Skip to content
Zenga News

اسرائیل نے عرب ووٹرز کی بڑی تعداد پر قطر اور ترکیہ کو موردِ الزام ٹھہرایا، دونوں ممالک کا انکار

نیتن یاہو کی جماعت لیکود کا کہنا ہے کہ 27 اکتوبر کے انتخابات میں غیر ملکی سرمائے نے عرب ووٹرز کی شرکت بڑھائی۔ قطر اور ترکیہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ شن بیت کا کہنا ہے کہ اس کی تحقیقات عرب ووٹرز کو نشانہ نہیں بناتیں۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 5 منٹ مطالعہ
File photo: Name: Knesset of Israel - Jerusalem Description: Seven ceramic shelves. What look like concrete slabs wrapped in colorful rubber bands - images of badges awarded by the army to all soldiers who participated in a particular campaign or war
File photo: Name: Knesset of Israel - Jerusalem Description: Seven ceramic shelves. What look like concrete slabs wrapped in colorful rubber bands - images of badges awarded by the army to all soldiers who participated in a particular campaign or war تصویر: Shlomo Spitzer (שלמה שפיצר) / Wikimedia Commons · CC BY 2.5

یروشلم — اسرائیل کی حکمراں جماعت لیکود اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے قطر اور ترکیہ پر 27 اکتوبر کے انتخابات میں مداخلت کا الزام لگایا ہے۔ اپوزیشن اور عرب جماعتوں کے رہنما اسے نتیجے کو متنازع بنانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، بی بی سی ترکی کے مطابق۔

لیکود نے اسرائیل کی عرب جماعتوں پر ووٹ "چوری" کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت یہ تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا ان جماعتوں نے قطر اور ترکیہ سے غیر قانونی فنڈنگ حاصل کی۔ بی بی سی ترکی نے رپورٹ کیا ہے کہ اس ضمن میں کوئی شواہد عام نہیں کیے گئے۔

دوحہ اور انقرہ کا انکار

ترکیہ نے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ صدارتِ ترکیہ سے منسلک "ڈس انفارمیشن کا مقابلہ کرنے والے مرکز" نے 29 اکتوبر کو تحریری بیان جاری کیا۔ اس نے ان دعووں کو "مکمل طور پر بے بنیاد" قرار دیا اور کہا کہ یہ عوام کو گمراہ کرنے کی ایک منظم مہم کا حصہ ہیں۔

قطر کی وزارتِ خارجہ نے الزامات کو "لغو اور خطرناک" قرار دیا۔ اس نے اسرائیلی سیاست دانوں پر دوحہ کے خلاف غلط معلومات کی مہم چلانے کا الزام لگایا اور دعووں کو سختی سے مسترد کیا، بی بی سی ترکی کے مطابق۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق سینٹرل الیکشن کمیشن (سی ای سی) کو ایک شکایت جمع کرائی گئی ہے۔ اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ قطر نے عرب کمیونٹیز میں ووٹنگ بڑھانے کے مقصد سے فنڈنگ فراہم کی۔ رپورٹس میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ دعویٰ درست ہے، اور قطر اس کی تردید کرتا ہے۔

انتخابی نتیجہ

بی بی سی ترکی کے مطابق حتمی نتائج سے واضح ہوا کہ نہ نیتن یاہو کا اتحاد اور نہ ہی یہودی اپوزیشن اکثریت حاصل کر سکی۔ نیتن یاہو کے اتحاد نے 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ان کے حریف گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں اتحاد نے 48 نشستیں لیں۔

دو عرب اتحاد، جوائنٹ لسٹ اور رعم، نے 120 نشستوں والی کنیسٹ میں ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کیں۔ بی بی سی ترکی نے کہا کہ یہ توقعات سے زیادہ ہے اور عرب ووٹرز میں ووٹنگ کی شرح بڑھنے کے بعد سامنے آیا۔

جمعرات کو لیکود نے دعویٰ کیا کہ ووٹرز کو عرب جماعتوں کی حمایت کے لیے "رشوت" دی گئی۔ یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب سی ای سی نے شن بیت سے کہا کہ وہ اس کے بقول "غیر ملکی مداخلت کے سنگین شبہات" کا جائزہ لے، بی بی سی ترکی نے رپورٹ کیا۔ جوائنٹ لسٹ، جس میں عرب اکثریتی جماعتیں شامل ہیں، نے کہا کہ اس الزام کی کوئی بنیاد نہیں۔

نیتن یاہو اور لیکود نے اس معاملے کو "سیاسی زلزلہ" اور "جمہوریت پر حملہ" قرار دیا، اسی رپورٹ کے مطابق۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد ان کی دائیں بازو کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔

شن بیت اور انتخابی حکام کا ردِعمل

شن بیت نے بعد میں کہا کہ اس کی تحقیقات ایسی پوری کمیونٹی کو نشانہ نہیں بناتیں جس نے قانونی طور پر ووٹ دیا، بی بی سی ترکی نے رپورٹ کیا۔ سی ای سی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیون نے کہا کہ انتخابی شفافیت کی منظم خلاف ورزیوں کے دعوؤں کی "کوئی بنیاد نہیں"۔

آئزنکوٹ نے، جنہوں نے کہا کہ انہیں تحقیقات سے آگاہ کیا گیا ہے، کہا کہ یہ جاننا "ابھی بہت جلد" ہے کہ کیا ہوا، یا آیا کچھ ہوا بھی ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو پر انتخابی نتیجے کو غیر مستند ثابت کرنے کی، جیسا کہ انہوں نے کہا، مربوط اور منظم مہم چلانے کا الزام لگایا۔

جوائنٹ لسٹ کا حصہ بلد پارٹی کے سربراہ سامی ابو شحادہ نے بھی اس الزام کو مسترد کیا۔

"ہارنے والا فریق ایک نسل پرستانہ بدنامی کی مہم چلا رہا ہے اور سلامتی کے اداروں سے انتخابی نتائج کو الٹنے کے لیے طاقت استعمال کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔" — سامی ابو شحادہ، بلد پارٹی کے رہنما

نیتن یاہو کے ناقدین اس تنازع کو عرب جماعتوں کو غیر قانونی ظاہر کرنے کی کوشش سمجھتے ہیں، بی بی سی ترکی نے رپورٹ کیا۔ ان کے مطابق اس سے آئزنکوٹ کے لیے ان جماعتوں کے ساتھ تعاون سیاسی طور پر ناممکن ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر دعوے

ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں "قدس نیوز نیٹ ورک" نے کہا کہ لیکود نے اس معاملے کو "رعم گیٹ" کا نام دیا ہے۔ چینل کے مطابق سی ای سی کے چیئرمین نے شن بیت کو تحقیقات کا حکم دیا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ پولیس کو وسیع پیمانے پر دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور مبینہ طور پر لیکود ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی "چوری شدہ" انتخاب کے دعوے کی تیاری کر رہی تھی۔ یہ نکات ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے لیے گئے ہیں اور ان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ بی بی سی ترکی نے کہا کہ سی ای سی نے شن بیت سے تحقیقات کا "کہا" تھا، "حکم" نہیں دیا تھا۔

بی بی سی ترکی نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو کئی دنوں سے عرب ووٹرز اور جماعتوں پر تنقید کر رہے ہیں۔ انتخابی دن انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ عرب ووٹنگ دائیں بازو کے لیے "ہنگامی صورتحال" اور "زندگی اور موت کا معاملہ" ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر بھی شیئر کیں جن میں عرب ووٹرز پولنگ اسٹیشنوں پر دکھائے گئے، جن کا مقصد دائیں بازو کے ووٹرز کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنا تھا۔

پس منظر

اسرائیل کے عرب شہری اکثر خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری کہتے ہیں۔ بی بی سی ترکی کے مطابق وہ آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں۔

کئی برسوں تک ان میں سے بہت سے لوگوں نے اسرائیلی انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ ان کا موقف تھا کہ ووٹ دینا اس نظام کو جائز قرار دینے کے مترادف ہوگا، جس میں، ان کے خیال میں، انہیں دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک دیا جاتا ہے۔

بی بی سی ترکی نے کہا کہ منگل کو ان کی ووٹنگ اس خواہش کی عکاس تھی کہ نیتن یاہو کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت کو ہٹایا جائے، جسے اس نے اسرائیل کی تاریخ کی سب سے دائیں بازو کی حکومت قرار دیا ہے۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 28 اکتوبر، 2026آئزن کوٹ کہتے ہیں اسرائیل نے تبدیلی کا انتخاب کیا ہے، وہ حکومت بنانے کی کوشش کریں گے
  2. 28 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن کو مغربی کنارے میں فلسطینی بچوں کے خلاف عمر کی بنیاد پر ظلم و ستم کے شواہد ملے
  3. 28 اکتوبر، 2026نیدرلینڈز نے اسرائیل کی شرکت پر یوروویژن 2027 سے دستبرداری کا اعلان کیا، نشریاتی ادارے کا دعویٰ
  4. 30 اکتوبر، 2026اسرائیل نے عرب ووٹرز کی بڑی تعداد پر قطر اور ترکیہ کو موردِ الزام ٹھہرایا، دونوں ممالک کا انکار

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج