Skip to content
Zenga News

نیدرلینڈز نے اسرائیل کی شرکت پر یوروویژن 2027 سے دستبرداری کا اعلان کیا، نشریاتی ادارے کا دعویٰ

ڈچ سرکاری نشریاتی ادارے NPO نے اسرائیل کی شمولیت پر اختلاف کی بنا پر نیدرلینڈز کو یوروویژن 2027 سے الگ کر دیا ہے، TRT عربی کی ٹیلیگرام پوسٹ کے مطابق۔ پوسٹ میں غزہ کی جنگ کا حوالہ دیا گیا ہے۔

Onur Irmako
Zenga News یورپ اور امریکہ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: Eurovision Song Contest Dusseldorf 2011 Nikon d700, Nikkor 50 1.4g
File photo: Eurovision Song Contest Dusseldorf 2011 Nikon d700, Nikkor 50 1.4g تصویر: Frédéric de Villamil from Paris, France / Wikimedia Commons · CC BY-SA 2.0

نیدرلینڈز — ڈچ سرکاری نشریاتی ادارے NPO نے اعلان کیا ہے کہ نیدرلینڈز 2027 کے یوروویژن گیت مقابلے میں حصہ نہیں لے گا، اور اس کی وجہ اسرائیل کی شرکت پر پیدا ہونے والا تنازع بتائی ہے۔ یہ اطلاع TRT عربی کی ٹیلیگرام پوسٹ کے مطابق 27 اکتوبر 2026 کو سامنے آئی۔

یہ رپورٹ اسی پوسٹ پر مبنی ہے، جو اس کا واحد ذریعہ ہے۔ یہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ زینگا نیوز نے NPO کا کوئی بیان نہیں دیکھا۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

پوسٹ میں کیا کہا گیا ہے

TRT عربی کے مطابق NPO نے کہا کہ یہ فیصلہ مقابلے میں اسرائیل کی شرکت کے گرد پیدا ہونے والے تنازع اور اختلاف سے جڑا ہے۔ چینل نے اپنی پوسٹ کے متن میں نشریاتی ادارے کا براہ راست حوالہ نہیں دیا۔

پوسٹ میں مزید تفصیل یووری بوسمین سے منسوب کی گئی ہے، جنہیں اس کے مطابق نشریاتی ادارے کا میڈیا ڈائریکٹر بتایا گیا ہے۔ یہ نام عربی زبان کی پوسٹ میں جس طرح آیا ہے، اسی طرح یہاں درج ہے۔ TRT عربی کے مطابق بوسمین نے کہا کہ یہ فیصلہ نشریاتی تنظیموں کی کونسل سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔

TRT عربی نے یہ بھی بتایا کہ بوسمین نے اسرائیل کی شرکت پر ڈچ معاشرے میں ملے جلے ردعمل کی طرف اشارہ کیا۔ پوسٹ یہ نہیں بتاتی کہ وہ ردعمل کیا تھے، انہیں کس نے ظاہر کیا، یا ان کی پیمائش کیسے کی گئی۔

Avrotros کی پہلے کی دستبرداری

پوسٹ کے مطابق ایک اور ڈچ نشریاتی ادارے Avrotros نے اگست میں مقابلے سے اپنی دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ TRT عربی کے مطابق Avrotros نے کہا کہ غزہ کی جنگ کی وجہ سے مقابلہ اب غیر جانبدار نہیں رہا۔

TRT عربی نے مزید بتایا کہ ڈچ شرکت کی ذمہ داری NPO نے سنبھال لی تھی، اور بعد ازاں اس سے بھی پیچھے ہٹ گیا۔ پوسٹ یہ وضاحت نہیں کرتی کہ NPO نے یہ ذمہ داری کب لی، اس نے رخ کیوں بدلا، یا دونوں مراحل کے درمیان کتنا وقت گزرا۔

کیا تصدیق شدہ نہیں ہے

پوسٹ یہ نہیں بتاتی کہ نیدرلینڈز نے یورپی براڈکاسٹنگ یونین کو باقاعدہ طور پر مطلع کیا ہے یا نہیں، کیونکہ اس ادارے کا متن میں ذکر ہی نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ فیصلہ واپس لیا جا سکتا ہے یا نہیں، اور کیا دیگر نشریاتی ادارے بھی ایسے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

پوسٹ 2027 کے میزبان ملک، تاریخوں یا مقابلے کی شکل کے بارے میں بھی کوئی معلومات نہیں دیتی۔ اس میں اسرائیل کے نشریاتی ادارے یا مقابلے کے منتظمین کا ردعمل شامل نہیں۔

قارئین اس اطلاع کو اس وقت تک غیر تصدیق شدہ سمجھیں جب تک NPO، نشریاتی تنظیموں کی کونسل یا مقابلے کے منتظمین اپنے بیانات جاری نہیں کرتے، یا کوئی معتبر خبر رساں ادارہ تفصیلات کی تصدیق نہیں کرتا۔

پس منظر

TRT عربی کی پوسٹ کے مطابق یوروویژن میں اسرائیل کے کردار پر تنازع کئی مہینوں سے نیدرلینڈز میں کشیدگی کا باعث رہا ہے۔ پوسٹ اسے غزہ کی جنگ سے جوڑتی ہے، جس کا حوالہ Avrotros نے اگست میں مقابلے سے علیحدگی کے اعلان میں دیا تھا۔

پوسٹ ایک ایسے سلسلے کو بیان کرتی ہے جس میں ڈچ شرکت کی ذمہ داری Avrotros سے NPO کی طرف منتقل ہوئی، اور اب NPO بھی پیچھے ہٹ گیا ہے۔ پوسٹ اسے ڈچ معاشرے میں منقسم رائے کا نتیجہ قرار دیتی ہے، جیسا کہ بوسمین سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے۔

TRT عربی ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے TRT کی عربی سروس ہے۔ اس کی پوسٹ کے آخر میں قارئین سے نئی اپ ڈیٹس کے لیے چینل کے ساتھ جڑے رہنے کی درخواست کی گئی ہے۔

زینگا نیوز اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا اگر NPO یا کوئی اور ذریعہ براہ راست بیان فراہم کرے۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 28 اکتوبر، 2026آئزنکوٹ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کا سیاسی کیریئر ختم ہو چکا ہے، اسرائیلی ایگزٹ پولز میں کانٹے کا مقابلہ
  2. 28 اکتوبر، 2026آئزن کوٹ کہتے ہیں اسرائیل نے تبدیلی کا انتخاب کیا ہے، وہ حکومت بنانے کی کوشش کریں گے
  3. 28 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیشن کو مغربی کنارے میں فلسطینی بچوں کے خلاف عمر کی بنیاد پر ظلم و ستم کے شواہد ملے
  4. 28 اکتوبر، 2026نیدرلینڈز نے اسرائیل کی شرکت پر یوروویژن 2027 سے دستبرداری کا اعلان کیا، نشریاتی ادارے کا دعویٰ

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج