ایران کا کہنا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں دو ٹینکروں کو روکا
آئی آر جی سی نیوی کا کہنا ہے کہ دونوں جہازوں نے اپنے نیویگیشن سسٹم بند کر دیے تھے اور غیر مجاز راستے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے تھے، انادولու ایجنسی کے مطابق۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
آبنائے ہرمز — ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو ٹینکروں کو روکا ہے، یہ بات 30 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کہی گئی۔
انادولو نے رپورٹ کیا کہ آئی آر جی سی نیوی نے جہازوں کو روکنے کی دو وجوہات بیان کیں۔ اس کے مطابق جہازوں نے اپنے نیویگیشن سسٹم بند کر دیے تھے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے غیر مجاز راستے استعمال کرنے کی کوشش کی۔
اس رپورٹ کی تمام تفصیلات انادولو کے اسی ایک مضمون سے لی گئی ہیں۔ زینگا نیوز نے اس موقف کی آزادانہ تصدیق نہیں کی، اور دستیاب مواد میں ٹینکروں کے مالکان، آپریٹرز یا پرچم والی ریاستوں کا کوئی جواب شامل نہیں ہے۔
ماخذ میں کیا نہیں بتایا گیا
انادولو کے خلاصے میں دونوں ٹینکروں کے نام نہیں بتائے گئے۔ اس میں ان کی قومیت، ان پر لدے سامان یا ان کو چلانے والی کمپنیوں کا ذکر نہیں ہے۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ آبنائے میں کس مقام پر اور کس وقت انہیں روکا گیا۔
مواد میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ روکے جانے کے بعد جہازوں کے ساتھ کیا ہوا۔ ماخذ سے واضح نہیں کہ ٹینکروں کو حراست میں لیا گیا، ان کا راستہ بدلا گیا، ان کی جانچ کی گئی یا انہیں رہا کیا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ کسی عملے کے رکن پر کوئی اثر پڑا یا نہیں۔
خلاصے میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ایران کن راستوں کو غیر مجاز سمجھتا ہے، یا آئی آر جی سی نیوی کس اختیار کے تحت ان راستوں کا تعین اور ان پر عمل درآمد کرتی ہے۔ انادولو کے خلاصے میں اس بات کی مزید تفصیل نہیں کہ آئی آر جی سی نیوی کی مراد جہازوں کے نیویگیشن سسٹم "بند" کرنے سے کیا تھی۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ دعویٰ ٹریکنگ ڈیٹا پر مبنی ہے یا ایرانی افواج کے مشاہدے پر۔
ردعمل
ماخذ میں دیگر حکومتوں، شپنگ کمپنیوں یا سمندری تنظیموں کا کوئی ردعمل شامل نہیں ہے۔ اس میں امریکہ، اسرائیل یا خلیجی ریاستوں کا کوئی تبصرہ بھی نہیں ہے۔ لہٰذا آئی آر جی سی نیوی کے بیان پر کسی بھی ردعمل کی اس مرحلے پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
پس منظر
انادولو کے ویب ایڈریس کے مطابق یہ رپورٹ اس کے امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ سے متعلق سیکشن میں شائع ہوئی۔ زینگا نیوز کو فراہم کیے گئے مواد میں اس تنازع کی وضاحت نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ اس واقعے سے کیسے جڑا ہے۔ اس لیے یہ رپورٹ دونوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں جوڑتی۔
انادولو کی رپورٹ میں جس آبی گزرگاہ کو واقعے کا مقام بتایا گیا ہے وہ آبنائے ہرمز ہے۔ ماخذ میں وہاں کی جہاز رانی کی صورتحال کے بارے میں مزید معلومات نہیں ہیں، اور زینگا نیوز نے فراہم کردہ مواد سے باہر کی تفصیلات شامل نہیں کی ہیں۔
آئی آر جی سی نیوی اسلامی انقلابی گارڈ کور کی سمندری شاخ ہے، جسے انادولو اس دعوے کا ماخذ قرار دیتی ہے۔ ایجنسی یہ بیان خود اس فورس سے منسوب کرتی ہے۔ اس نے کسی آزاد گواہ، جہاز رانی کے ڈیٹا یا سیٹلائٹ تصاویر کا حوالہ نہیں دیا۔
زینگا نیوز آئی آر جی سی نیوی، ٹینکروں کے آپریٹرز یا دیگر ذرائع سے مزید معلومات دستیاب ہونے پر اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟