Skip to content
Zenga News

غزہ سٹی اور خان یونس پر اسرائیلی حملوں میں نو افراد ہلاک

الجزیرہ کے مطابق اتوار کو غزہ سٹی اور خان یونس پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے۔ ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کی ٹیلیگرام پوسٹ میں ایک بچے سمیت کم از کم آٹھ اموات کی اطلاع دی گئی۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: Damage to residential buildings in the Rimal neighborhood of Gaza City, caused by an Israeli airstrike on October 9, 2023.
File photo: Damage to residential buildings in the Rimal neighborhood of Gaza City, caused by an Israeli airstrike on October 9, 2023. تصویر: WAFA in contract with a local company (APAimages)‏‏ / Wikimedia Commons · CC BY-SA 3.0

غزہ سٹی — الجزیرہ نے اطلاع دی کہ اتوار، یکم نومبر کو غزہ سٹی اور خان یونس پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے۔ غزہ کی پٹی سے موصول ہونے والی رپورٹوں میں ان حملوں کو 10 اکتوبر 2025 سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود نئے حملے قرار دیا گیا ہے۔

الجزیرہ انگلش کی ویڈیو رپورٹ میں مجموعی طور پر کم از کم نو ہلاکتوں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم مقامات کے لحاظ سے تفصیل نہیں دی گئی اور نہ ہی متاثرین کے نام بتائے گئے۔ ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کی ٹیلیگرام پوسٹ میں یکم نومبر کو پورے غزہ میں کم از کم آٹھ فلسطینیوں کی ہلاکت اور دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی۔ اس پوسٹ کے مطابق، جو آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے، خان یونس کے مغرب میں المواصی میں ایک فضائی حملے میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ الثورہ سٹریٹ پر غزہ سٹی میں ایک حملے میں ایک بچے سمیت تین افراد ہلاک ہوئے۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

ٹی آر ٹی ورلڈ کی پوسٹ میں غزہ کی وزارت صحت کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی افواج کے ہاتھوں 1,580 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ وزارت صحت کا اعداد و شمار اس پوسٹ میں بالواسطہ طور پر رپورٹ کیا گیا ہے۔ زنگا نیوز نے وزارت کا بیان براہ راست نہیں دیکھا، اور اس اعداد و شمار کی تصدیق اس رپورٹ کے لیے دستیاب کسی سرکاری اعلامیے سے نہیں ہو سکی۔

دونوں ذرائع کی کل تعداد میں فرق ہے۔ الجزیرہ نے ہلاکتوں کی تعداد کم از کم نو بتائی ہے، جبکہ ٹی آر ٹی ورلڈ کی پوسٹ میں کم از کم آٹھ۔ یہ فرق بعد میں کی گئی گنتی یا رپورٹنگ کی مختلف حدود کی وجہ سے ہو سکتا ہے، تاہم ذرائع نے اس کی وضاحت نہیں کی۔

اس رپورٹ کے لیے دستیاب مواد میں ان حملوں پر کسی اسرائیلی فوجی بیان کو شامل نہیں کیا گیا۔ دونوں میں سے کسی ذریعے نے یہ نہیں بتایا کہ نشانہ بننے والے عسکریت پسند تھے یا عام شہری، اور نہ ہی زخمیوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ دی گئی۔

یہ کیوں اہم ہے

غزہ سٹی اور خان یونس کے گنجان آباد علاقوں میں ہونے والے حملے ان خاندانوں کو متاثر کرتے ہیں جن کے پاس پناہ کی بہت کم جگہیں ہیں۔ المواصی حملے کا مقام خان یونس کے مغرب میں ساحلی علاقہ ہے، جسے بہت سے بے گھر افراد پناہ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ الثورہ سٹریٹ حملے میں ایک بچے کی ہلاکت کی اطلاع شہریوں، جن میں بہت سے مسلمان شامل ہیں، کے لیے تشویش میں اضافہ کرتی ہے، کیونکہ اس علاقے کے زیادہ تر رہائشی فلسطینی مسلمان ہیں۔

پس منظر

غزہ بحیرہ روم کے مشرقی ساحل پر واقع ایک چھوٹا ساحلی علاقہ ہے، جس کی سرحدیں اسرائیل اور مصر سے ملتی ہیں۔ غزہ سٹی اس کا سب سے بڑا شہر ہے، جبکہ خان یونس جنوب کا ایک اہم شہر ہے۔ ٹی آر ٹی ورلڈ کی پوسٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیل اور غزہ پر حکمرانی کرنے والی فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے 10 اکتوبر 2025 سے نافذ ہونے والی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت دونوں فریقوں سے حملے روکنے کی توقع تھی۔ یکم نومبر کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ اس کے بعد بھی حملے جاری رہے ہیں۔

آگے کیا ہوگا

ذرائع میں ان حملوں سے منسلک کسی طے شدہ مذاکرات، ووٹ یا عدالتی سماعت کا ذکر نہیں ہے۔ اس رپورٹ کے لیے دستیاب مواد میں اسرائیلی حکومت یا فوج کا کوئی بیان شامل نہیں، اور حماس کے ردعمل کی بھی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ جائزہ شدہ ذرائع میں مزید ہلاکتوں کی گنتی اور حملوں کا کوئی سرکاری موقف شائع نہیں ہوا۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 1 نومبر، 2026کینیڈین لیبر کانگریس اسرائیل کے لیے اسلحے کی ترسیل سے انکار کی حمایت کرتی ہے
  2. 1 نومبر، 2026نوصیرات کے علاقے میں اسرائیلی ڈرون حملے میں غزہ کے دو فلسطینی ہلاک
  3. 1 نومبر، 2026غزہ سٹی اور خان یونس پر اسرائیلی حملوں میں نو افراد ہلاک
  4. 1 نومبر، 2026برطانوی پولیس نے لندن میں فلسطین ایکشن کے احتجاج میں 325 افراد گرفتار کر لیے

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج