عراقچی: ایران سفارت کاری کو موقع دے رہا ہے، مسلح افواج الرٹ پر
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ اپنے سات روزہ منصوبے پر ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہے، اور اس کی مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
استنبول — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ اپنے سات روزہ منصوبے کے سلسلے میں ثالثوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سفارت کاری کو موقع دے رہا ہے، جبکہ اس کی مسلح افواج تیار ہیں۔
عراقچی نے یہ بات ایکس پر ایک پوسٹ میں کہی، جیسا کہ انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا، جس نے یہ بیان 28 اکتوبر 2026 کو شائع کیا۔ العربیہ کے ٹیلیگرام چینل پر ایک پوسٹ میں، جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، ایک سرخی تھی کہ عراقچی نے سات روزہ منصوبے کی تجدید کی ہے اور ایران سفارت کاری کو موقع دے رہا ہے۔
موقع سے، سوشل میڈیا پر
عراقچی نے کیا کہا
انادولو کے حوالے سے عراقچی نے لکھا: "جبکہ ہماری بہادر مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، ایران سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع دینا جاری رکھے ہوئے ہے۔"
انہوں نے مزید کہا: "ہم ثالثوں کے ساتھ قریبی اور مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ایسے خیالات پر غور کیا جا سکے جو ہمارے 7 روزہ منصوبے پر ایک hafte سے بھی کم وقت میں عمل درآمد یقینی بنا سکیں۔"
پوسٹ میں ثالثوں کے نام نہیں لیے گئے۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کن خیالات پر غور ہو رہا ہے، یا آیا امریکہ نے کسی نئی تجویز پر ردِعمل دیا ہے۔ انادولو کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ کی فوجی کشیدگی کے بعد نازک جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
سات روزہ منصوبہ
انادولو کے مطابق ایران نے ستمبر میں قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو یہ منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس میں تجویز دی گئی ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات ایک ہفتے کے اندر دوبارہ شروع ہوں، بشرطیکہ واشنگٹن تہران کی شرائط پوری کرے۔
انادولو نے اس ترتیب کو یوں بیان کیا: پہلے پانچ دنوں میں امریکہ طے شدہ اقدامات کرے گا۔ ان میں جنگ کا خاتمہ، ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل کی برآمد پر پابندیوں میں نرمی اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی شامل ہیں۔
چھٹے دن ایران آبنائے کو عام تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولے گا۔ ساتویں دن تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک جامع معاہدے کی سمت مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔
عراقچی کا منصوبے پر "ایک ہفتے سے بھی کم" میں عمل درآمد کا حوالہ بتاتا ہے کہ تہران بیان کردہ شیڈول سے مختصر مدت کے لیے تیار ہے۔ ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ کیا کوئی مختصر شیڈول امریکہ یا ثالثوں کے سامنے رکھا گیا ہے۔
پہلے کے رابطے
انادولو نے رپورٹ کیا کہ 8 اکتوبر کو عراقچی نے کہا تھا کہ تہران امریکہ کے ردِعمل کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے اس وقت کہا تھا کہ پیغامات اب بھی ثالثوں کے ذریعے بھیجے جا رہے ہیں۔ ذرائع امریکی ردِعمل کا مواد نہیں بتاتے۔
رپورٹس میں عراقچی کی تازہ پوست پر امریکی حکومت کا تبصرہ شامل نہیں۔ نہ ہی ان میں رابطوں کی موجودہ صورت حال پر قطر، عمان یا پاکستان کے بیانات شامل ہیں۔
کیا غیر مصدقہ ہے
دستیاب مواد میں عراقچی کے اپنے بیان کے علاوہ مذاکرات کی صورت حال کی کوئی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔ یہ اشارہ نہیں دیتا کہ امریکہ نے منصوبے کے کسی جز کو قبول، مسترد یا ترمیم کیا ہے یا نہیں۔ اس میں عراقچی کے بتائے گئے "خیالات" کی تفصیلات بھی نہیں دی گئیں۔
العربیہ کی ٹیلیگرام پوسٹ ایک سوشل میڈیا آئٹم ہے اور یہاں اسے صرف اس چینل کے کہے گئے کی رپورٹ کے طور پر لیا گیا ہے۔ اس میں سرخی اور ایک مختصر خلاصے کے سوا کوئی تفصیل نہیں، جو انادولو کے بیان سے مطابقت رکھتا ہے۔
پس منظر
انادولو نے رپورٹ کیا کہ 18 جون کو پاکستان اور عمان کی ثالثی سے ہونے والے مذاکرات کے بعد ایران اور امریکہ نے اسلام آباد یادداشت پر دستخط کیے۔ ایجنسی کے مطابق معاہدے میں کئی متنازع امور طے کیے گئے، جن میں آبنائے ہرمز میں سمندری سلامتی، پابندیوں میں نرمی اور امریکی بحری پابندیوں کا خاتمہ شامل تھے۔
انادولو نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کئی ماہ کی فوجی کشیدگی کے بعد ہوئی۔ ایجنسی نے اس جنگ بندی کو نازک قرار دیا۔ ایجنسی کے مطابق عمان، پاکستان اور قطر تہران اور واشنگٹن کے اختلافات حل کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سات روزہ منصوبے کے اقدامات اسلام آباد یادداشت میں شامل موضوعات سے ملتے ہیں، جن میں بحری پابندیاں اور آبنائے کی حیثیت شامل ہیں۔ انادولو نے یہ نہیں بتایا کہ یہ منصوبہ یادداشت پر عمل درآمد سے کیسے جڑا ہے، یا کیا امریکہ یادداشت کی شرائط کو پورا سمجھتا ہے۔
انادولو کی تفصیل کے مطابق آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی منصوبے اور پچھلے معاہدے دونوں میں شامل ہیں۔ منصوبے میں ایران آبنائے کو دوبارہ کھولنے کو امریکہ کے پہلے کے اقدامات سے مشروط کرتا ہے، جن میں ناکہ بندی ختم کرنا، تیل کی برآمد پر پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی شامل ہیں۔
عراقچی کے بیان میں سفارت کاری کی پیشکش کے ساتھ فوجی تیاری کا حوالہ بھی ہے۔ انادولو نے اس پوسٹ کو ایران کے اس اعلان کے طور پر پیش کیا کہ وہ سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ اس کی مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ ذرائع میں کسی فوجی نقل و حرکت یا مخصوص سیکیورٹی واقعے کا ذکر نہیں۔
یہ معلوم کرنے کے لیے کہ تجاویز کا تبادلہ منصوبے پر عمل درآمد کی طرف بڑھ رہا ہے یا نہیں، تہران، واشنگٹن یا ثالث حکومتوں کے مزید بیانات درکار ہوں گے۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Anadolu Agencyen · 28 اکتوبر، 2026
- Al Arabiya (Telegram)ar · 28 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 28 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟