Skip to content
Zenga News

حوثیوں کا دعویٰ: سعودی حملوں نے یمن کی حدیدہ بندرگاہ کو نشانہ بنایا

حوثی گروہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو سعودی فضائی حملوں نے حدیدہ کی رأس عیسیٰ بندرگاہ کو نشانہ بنایا۔ سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے جنوبی سعودی عرب کی طرف بھیجے گئے ایک حوثی ڈرون کو مار گرایا ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 4 منٹ مطالعہ
File photo: Starboard quarter view of the tugboat SL Hodeidah in Port Quasim
File photo: Starboard quarter view of the tugboat SL Hodeidah in Port Quasim تصویر: VileGecko / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

حدیدہ، یمن — حوثی میڈیا نے اتوار، یکم نومبر 2026 کو کہا کہ سعودی فضائی حملوں نے بحیرۂ احمر کے ساحل پر یمن کے ضلع حدیدہ کی رأس عیسیٰ بندرگاہ کو نشانہ بنایا۔ ایران سے ہم خیال حوثی گروہ، جو خود کو انصار اللہ کہتا ہے، ایک ایسے سعودی قیادت والے اتحاد سے نبرد آزما ہے جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے۔

حوثیوں کے زیرِ انتظام چینل المسیرہ ٹی وی نے کہا کہ "سعودی دشمن" نے رأس عیسیٰ بندرگاہ پر دو فضائی حملے کیے۔ رپورٹ میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔ مقامی رہائشیوں نے ایجنس فرانس پریس (اے ایف پی) کو بتایا کہ انہوں نے علاقے میں دھماکے کی آواز سنی۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

حوثی فوجی میڈیا نے اس سے پہلے کہا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے گذشتہ 24 گھنٹوں میں 75 فضائی حملے اور ایک میزائل حملہ کیا۔ اس کے مطابق حملے صعدہ، تعز، عمران، ібب، ذمار، لحج، حدیدہ اور الجوف میں نshانہ بنانے والے نام نہاد "شہری مقامات" پر کیے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ حملوں میں F-15 اور ٹائفون جنگی طیارے استعمال ہوئے۔ بیان کے مطابق شہری ہلاک اور زخمی ہوئے، مگر ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کشیدگی شروع ہونے کے بعد سعودی فضائی حملوں اور میزائل حملوں کی کل تعداد 3,830 ہے۔ گروہ نے اس عدد کا کوئی ذریعہ نہیں بتایا۔

حوثی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ گروہ کی خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق سعودی حملوں میں حدیدہ یونیورسٹی کے شعبۂ طب کو نقصان پہنچا۔ مقامی رہائشیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے اسی علاقے میں دھماکے کی آواز سنی۔ ان دونوں رپورٹوں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

اتحاد نے اتوار کو کہا کہ اس نے جنوبی سعودی عرب کے علاقے کی طرف داغا گیا ایک حوثی ڈرون روک کر تباہ کر دیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے "جنوبی علاقے کی طرف" داغا گیا ایک بیلاسٹک میزائل اور ایک اور ڈرون بھی روکا۔ اتحاد نے کہا کہ یہ کارروائی کامیاب رہی۔ اتحاد نے یہ بھی کہا کہ اس نے حوثیوں کے زیرِ استعمال ذرائع کو بے اثر کرنے کے لیے "درست نشانے والی کارروائی" کی۔ اس نے حدیدہ اور ذمار کے ضلعوں میں حملوں کی دکھائی جانے والی فوٹیج بھی جاری کی۔

اتوار کو اس سے پہلے حوثی میڈیا نے ایک نامعلوم فوجی اہلکار کے حوالے سے سعودی آرامکو، جو ریاست کی تیل کمپنی ہے، اور مملکت میں فضائی ٹریفک کے خلاف نئی دھمکیاں نقل کیں۔ اہلکار کے مطابق آرامکو کی تنصیبات یمنی مسلح افواج کی "نشانے" پر ہیں اور ان میں سرمایہ کاری "خطرناک مہم جوئی" ہے۔ اس نے غیر ملکی ایئرلائنز کو بھی خبردار کیا کہ وہ مکہ اور مدینہ کی فضا کے سوا سعودی فضائی حدود استعمال نہ کریں۔

"سعودی تنصیبات یمنی مسلح افواج کے نشانے پر ہیں۔" — نامعلوم حوثی فوجی اہلکار، سبا خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے

یہ کیوں اہم ہے

حدیدہ حوثیوں کے کنٹرول میں سب سے بڑی بندرگاہ ہے۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق یہ اس گروہ کے زیرِ قبضہ علاقوں میں خوراک اور امداد کے داخلے کا بنیادی راستہ ہے، اور اسے تیل درآمد اور ذخیرہ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے بندرگاہ پر حملے ایک بڑی آبادی تک سامان کی فراہمی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ حملوں نے بندرگاہ کے کام یا ترسیلات پر کیا اثر ڈالا۔

اقوام متحدہ نے اتوار کو کہا کہ یمن کے مغربی حصے میں لڑائی کے باعث 3 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس کے مطابق زیادہ تر بے گھری گذشتہ دو ماہ میں ہوئی۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں اور امدادی کارکنوں کا تحفظ کریں اور امداد کو بغیر کسی رکاوٹ اور محفوظ طریقے سے لوگوں تک پہنچنے دیں، خاص طور پر تعز کے دشوار گزار علاقوں میں۔ آئی او ایم کے یمن میں سربراہ مشن عبدالستار عیسوی نے کہا کہ خاندانوں کو ایک بار پھر گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، اکثر صرف وہ کپڑے لے کر جو وہ پہنے ہوئے تھے۔ ان کے مطابق انہیں پناہ، خوراک، صاف پانی اور صحت کی سہولیات کی ضرورت ہے۔

پس منظر

یمن کی جنگ 2014 میں شروع ہوئی، جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ سعودی قیادت والا اتحاد 2015 میں حکومت کی حمایت کے لیے میدان میں آیا۔ بی بی سی کے مطابق چار سال کے سکون کے بعد یمن جولائی 2026 میں دوبارہ جنگ کی طرف لوٹ گیا۔ حوثیوں نے 2022 میں جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جو بی بی سی کے مطابق جولائی میں ٹوٹ گئی۔

ستمبر میں لڑائی شدت اختیار کر گئی۔ بی بی سی کے مطابق حوثیوں نے مغربی ساحل اور باب المندب آبنائے کے علاقے پر قبضہ کر لیا، جو یورپ اور ایشیا کے درمیان جہاز رانی کا ایک اہم راستہ ہے۔ اس کے بعد سے سعودی عرب نے حوثی ٹھکانوں پر بمباری کی ہے، اور حوثیوں نے مملکت پر حملوں میں اضافہ کیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق 10 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حوثی حملے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے۔ بی بی سی نے اسے تقریباً ایک دہائی میں سعودی سرزمین پر ہونے والا سب سے مہلک حملہ قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے 1,600 سے زائد ہلاکتیں ریکارڈ ہو چکی ہیں۔

آگے کیا ہوگا

ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ اتحاد یا حوثی مزید مذاکرات یا جنگ بندی کے اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں یا نہیں۔ کسی بھی فریق نے مذاکرات کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ یکم نومبر کے حملوں میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار کسی آزاد ادارے نے جاری نہیں کیے، اور جن ذرائع کا جائزہ لیا گیا ان میں سعودی قیادت والے اتحاد نے رأس عیسیٰ کے حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 1 نومبر، 2026حوثیوں کا دعویٰ: سعودی حملوں نے یمن کی حدیدہ بندرگاہ کو نشانہ بنایا
  2. 1 نومبر، 2026سعودی عرب نے جنوب مغرب میں حوثی حملے کے بعد ہنگامی الرٹ ختم کر دیے
  3. 1 نومبر، 2026محاصرے کے دوران تعز کے زیادہ تر ہسپتال بند، گورنر کا دعویٰ
  4. 1 نومبر، 2026سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی علاقے کی جانب داغا گیا حوثی بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج