عراقچی: ایران ثالثوں کے ذریعے سات روزہ منصوبے پر بات چیت کر رہا ہے
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ تہران جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے اپنے سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ثالثوں کے ساتھ تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ قطر معاہدے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

تہران — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کے روز کہا کہ تہران علاقائی جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے اپنے سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد کے طریقوں کے بارے میں ثالثوں کے ساتھ قریبی اور مسلسل رابطے میں ہے۔
عراقچی نے یہ بیان ایکس پر ایک پوسٹ میں دیا، جیسا کہ عرب نیوز نے رپورٹ کیا۔ انہوں نے لکھا: "جبکہ ہماری بہادر مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، ایران سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا موقع دیتا رہتا ہے۔"
موقع سے، سوشل میڈیا پر
انہوں نے مزید کہا: "ہم اپنے 7 روزہ منصوبے پر ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تجاویز کا جائزہ لینے کے سلسلے میں ثالثوں کے ساتھ قریبی اور جاری رابطے میں ہیں۔"
الجزیرہ عربی نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں، جسے بریکنگ نیوز کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا، یہی بیان عربی میں شائع کیا۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ عراقچی نے ثالثوں کے ساتھ جاری رابطوں کا ذکر کیا جن میں ایسی تجاویز پر بات ہو رہی ہے جو منصوبے پر ایک ہفتے سے کم وقت میں عمل یقینی بنائیں۔ ٹیلی گرام پوسٹ ایک سوشل میڈیا آئٹم ہے اور اس نے سرخی کے علاوہ کوئی مزید تفصیل نہیں دی۔
منصوبے میں کیا شامل ہے
ایران نے ستمبر میں سات روزہ منصوبہ پیش کیا اور قطر کے ذریعے اسے امریکہ تک پہنچایا، جیسا کہ عرب نیوز کے مطابق ہے۔ عراقچی نے اُس وقت کہا تھا کہ اگر "ضروری شرائط" پوری ہوں تو آبنائے ہرمز سات دنوں کے اندر کھول دی جائے گی۔ ان شرائط میں سے ایک، ان کے مطابق، پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی ہے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ اس کے بیرون ملک اثاثوں کو غیر منجمد کیا جائے، اس کے تیل کے شعبے پر پابندیاں ختم کی جائیں اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم ہو۔
تازہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کن تجاویز پر بات ہو رہی ہے۔ اس میں یہ بھی واضح نہیں کہ امریکہ نے منصوبے یا اس کے کسی نئے پہلو پر کوئی ردعمل دیا ہے یا نہیں۔
قطر کا کردار اور امریکی رپورٹنگ
عرب نیوز کے ایک خلاصے میں کہا گیا کہ قطری ثالثوں نے ایران اور امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تنازع ختم کرنے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے۔ خلاصے کے مطابق ایران اس پیشکش پر غور کر رہا تھا اور جلد جواب دینے کی توقع تھی۔ فراہم کردہ متن میں اس تجویز کی تفصیلات نہیں دی گئیں، اور نہ ہی ایرانی حکام کا اس کی تصدیق کرنے کا حوالہ دیا گیا۔
الگ سے، امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے بدھ کے روز رپورٹ کیا کہ قطر کی قیادت میں علاقائی ثالث "سفارتی معاہدے" پر زور دے رہے ہیں۔ ایکسیوس کے مطابق مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنا اور تین نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ کی واپسی کو روکنا ہے۔
ایکسیوس نے امریکی، اسرائیلی اور دیگر علاقائی ذرائع کا حوالہ دیا۔ اس کے مطابق قطری "ایران کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی بمباری سے متاثرہ جوہری مقامات کے دورے کی اجازت دے، بدلے میں امریکہ کی جانب سے کچھ پابندیوں میں نرمی ملے۔" عرب نیوز نے یہ موقف دہرایا ہے۔ دستیاب مواد میں نہ ایران اور نہ ہی امریکہ کا کوئی بیان اس کی تصدیق کرتا ہوا نقل کیا گیا ہے۔
ایران کے بیان کے مطابق، ایک قطری وفد اتوار کے روز مذاکرات کے لیے تہران آیا۔ عرب نیوز کے حوالے سے ایرانی بیان کے مطابق بات چیت میں مذاکرات کی تازہ صورتحال، ہرمز اور توانائی کی فراہمی سمیت دیگر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
حملوں کی نئی دھمکیاں
عرب نیوز کے مطابق عراقچی کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب ایران پر دوبارہ حملوں کی امریکی اور اسرائیلی دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جنگ فروری میں شروع ہوئی تھی، جب امریکہ اور اسرائیل نے اس کا آغاز کیا۔ رپورٹ میں حالیہ دھمکیوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
عراقچی نے اسی پوسٹ میں سفارت کاری پر اپنے تبصرے کے ساتھ مسلح افواج کے "وطن کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار" ہونے کا ذکر بھی کیا۔
پس منظر
جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے، عرب نیوز کے مطابق۔ ادارے کے مطابق ایران ایسے جہازوں کو باقاعدگی سے نشانہ بناتا ہے جو اس کی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کریں۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے ذریعے جواب دیا ہے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق بحران ختم کرنے کی سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ اس نے اس تعطل کو خاص طور پر جون کے ایک معاہدے کے ٹوٹنے سے جوڑا ہے، جس نے مستقل تصفیے کا راستہ متعین کیا تھا۔ ذرائع مواد میں اس معاہدے کی شرائط یا اس کی ناکامی کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے ساتھ شائع ہونے والی ایک تصویر، جسے قطری وزارت خارجہ نے جاری کیا، دکھاتی ہے کہ قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی تہران میں عراقچی سے ملاقات کر رہے ہیں۔ تصویر کے کیپشن میں تاریخ 27 اگست 2026 دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق قطر ستمبر کے بعد سے کم از کم واشنگٹن تک ایرانی تجاویز کے لیے رابطے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ثالثوں کو ایرانی ردعمل کے وقت، اور امریکہ کے کسی بھی ردعمل کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 28 اکتوبر، 2026
- Arab Newsen · 28 اکتوبر، 2026
- The New Araben · 29 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟