Skip to content
Zenga News

سعودی عرب نے قطری ایل این جی ٹینکر "الميدہ" پر حملے کی مذمت کی

سعودی عرب نے خلیج میں قطری مائع قدرتی گیس کیریئر "الميدہ" پر حملے کی مذمت کی ہے۔ ریاض نے بین الاقوامی برادری سے سمندری نقل و حمل کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: LNG tanker, GULF ENERGY - IMO 7390143, at anchor in the Karmsundet strait beside Bukkøy Island. Haugesund, Rogaland county, Norway. on May 20, 2023. While this tanker is being maintained, it has been anchored at this location for some tim
File photo: LNG tanker, GULF ENERGY - IMO 7390143, at anchor in the Karmsundet strait beside Bukkøy Island. Haugesund, Rogaland county, Norway. on May 20, 2023. While this tanker is being maintained, it has been anchored at this location for some tim تصویر: Gordon Leggett / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

خلیج — سعودی عرب نے قطر کے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کیریئر "الميدہ" پر حملے کی مذمت کی ہے، جسے اتوار کو خلیج میں نشانہ بنایا گیا، جیسا کہ سعودی وزارت خارجہ کے ایک بیان سے معلوم ہوتا ہے۔ وزارت نے کہا کہ وہ قطری جہازوں اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ کے لیے اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔ ذرائع میں حملے کا صحیح وقت نہیں بتایا گیا۔

سعودی وزارت خارجہ نے اپنا بیان ایکس پر جاری کیا۔ اس میں "سمندری نقل و حمل اور عالمی توانائی کی فراہمی کی سلامتی اور تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والی تمام خلاف ورزیوں" کو دوبارہ مسترد کیا گیا۔ وزارت نے بین الاقوامی برادری سے فوری اقدام کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری ہو اور "سمندری تحفظ اور بین الاقوامی تجارت کی حفاظت" یقینی بنائی جا سکے۔

مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق "الميدہ" کو اس رپورٹ کے شائع ہونے سے قبل اسی دن خلیج میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسی رپورٹ کے مطابق یہ جہاز قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی کی ملکیت ہے اور وہی اسے چلاتی ہے۔ ٹیلیگرام پر عربی زبان میں العربیہ کی ایک پوسٹ میں بھی کہا گیا کہ سعودی عرب نے قطری گیس کیریئر "الميدہ" کو نشانہ بنائے جانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ یہ پوسٹ غیر تصدیق شدہ ہے اور یہاں صرف اس بات کی اطلاع کے طور پر حوالہ دی جا رہی ہے کہ چینل نے کیا کہا۔

ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ حملہ کس نے کیا، جہاز کو کتنا نقصان پہنچا، یا کیا جہاز پر سوار کوئی شخص زخمی ہوا۔ جانی نقصان کے اعداد و شمار رپورٹ نہیں ہوئے۔ ذرائع یہ بھی نہیں بتاتے کہ قطر نے اپنا الگ بیان جاری کیا ہے یا نہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

ایل این جی کیریئر مائع قدرتی گیس منتقل کرتے ہیں، جو بہت سے ممالک میں بجلی کی پیداوار اور حرارت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ سعودی وزارت نے اس حملے کو عالمی توانائی کی فراہمی کی سلامتی سے جوڑا۔ اس کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کسی بھی رکاوٹ کا قیمتوں یا ترسیل پر کیا اثر پڑے گا۔

پس منظر

قطر ایل این جی کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے، اور اس کے جہاز خلیج سے گزرتے ہیں، وہ آبی راستہ جس کی سرحد سعودی عرب سے ملتی ہے۔ قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی رپورٹ میں ذکر کیے گئے جہاز کو چلاتی ہے۔ ذرائع قطری جہازرانی پر پہلے ہونے والے کسی حملے یا اس واقعے سے جڑے کسی جاری تنازعے کا ذکر نہیں کرتے۔

آگے کیا ہوگا

ذرائع کسی طے شدہ اجلاس، تحقیقات یا ردعمل کا ذکر نہیں کرتے۔ سعودی وزارت نے فوری بین الاقوامی اقدام کا مطالبہ کیا ہے، لیکن زیرِ جائزہ ذرائع میں کسی مخصوص اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج