Skip to content
Zenga News

عدن کے صدارتی محل پر حملے کی اطلاعات؛ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی

یمن کی حکومت کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے عدن ایئرپورٹ اور معاشق محل کی طرف بیلیسٹک میزائل داغے۔ گروہ نے سعودی قیادت میں اتحاد کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ اس نے مکہ کی طرف ڈرون بھیجا تھا۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 5 منٹ مطالعہ
File photo: A structural building and pier of the city of Aden.
File photo: A structural building and pier of the city of Aden. تصویر: T3n60 / Wikimedia Commons · CC BY-SA 3.0

عدن — یمن کی حکومتی مسلح افواج نے جمعہ کے روز کہا کہ حوثیوں نے عدن ایئرپورٹ اور معاشق صدارتی محل پر بیلیسٹک میزائلوں سے حملہ کیا۔ گروہ نے الگ سے سعودی قیادت میں اتحاد کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ اس نے ڈرون سے مکہ کو نشانہ بنایا۔

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق حکومتی افواج کے ایک ترجمان نے یہ بیان دیا۔ اس میں ہلاکتوں یا نقصان کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ میزائل اپنے اہداف تک پہنچے یا نہیں۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

ایک پولیس اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ حوثیوں نے صدارتی محل پر دو میزائل داغنے کا ہدف رکھا تھا۔ بی بی سی نیوز عربی کے مطابق، ایک یمنی پولیس ذریعے نے اے ایف پی کو یہ بھی بتایا کہ اسی وقت شہر میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق عدن کے رہائشیوں نے جمعہ کی شب دیر گئے دو دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ عدن یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا مرکز ہے۔

زنگا نیوز کو دستیاب مواد میں حوثیوں نے عدن کی ان اطلاعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔ صدارتی محل یا ایئرپورٹ سے متعلق کسی دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

مکہ کے دعوے کی تردید

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کی قیادت سعودی عرب کر رہا ہے۔ اس کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے اس سے پہلے جمعہ کو کہا تھا کہ فضائی دفاعی نظام نے مکہ کے علاقے میں حوثیوں کے داغے گئے ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اس بیان کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ یمنی مسلح افواج نے اس دن سعودی سرزمین کی طرف کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے مکہ کے اوپر روکے جانے کے دعوے کو ایک سنگین جھوٹ قرار دیا۔ ان کے مطابق گروہ کی کارروائیاں سعودی تیل کی تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بناتی ہیں۔

جمعہ کو بعد ازاں المالکی نے ایکس پر دو پوسٹوں میں کہا کہ فضائی دفاع نے ریاض کے علاقے میں ایک ڈرون تباہ کیا۔ ان کے مطابق اس نے حوثیوں کی طرف سے مملکت کے جنوبی علاقے کی طرف داغا گیا ایک بیلیسٹک میزائل بھی روکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاض میں روکے جانے کے نتیجے میں ملبہ گرا مگر کوئی زخمی نہیں ہوا۔

بی بی سی نیوز عربی کے مطابق اتحاد نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کو تقریباً روزانہ نشانہ بنائے جانے کا ذکر کیا ہے۔ سعودی عرب نے کئی بار حوثیوں پر مکہ اور مدینہ کی طرف بیلیسٹک میزائل اور ڈرون داغنے کا الزام لگایا ہے۔ بی بی سی کے مطابق گروہ نے ہمیشہ اس کی تردید کی ہے۔

حکومت کی اقوام متحدہ سے اپیل

الگ سے، یمنی حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے عدن کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر بار بار ہونے والے حوثی حملوں کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس نے کونسل سے یہ بھی کہا کہ شہریوں اور شہری مقامات کے تحفظ کے لیے بازدارانہ اقدامات کیے جائیں اور اسلحے کی پابندی پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

اقوام متحدہ میں یمن کے مستقل نمائندے عبداللہ السعدی نے کونسل کے صدر کے نام خط میں یہ درخواست پیش کی، بی بی سی نیوز عربی کے مطابق۔ ان کے مطابق حوثیوں نے 28 اکتوبر کو ایئرپورٹ پر بیلیسٹک میزائل داغے۔ انہوں نے اسے اس مہینے ایئرپورٹ پر چھٹا حملہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے مسافروں اور عملے کی جان خطرے میں پڑی اور کئی پروازوں کا رخ موڑنا پڑا۔

بی بی سی کے مطابق حکومت نے ایک شہری ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کو "جنگی جرم" قرار دیا۔ اس نے کہا کہ شہری مقامات پر بار بار حملوں کا تقاضا ہے کہ بین الاقوامی برادری تشویش اور مذمت کے بیانات سے آگے بڑھ کر اقدام کرے۔

سلامتی کونسل کے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور سمندری سلامتی سے متعلق اجلاس میں یمن نے خبردار کیا کہ حوثی اسمگلنگ نیٹ ورکس اور ایرانی حمایت کے ذریعے جدید ہتھیار اور فوجی ٹیکنالوجی حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ یہ پابندیوں کے نظام کی مؤثریت کے لیے سنگین چیلنج ہے۔ حکومت نے ایران پر حوثیوں کو فوجی مدد دینے کا الزام لگایا۔ اس نے کہا کہ اسی مدد سے گروہ بیلیسٹک میزائلوں، ڈرونز اور دھماکہ خیز کشتیوں سے حملوں کا دائرہ بڑھا رہا ہے اور بحیرہ احمر، باب المندب آبنائے اور خلیج عدن میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ زنگا نیوز نے دیکھے گئے ذرائع میں ان الزامات پر ایران یا حوثیوں کا کوئی جواب نہیں دیکھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں حکومت نے ریاستی اداروں کی بحالی اور طے شدہ حوالوں کے تحت سلامتی و استحکام کے حصول کے لیے حمایت طلب کی، بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے تحت۔ اس نے تعز کے مسلسل محاصرے پر تشویش کا اظہار بھی کیا، جہاں، اس کے مطابق، چالیس لاکھ افراد رہتے ہیں۔ اس نے سنگین انسانی نتائج سے خبردار کیا۔

پس منظر

بی بی سی نیوز عربی کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثی اور یمنی حکومتی افواج جولائی میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے برسرِ پیکار ہیں۔ ستمبر میں لڑائی میں شدید اضافہ ہوا۔ بی بی سی کے مطابق حوثیوں نے مغربی ساحل اور باب المندب آبنائے کے علاقے میں پیش قدمی کی۔ یہ آبنائے یورپ اور ایشیا کے درمیان جہاز رانی کا ایک اہم راستہ ہے۔ بی بی سی کے مطابق تیل کی برآمدات کے لیے ریاض کے لیے اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے، کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر رکھا ہے۔

حوثیوں نے سعودی عرب کے ساتھ میزائل اور فضائی حملوں کا تبادلہ بھی کیا ہے۔ سعودی اہداف پر ان کے حملوں میں ریاض ایئرپورٹ پر حملے بھی شامل ہیں۔ بی بی سی نیوز عربی کے مطابق ان میں سے ایک حملہ 10 اکتوبر کو ہوا، جس میں 13 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ نشریاتی ادارے نے اسے ایک دہائی سے زیادہ میں سعودی سرزمین پر سب سے مہلک حملہ قرار دیا۔ اس نے کہا کہ اکتوبر کے آغاز سے سعودی ایئرپورٹس پر حملوں میں 22 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان حملوں کے مقابلے کے لیے ریاض نے بین الاقوامی حمایت اور دیگر ریاستوں، بشمول پاکستان اور ترکی، کے ساتھ فوجی تعاون طلب کیا ہے، بی بی سی کے مطابق۔

عدن کی اطلاعات کے لیے ہلاکتوں کے اعداد و شمار، کسی نقصان کی حد اور عدن کے دعووں پر حوثیوں کا مؤقف ابھی تصدیق طلب ہیں۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 28 اکتوبر، 2026اتحادی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن سے طائف کی جانب داغا گیا حوثی میزائل روک لیا
  2. 29 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ: حوثیوں کے سعودی ہوائی اڈوں پر حملے جنگی جرائم کا سوال اٹھاتے ہیں
  3. 30 اکتوبر، 2026سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے مکہ ریجن کے اوپر حوثی ڈرون مار گرایا
  4. 31 اکتوبر، 2026عدن کے صدارتی محل پر حملے کی اطلاعات؛ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج