Skip to content
Zenga News

امریکہ نے سعودی عرب میں غیر ہنگامی سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو واپس جانے کا حکم دے دیا

ریاض میں امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے ہوائی اڈوں پر حملوں کے پیش نظر غیر ہنگامی سرکاری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو 23 اکتوبر سے سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 5 منٹ مطالعہ
File photo: Melania Trump and Donald Trump at King Khalid International Airport in Riyadh, Saudi Arabia. They are just getting out of the plane.
File photo: Melania Trump and Donald Trump at King Khalid International Airport in Riyadh, Saudi Arabia. They are just getting out of the plane. تصویر: Shealeah Craighead / Wikimedia Commons · Public domain

ریاض — امریکی سفارت خانے نے بدھ کے روز کہا کہ حوثیوں کی جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے غیر ہنگامی امریکی سرکاری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو 23 اکتوبر سے سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا۔

اس رپورٹ میں شامل تمام تفصیلات مڈل ایسٹ آئی کے سفارت خانے کے سیکیورٹی الرٹ کے بیان پر مبنی ہیں۔ زنگا نیوز نے ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

سفارت خانے کا مؤقف

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق، سفارت خانے نے سیکیورٹی الرٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان کی صورت میں جاری کیا۔ الرٹ کی تاریخ 28 اکتوبر 2026 ہے اور اس کا عنوان "U.S. Mission Saudi Arabia" ہے۔

الرٹ کے مطابق محکمہ خارجہ نے غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو 23 اکتوبر سے مؤثر ہونے کے ساتھ ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی وجہ حفاظتی خطرات بتائے گئے ہیں۔

سفارت خانے نے کہا، "ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک نے سعودی عرب کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کی ہیں، جن میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے شامل ہیں، جن کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں اور سفر میں شدید خلل پڑا ہے۔"

سفارت خانے نے مزید کہا کہ "یہ جارحانہ کارروائیاں اس فوری علاقے سے آگے تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں"، جیسا کہ اسی رپورٹ میں درج ہے۔ مڈل ایسٹ آئی نے اس صورتحال کو یمن کے حوثیوں سے متعلق جاری کشیدگی میں اضافہ قرار دیا۔

ہوائی اڈوں پر پابندیاں

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق الرٹ میں سعودی عرب میں کام کرنے والے امریکی سرکاری ملازمین کے لیے ایک نیا قاعدہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق اب انہیں ملک کے کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال کے لیے چیف آف مشن سے خصوصی اجازت درکار ہوگی۔ سفارت خانے نے اس قاعدے کو مملکت کے ہوائی اڈوں پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں سے جوڑا ہے۔

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق سفارت خانے نے سعودی عرب آنے یا وہاں سے جانے والے امریکی شہریوں پر "انتہائی احتیاط" برتنے پر زور دیا ہے۔ الرٹ امریکی شہریوں کو ہوائی اڈوں پر ممکنہ حملوں، فضائی راستوں کی بندش، پروازوں کی منسوخی اور سفری خلل کے امکان سے آگاہ رہنے کو کہتا ہے۔ اس میں تجویز دی گئی ہے کہ مسافر اپنی پرواز کی روانگی کی صورتحال براہ راست ایئرلائن اور ہوائی اڈے سے چیک کریں۔

مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق الرٹ میں تین بڑے ہوائی اڈوں کی صورتحال بھی بیان کی گئی ہے:

  • ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے 23 اکتوبر سے جزوی طور پر دوبارہ کھولے جانے کا اعلان کیا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق وہاں ملکی پروازیں اور قومی ایئرلائنز کی چند بین الاقوامی پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔
  • ریاض ایئرپورٹ سے عام طور پر چلنے والی چند پروازیں قصیم میں پرنس نایف بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے چلائی جا رہی ہیں۔
  • الرٹ کے مطابق جدہ کا کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دمام کا کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ دونوں فعال ہیں، تاہم کچھ تاخیر اور منسوخیاں ہو رہی ہیں۔

کیا واضح نہیں کیا گیا

مڈل ایسٹ آئی کی فراہم کردہ معلومات میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے سفارت خانے کے ملازمین یا اہلِ خانہ متاثر ہوں گے۔ نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ کیا کوئی عملہ پہلے ہی ملک چھوڑ چکا ہے، یا یہ حکم سعودی عرب میں امریکہ کے دیگر سفارتی مراکز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سفارت خانے کے بیان میں "شہری ہلاکتوں" کا ذکر ہے، مگر ان کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔ بیان میں ہوائی اڈوں پر حملوں کے وقت کا تعین نہیں کیا گیا، صرف انہیں حالیہ قرار دیا گیا ہے۔ ہوائی اڈوں کے علاوہ کن مخصوص بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہ بھی بیان نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں سعودی حکام یا حوثیوں کا کوئی ردِعمل شامل نہیں۔ نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ روانگی کا یہ حکم کتنی مدت تک نافذ رہنے کی توقع ہے۔

سفارت خانے کی جانب سے حوثیوں کو "ایران کی حمایت یافتہ" قرار دینا اس کے اپنے بیان کا حصہ ہے۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں اس توصیف کے حق میں مزید شواہد پیش نہیں کیے گئے، اور اس میں ایران کا ردِعمل بھی شامل نہیں۔

پس منظر

مڈل ایسٹ آئی نے روانگی کے اس حکم کو یمن میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں پیش کیا ہے۔ الرٹ کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کی ہیں، جن میں شہری ہوائی اڈوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے شامل ہیں۔

الرٹ میں میزائل اور ڈرون حملوں کا ذکر ہے، جنہیں اس نے "UAV" حملے کہا ہے، اور جو مملکت کے ہوائی اڈوں پر کیے گئے۔ الرٹ کے مطابق ان حملوں سے سفر میں شدید خلل پڑا ہے۔ 23 اکتوبر کو ریاض ایئرپورٹ کا جزوی طور پر دوبارہ کھلنا، جو اسی تاریخ کو ہے جب روانگی کا حکم نافذ ہوا، اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ اس تاریخ سے پہلے دارالحکومت کے اس بڑے ہوائی اڈے پر پروازیں معطل تھیں۔ یہ نتیجہ الرٹ کے الفاظ سے اخذ کیا گیا ہے اور رپورٹ میں یہ بات بیان نہیں کی گئی۔

الرٹ کے مطابق سعودی عرب میں کام کرنے والے امریکی سرکاری ملازمین کو ملک کے کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال کے لیے خصوصی اجازت درکار ہے۔ یہ قاعدہ صرف الرٹ میں ذکر کیے گئے ہوائی اڈوں پر نہیں، بلکہ ہر ہوائی اڈے پر لاگو ہوتا ہے۔

غیر ہنگامی عملے کے لیے "ordered departure" کا اقدام محکمہ خارجہ اس وقت اٹھا سکتا ہے جب اسے کسی پوسٹ پر خطرات بڑھنے کا یقین ہو۔ اس معاملے میں سفارت خانے کی اپنی بیان کردہ وجہ یہ ہے کہ جارحانہ کارروائیاں اس علاقے سے آگے پھیل سکتی ہیں جہاں یہ حملے اب تک ہوئے ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں درج متن کے مطابق سفارت خانے نے یہ واضح نہیں کیا کہ "اس فوری علاقے" سے اس کی مراد کون سا علاقہ ہے۔

مڈل ایسٹ آئی نے یہ رپورٹ بدھ، 28 اکتوبر 2026 کو اپنے لائیو بلاگ پر شائع کی۔ سفارت خانے کا الرٹ اسی دن جاری ہوا، جو روانگی کے حکم کے نافذ ہونے کے پانچ دن بعد ہے۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج