امریکی ایلچی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ فوجی کشیدگی کم کرنے کے معاہدے کے قریب ہیں
ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام بیرک کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران فوجی کشیدگی کم کرنے کے معاہدے کے بہت قریب ہیں، بی بی سی اردو کے مطابق۔ ممکنہ معاہدے کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
انقرہ — ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام بیرک نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران فوجی کشیدگی کم کرنے کے معاہدے کے بہت قریب ہیں، بی بی سی اردو کے جمعہ 30 اکتوبر کو شائع ہونے والے براہ راست صفحے کے مطابق۔
بی بی سی اردو نے بیرک کو شام اور عراق کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی ایلچی اور ترکیہ میں سفیر بتایا ہے۔ اس رپورٹ کے لیے جائزہ لیے گئے مواد میں ان کے بیانات کا یہی واحد احوال ہے۔ بیرک کے اپنے الفاظ دستیاب نہیں تھے، اور ممکنہ معاہدے کی کوئی شرائط نہیں بتائی گئیں۔
زنگا نیوز نے ایلچی کے جائزے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ ذریعے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے یہ بات کب یا کہاں کہی۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ آیا ایرانی حکام اس بات سے متفق ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
تہران میں قطری وفد
اسی بی بی سی اردو صفحے پر ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں سے متعلق دیگر پیش رفت بھی بتائی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے تصدیق کی ہے کہ قطر کا ایک وفد جمعہ 30 اکتوبر کی صبح ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کے لیے تہران پہنچا۔
بی بی سی اردو کے ذریعے IRNA کے مطابق، اس وفد کی قیادت قطری وزیر اعظم کے ایک سینئر مشیر کر رہے ہیں، جو ملک کے وزیر خارجہ بھی ہیں۔ IRNA نے کہا کہ اس دورے میں دوطرفہ تعلقات اور تازہ علاقائی صورت حال پر مشاورت شامل ہوگی۔
بی بی سی اردو نے خبر رساں ادارے رائٹرز کا حوالہ بھی دیا ہے۔ رائٹرز نے ایک باخبر عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ قطری ثالث تہران کا دورہ کر رہے ہیں اور واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق یہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ایک اور عہدیدار، جو مذاکرات سے واقف ہے، نے رائٹرز کو بتایا کہ اتوار 25 اکتوبر کو تہران کے پچھلے دورے کے دوران قطری وفد نے ایران کو ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا، جیسا کہ بی بی سی اردو کے خلاصے میں بتایا گیا ہے۔ ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے ان تجاویز کو ناقابل قبول قرار دیا۔ اس رپورٹ کے لیے دستیاب متن یہیں ختم ہو جاتا ہے، اس لیے عہدیدار کے مکمل مؤقف کا علم نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز کے واقعات
بی بی سی اردو کے صفحے پر آبنائے ہرمز میں اور اس کے قریب تیل بردار جہازوں سے متعلق دو واقعات بھی بتائے گئے ہیں۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان کا سفارتی رابطوں سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
پہلے واقعے میں ایران کے انقلابی گارڈز کی بحریہ نے کہا کہ آبنائے کے مشرقی اور مغربی حصوں میں دو تیل بردار جہازوں کو حادثہ پیش آیا۔ گارڈز کے مطابق، یہ جہاز ایک ایسے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے ایران غیر مجاز قرار دیتا ہے۔ بعد ازاں وہ آبنائے کے جنوبی پانیوں میں رک گئے۔
گارڈز نے کہا کہ دونوں جہازوں نے اپنے نیویگیشن اور مقام کی نشاندہی کرنے والے نظام بند کر رکھے تھے۔ ان کے مطابق یہ جہاز "امریکی فوج کی مدد سے" آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے، جیسا کہ بی بی سی اردو نے بیان کے حوالے سے بتایا ہے۔ گارڈز نے یہ بھی کہا کہ جہازوں نے کئی ریڈیو انتباہات نظر انداز کیے اور ایک غیر محفوظ علاقے میں داخل ہوئے، جہاں حادثہ پیش آیا۔
گارڈز نے جہازوں کو روکنے اور جہاز پر لگنے والی آگ کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کی۔ انہوں نے جہازوں پر ایرانی ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا۔ یہ انقلابی گارڈز کے دعوے ہیں۔ بی بی سی اردو نے انہیں کسی اور ذریعے سے منسوب نہیں کیا۔
گارڈز کے بیان میں جہازوں کے نام، ان کی رجسٹریشن یا عملے کی حالت نہیں بتائی گئی۔ بی بی سی اردو کے مطابق آزاد ذرائع نے ابھی تک اس واقعے کی تصدیق نہیں کی۔
برطانوی بحری ادارے یو کے ایم ٹی او کی الگ رپورٹ
بی بی سی اردو نے برطانوی بحری تجارتی ادارے UKMTO کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ادارے نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے نکلنے والے ایک تیل بردار جہاز کے ڈھانچے سے دھماکا خیز مواد جوڑا گیا تھا اور اس حملے سے آگ لگ گئی۔
بی بی سی اردو کے خلاصے کے مطابق UKMTO کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمان کے شہر خصب کے تقریباً 25 ناٹیکل میل شمال مشرق میں ایک چھوٹی کشتی جہاز کے قریب آئی اور اس نے جہاز کے بائیں جانب ڈھانچے پر دو دھماکا خیز آلات نصب کیے۔
UKMTO کے مطابق دھماکوں سے انجن روم میں آگ لگ گئی اور جہاز عارضی طور پر ناکارہ ہو گیا۔ آگ پر قابو پا لیا گیا اور جہاز اپنی اگلی بندرگاہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق تمام عملہ محفوظ ہے اور ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
بی بی سی اردو نہیں بتاتا کہ یہ جہاز ان دو جہازوں میں سے ایک ہے جن کا ذکر انقلابی گارڈز نے کیا، اور نہ ہی یہ بتاتا ہے کہ دھماکا خیز آلات کس نے رکھے۔
پس منظر
دستیاب مواد کے مطابق قطری عہدیدار تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ بی بی سی اردو کے حوالے سے رائٹرز کے مطابق، قطری وفد ایران کا دورہ کرتے ہوئے امریکی فریق کے ساتھ رابطے میں رہا ہے۔ اس ذریعے میں تنازع کی تاریخ یا بیرک کے ذکر کردہ مخصوص فوجی کشیدگی کے بارے میں مزید تفصیل نہیں دی گئی۔
بی بی سی اردو کے براہ راست صفحے پر بھارت کی خبریں بھی ہیں، جن میں ریاست اتراکھنڈ میں ایک لاپتہ ہیلی کاپٹر کی خبر شامل ہے۔ یہ خبر ایران اور امریکہ کے معاملے سے متعلق نہیں ہے۔
یہ رپورٹ ایک ہی ذریعے، بی بی سی اردو، پر انحصار کرتی ہے، اور اس میں شامل دعوے ان افراد اور اداروں سے منسوب کیے گئے ہیں جن کا نام بی بی سی اردو نے لیا ہے۔ جائزہ لیے گئے مواد میں معاہدے کے امکان کے بارے میں امریکی یا ایرانی حکومت کا براہ راست حوالہ شامل نہیں ہے۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟