Skip to content
Zenga News

حوثیوں کا ریاض اور دمام کے ہوائی اڈوں پر میزائل حملوں کا دعویٰ؛ اتحاد کے مطابق دو میزائل تباہ کیے گئے

حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریاض اور دمام کے ہوائی اڈوں اور نجران میں ایک فوجی مقام کو نشانہ بنایا۔ سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے ریاض کی طرف داغے گئے دو балستک میزائل روک لیے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: King Khalid International Airport, Riyadh, Saudi Arabia
File photo: King Khalid International Airport, Riyadh, Saudi Arabia تصویر: Kharbaan Ghaltaan / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

ریاض — حوثی تحریک نے 29 اکتوبر کو کہا کہ اس نے ریاض اور دمام کے ہوائی اڈوں اور نجران میں ایک فوجی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔ سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل مار گرائے۔

حوثیوں کا یہ دعویٰ الجزیرہ عربی کے ٹیلیگرام چینل پر ایک پوسٹ کے ذریعے سامنے آیا۔ پوسٹ کے ساتھ بریکنگ نیوز کی سرخی تھی جس میں بیان کو انصاراللہ کے فوجی ترجمان سے منسوب کیا گیا تھا۔ انصاراللہ حوثی تحریک کا باقاعدہ نام ہے۔ دستیاب پوسٹ کے متن میں ترجمان کا نام نہیں لیا گیا اور نہ ہی استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی تفصیل دی گئی ہے۔ الجزیرہ کی ٹیلیگرام پوسٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اتحاد کا مؤقف

مڈل ایسٹ آئی نے ایک لائیو بلاگ اپڈیٹ میں رپورٹ کیا کہ اتحاد نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے دو بیلسٹک میزائلوں کو "روک کر تباہ کر دیا"۔ اس آؤٹ لیٹ نے یہ رپورٹ سعودی پریس ایجنسی سے منسوب کی۔ اس کے مطابق حوثیوں نے میزائل سعودی دارالحکومت ریاض کی طرف داغے تھے۔

دونوں بیانات ریاض پر آ کر ملتے ہیں۔ حوثی بیان شہر کے ہوائی اڈے کا ذکر کرتا ہے۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق اتحاد کا بیان دارالحکومت کی طرف داغے گئے میزائلوں کا ذکر کرتا ہے۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ میزائل کس ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے تھے۔

کیا تصدیق شدہ نہیں ہے

دستیاب مواد میں کئی نکات واضح نہیں ہیں:

  • آیا حوثی دعویٰ اور اتحاد کی جانب سے میزائل روکنے کا بیان ایک ہی حملوں سے متعلق ہیں۔
  • آیا کوئی پروجیکٹائل ریاض ایئرپورٹ، دمام ایئرپورٹ یا نجران کے مقام تک پہنچا۔
  • آیا اتحاد یا سعودی حکام نے دمام یا نجران کے بارے میں کوئی بیان دیا ہے۔
  • آیا کوئی جانی نقصان ہوا یا کوئی نقصان پہنچا۔
  • آیا کسی بھی ہوائی اڈے پر پروازیں متاثر ہوئیں۔

فراہم کردہ کسی بھی ذریعے میں نہیں بتایا گیا کہ حوثیوں کے مطابق انہوں نے کتنے میزائل یا دیگر پروجیکٹائل داغے۔ نجران میں کس نوعیت کے فوجی مقام کو نشانہ بنایا گیا، یہ بھی واضح نہیں۔ زیرِ جائزہ مواد میں سعودی حکام کی جانب سے تینوں مقامات پر حوثی حملوں کے دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

ذرائع اور وقت

مڈل ایسٹ آئی نے اپنی اپڈیٹ 29 اکتوبر کو 19:54 UTC پر شائع کی۔ الجزیرہ عربی کی ٹیلیگرام پوسٹ اسی دن 19:56 UTC پر سامنے آئی۔ دونوں رپورٹیں ایک دوسرے کے چند منٹ کے اندر منظرِ عام پر آئیں۔

پس منظر

رپورٹوں میں جس اتحاد کا ذکر ہے اس کی قیادت سعودی عرب کر رہا ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس کے بیانات سعودی پریس ایجنسی نشر کرتی ہے۔ حوثیوں کو انصاراللہ بھی کہا جاتا ہے۔ ریاض سعودی دارالحکومت ہے۔ دمام اور نجران بھی حوثی بیان میں ذکر کیے گئے سعودی مقامات ہیں۔

اگر سعودی حکام، اتحاد یا حوثی ہدف، نقصان یا جانی نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات دیتے ہیں تو اس رپورٹ کو اپڈیٹ کرنا ہوگا۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج