سعودی عرب نے جنوب مغرب میں حوثی حملے کے بعد ہنگامی الرٹ ختم کر دیے
سعودی سول ڈیفنس نے خطرے کے گزر جانے کا اعلان کرنے سے پہلے abha، جازان اور خمیس مشیط کے لیے وارننگ جاری کی تھی۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ اس نے ایک حوثی میزائل اور ڈرون کو روک لیا۔

ریاض — سعودی حکام نے اتوار، 1 نومبر 2026 کو ملک کے جنوب مغربی علاقے کے تین مقامات کے لیے ہنگامی وارننگ جاری کی، اور پھر اعلان کیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایجنسی نے بتایا کہ یہ الرٹ ابہا اور جازان شہروں اور خمیس مشیط گورنری کے لیے تھے۔
سعودی سول ڈیفنس نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ پیغامات میں کہا کہ ممکنہ خطرے سے رہائشیوں کو خبردار کرنے کے لیے ابتدائی انتباہی نظام استعمال کیا گیا۔ بعد میں اس نے کہا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ ان پیغامات میں یہ نہیں بتایا گیا کہ خطرہ کیا تھا، اور نہ ہی کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع دی گئی، انادولو ایجنسی نے کہا۔
موقع سے، سوشل میڈیا پر
الگ سے، سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا کہ اس نے حوثی گروپ کی جانب سے جنوبی سعودی عرب کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل اور ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا، جیسا کہ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کارروائی کب ہوئی، یا آیا کوئی اور حملہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ الرٹ حوثی گروپ اور سعودی قیادت والے اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران جاری ہوئے۔ یہ اتحاد یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب کو حالیہ hafte میں حوثیوں کے بار بار میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
ابہا، جازان اور خمیس مشیط کے رہائشیوں کے لیے، یہ وارننگ اس وقت تک بے یقینی کا وقت تھی جب تک کلیئرنس نہیں دی گئی۔ ذریعہ کسی بھی قسم کی نقل و حرکت، اسکولوں کی بندش یا روزمرہ زندگی پر دیگر اثرات کا ذکر نہیں کرتا۔
جنوب مغربی علاقہ سعودی عرب کا وہ حصہ ہے جو یمن کے سب سے قریب ہے، اور یمن کے ساتھ ملک کی سرحد لگتی ہے۔ اس لیے ملک کے جنوب کی طرف ہونے والے حملے ایسے خطے میں آتے ہیں جہاں تنازع فعال رہا ہے۔
پس منظر
حوثی ایک مسلح تحریک ہیں جو شمالی یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتی ہے، جس میں دارالحکومت صنعا بھی شامل ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے 2015 میں یمن میں مداخلت کی تاکہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کی جا سکے، جو حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں سے باہر مقیم ہے۔ اس کے بعد سے جنگ جاری ہے، جس میں جنگ بندی اور دوبارہ شدید لڑائی کے ادوار آتے رہے ہیں۔
انادولو ایجنسی کی رپورٹ حالیہ حملوں کو ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ بتاتی ہے۔ اس میں ان حالیہ ہفتوں کے پہلے کے واقعات، تاریخوں یا نقصان کی مکمل فہرست نہیں دی گئی۔
آگے کیا ہوگا
ذریعہ یہ نہیں بتاتا کہ مزید الرٹ متوقع ہیں یا نہیں، یا آیا اتحاد کوئی جوابی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس میں میزائل اور ڈرون حملوں کے بارے میں حوثی گروپ کا کوئی بیان بھی شامل نہیں۔ انادولو ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا حوثیوں نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے۔
یہ ایک ہی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ ہے۔ فراہم کردہ مواد میں اس کے بیان کی سعودی حکومت، اتحاد یا حوثیوں کے بیانات سے تصدیق نہیں ہوئی۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 1 نومبر، 2026حوثیوں کا دعویٰ: سعودی حملوں نے یمن کی حدیدہ بندرگاہ کو نشانہ بنایا
- 1 نومبر، 2026سعودی عرب نے جنوب مغرب میں حوثی حملے کے بعد ہنگامی الرٹ ختم کر دیے
- 1 نومبر، 2026محاصرے کے دوران تعز کے زیادہ تر ہسپتال بند، گورنر کا دعویٰ
- 1 نومبر، 2026سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی علاقے کی جانب داغا گیا حوثی بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟