ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کی جوہری صلاحیت ختم کر دی گئی، مگر کچھ مقامات باقی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جوہری صلاحیت ختم کر دی گئی ہے، تاہم ایک یا دو مقامات، بشمول پickaxe Mountain نامی مشتبہ مقام، ابھی توجہ طلب ہیں۔ ایران وہاں جوہری کام ہونے کی تردید کرتا ہے۔

واشنگٹن — صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ امریکہ نے ایران کی جوہری صلاحیت "ختم کر دی" ہے اور اسے ابھی ایک یا دو مزید مقامات "نمٹانے" ہیں، جن میں Pickaxe Mountain کے نام سے مشہور ایک مشتبہ زیرِ زمین جوہری مجموعہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے یہ بات فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی، عرب نیوز کے مطابق۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان مقامات سے جلد نمٹا جا سکتا ہے۔ "ہمیں ابھی ایک یا دو مقامات کا خیال رکھنا ہے، میں کہوں گا، لیکن ہم یہ دس منٹ میں کر سکتے ہیں،" انہوں نے کہا۔ Pickaxe Mountain کے بارے میں انہوں نے کہا: "آپ شاید Pickaxe Mountain کو دیکھ سکتے ہیں، اور آپ کو اس کا خیال رکھنا ہوگا۔ ہم یہ سب بہت جلد کر سکتے ہیں،" اسی رپورٹ کے مطابق۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو "ٹھیک چل رہے ہیں، مگر آپ جانتے ہیں کہ وہ زیادہ قابلِ اعتماد نہیں ہیں" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جارحانہ کارروائی میں جلدی نہیں کر رہا کیونکہ، ان کے الفاظ میں، اس نے ایران کی فوج اور جوہری پروگرام کو تباہ کر دیا ہے۔
اسی دن کے اوائل میں، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا فیصلہ نہیں کیا ہے اور امریکہ سفارتی حل کے لیے تیار ہے، عرب نیوز نے رپورٹ کیا۔ ایران کے سپریم لیڈر نے اسی روز امریکہ اور اسرائیل کو نئے حملوں کے خلاف خبردار کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ بیان انتخابات کے بعد حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا۔
ایرانی حکومت نے تردید کی ہے کہ Pickaxe Mountain پر کوئی جوہری کام ہوتا ہے۔ عرب نیوز نے اس تردید کو مزید تفصیل کے بغیر رپورٹ کیا۔
العربیہ اور الجزیرہ عربی نے بھی ٹیلیگرام پر ٹرمپ کے بیانات شائع کیے، جن میں انہیں یہ کہتے ہوئے نقل کیا گیا کہ امریکہ ایران کے جوہری مقامات پر 10 منٹ کے اندر حملہ کر سکتا ہے اور اس نے ایران کی جوہری صلاحیتیں تباہ کر دی ہیں۔ یہ سوشل میڈیا رپورٹس ہیں اور ان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ان پوسٹس کے الفاظ عرب نیوز کے بیان سے مطابقت رکھتے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ بیانات ایک ایسے تنازع میں دوبارہ جنگ کے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کا آغاز فروری کے آخر میں ہوا، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی، عرب نیوز کے مطابق۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ مزید حملے ممکن ہیں اور ان کا وقت امریکی وسط مدتی انتخابات پر منحصر ہے، اس سوال کو کھلا چھوڑتا ہے کہ کیا سفارتی مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ ایران کے عوام اور وسیع تر خطے کی مسلم کمیونٹیز کے لیے ان مذاکرات کا نتیجہ اور کسی بھی نئے حملے کا اثر روزمرہ سلامتی اور شہری زندگی پر پڑے گا۔ دستیاب ذرائع شہریوں پر پڑنے والے اثرات بیان نہیں کرتے۔
پس منظر
امریکہ اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران کے خلاف جنگ شروع کی، عرب نیوز کے مطابق۔ ذریعہ تنازع کا سال نہیں بتاتا اور جنگ کے ابتدائی مراحل بیان نہیں کرتا۔
Pickaxe Mountain ایران کے وسطی صوبے اصفہان میں نطنز جوہری تنصیب کے قریب ایک مشتبہ زیرِ زمین جوہری مجموعہ ہے۔ Vantor کی جاری کردہ اور Agence France-Presse (AFP) کی جانب سے جون 2026 میں تقسیم کی گئی سیٹلائٹ تصویر میں سرنگ مجموعے کے مغربی دروازے پر گاڑیاں دکھائی دیں۔ ایران نے وہاں جوہری کام ہونے کی تردید کی ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد "ان کا کام تمام کرنے" پر غور کر رہے ہیں، عرب نیوز نے رپورٹ کیا۔ فراہم کردہ مواد میں ان انتخابات کی تاریخ نہیں دی گئی۔
آگے کیا ہوگا
روبیو نے کہا کہ نئے حملوں کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور واشنگٹن سفارتی حل کے لیے کھلا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع مذاکرات کی کوئی تاریخ، کوئی ڈیڈلائن، یا ان پر ایرانی حکومت کا کوئی مزید بیان مقرر نہیں کرتے۔ ٹرمپ نے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کو امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد کے عرصے سے جوڑا ہے۔
ذرائع اس بات کی تصدیق نہیں کرتے کہ Pickaxe Mountain یا دیگر مقامات پر کسی حملے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے یا وہ کیا گیا ہے۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Arab Newsen · 1 نومبر، 2026
- Al Arabiya (Telegram)ar · 1 نومبر، 2026
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 1 نومبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟