع ہے۔

بی بی سی اردو کی متعلقہ کوریج سے امسال پہلے بھی کشیدگی کا پتا چلتا ہے۔ ایک رپورٹ میں پاکستان نے سرحدی علاقوں میں 28 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ افغان طالبان نے اس پر شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج