Skip to content
Zenga News

ایرانی وفد دوحہ پہنچ گیا، عراقچی نے امریکی پیش رفت کو "مثبت قدم" قرار دے دیا

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو بتایا کہ مشاورت کے لیے ایک ایرانی وفد قطر میں ہے۔ ان کے مطابق تہران اس وقت امریکی حکام سے ملاقات کی ضرورت نہیں سمجھتا۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 5 منٹ مطالعہ
File photo: Skyline, Doha, Katar
File photo: Skyline, Doha, Katar تصویر: Zairon / Wikimedia Commons · CC BY 4.0

دوحہ — وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز الجزیرہ کو بتایا کہ مشاورت کے لیے ایک ایرانی وفد دوحہ پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق ان کا ایک معاون قطر میں موجود ہے، اور یہ قدم قطری ثالثوں کے تہران کے دورے کے ایک دن بعد اٹھایا گیا ہے۔

عراقچی نے امریکہ کی جانب سے مذاکرات کا دروازہ کھولنے کی حالیہ کوشش کو "مثبت قدم" قرار دیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران اس مرحلے پر امریکی حکام سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتا۔ الجزیرہ کے مطابق دونوں ملک آٹھ ماہ سے جنگ کی حالت میں ہیں۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

عراقچی کا موقف

عراقچی نے کہا کہ ایرانی حکام نے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں امریکی نائب صدر جے ڈی وانس کے خط کا جائزہ لیا۔ ان کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط بھی پیش کی ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق آبنائے کی بحالی واشنگٹن کے ساتھ نئے مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی۔

انہوں نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا: "امریکی جانب سے مکالمے اور وسیع تر تفہیم کا دروازہ کھولنے کی کوشش ایک مثبت قدم ہے۔"

انہوں نے ایک انتباہ بھی دیا۔ "اگر اس خط کو بھیجنے کا واشنگٹن کا مقصد اختلاف پیدا کرنا ہے تو یہ اس کی پچھلی غلطیوں میں ایک اور غلطی کا اضافہ ہوگا۔"

عراقچی نے ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان آئندہ ملاقاتوں سے متعلق رپورٹوں کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا: "اس سلسلے میں جو باتیں گردش کر رہی ہیں وہ محض میڈیا قیاس آرائی ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایران "اس مرحلے پر امریکیوں سے ملاقات کی ضرورت نہیں" سمجھتا، اور ثالث تہران کی شرائط پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق ایران امریکہ کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات میں شریک ہوگا یا نہیں، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ان شرائط کو پورا کیا جاتا ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق قطری اور پاکستانی ثالث ان شرائط پر مشاورت کر رہے ہیں۔

جوہری معاملے پر عراقچی نے کہا کہ ثالثوں نے ایسی تجاویز پیش کی ہیں جن کا ایران "دوسرے مرحلے" کے حصے کے طور پر جائزہ لے رہا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے ان تجاویز کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

آبنائے ہرمز کی تجویز

عراقچی کے مطابق قطری ثالثوں کے ساتھ بات چیت سے ایران کی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز پر عمل درآمد کے لیے درکار وقت کم ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق قطری فریق نے عمل درآمد کی مدت پانچ دن تجویز کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب فریقین اس مرحلے پر ایک ایسی تجویز پر پہنچ گئے ہیں جو یہ مدت کم کر کے دو دن کر دیتی ہے۔

انہوں نے ایران کی کئی شرائط گنوائیں۔ ان میں اس معاہدے کے بعد عائد پابندیاں اٹھانا شامل ہے جسے انہوں نے "اسلام آباد یادداشت" کہا، اور خطے میں امریکی افواج کی تعداد کم کرنا شامل ہے۔ ان کے مطابق ایران تیل کی چھوٹ بحال کرنے اور قطر میں رکھے گئے فنڈز سمیت اپنے تمام منجمد فنڈز جاری کرنے کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔

عراقچی کے مطابق ایران آبنائے میں جہاز رانی کے ان راستوں کو تسلیم کرانا چاہتا ہے جن پر اس نے عمان کے ساتھ بات چیت کی ہے، اور دیگر راستوں کی بندش بھی۔

عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران پر حملے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ الجزیرہ کے انٹرویو کے خلاصے کے مطابق انہوں نے ایران کو ہر صورت حال کے لیے تیار قرار دیا۔ اس رپورٹ کے لیے دستیاب متن ان کے مکمل بیان سے پہلے ختم ہو گیا۔

تجزیہ کار اور نامہ نگار

روزبے پارسی، جو ایران کے تجزیہ کار ہیں اور لُنڈ یونیورسٹی کے شعبۂ تاریخ اور انسانی حقوق کے مطالعات سے منسلک محقق ہیں، نے جمعے کے روز تہران میں ہونے والی بات چیت پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ کسی بھی پیش رفت کا امکان زیادہ تر "ابتدائی اقدامات کی ترتیب" پر ہے، جو "کم سے کم اعتماد قائم کرنے کے لیے درکار ہیں، جن کے بغیر مزید جرأت مندانہ اقدامات ممکن نہیں"۔

الجزیرہ کے نامہ نگار ریسول سردار آتاس نے تہران سے رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے موقف میں "کوئی قابل ذکر لچک نہیں" ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات جاری ہیں مگر تہران وہی مطالبات دہرا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران آبنائے کو دوبارہ کھولے، اور دونوں فریق چاہتے ہیں کہ ان کے مطالبات زمینی حقائق کی صورت میں پورے ہوں، نہ کہ صرف کاغذ پر۔

سوشل میڈیا رپورٹس

الجزیرہ کے عربی نیوز چینلز نے ہفتے کے روز ٹیلیگرام پر پوسٹس میں اہم نکات پیش کیے۔ ایک پوسٹ میں الجزیرہ عربی چینل نے کہا کہ عراقچی نے نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ایک ایرانی وفد دوحہ گیا ہے اور ان کا معاون مشاورت جاری رکھنے کے لیے قطر میں ہے۔ ایک اور پوسٹ میں الجزیرہ مباشر چینل نے ان کے حوالے سے کہا کہ ایران نے وانس کے خط کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ چینل کے مطابق انہوں نے مذاکرات کا دائرہ وسیع کرنے کی امریکی کوشش کو مثبت قدم قرار دیا۔ یہ پوسٹس الجزیرہ کی انگریزی رپورٹ میں دیے گئے موقف سے مطابقت رکھتی ہیں۔

جن باتوں کی تصدیق نہیں ہوئی

ذرائع ایرانی وفد کے ارکان کے نام نہیں بتاتے، اور نہ ہی یہ بتاتے ہیں کہ وہ دوحہ میں کتنے دن رہے گا۔ ان میں وانس کے خط کے مندرجات بھی نہیں بتائے گئے۔ رپورٹس یہ نہیں بتاتیں کہ امریکہ نے دو دن کی عمل درآمد کی تجویز قبول کی ہے یا اس کا جواب دیا ہے۔ نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ واشنگٹن نے عراقچی کے بیانات پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔ مذاکرات کی تفصیلات کا بنیادی ماخذ عراقچی کے بیانات ہیں، اور کسی امریکی یا قطری عہدیدار کا حوالہ نہیں دیا گیا۔

پس منظر

آتاس کے مطابق امریکہ اور ایران نے جون میں ایک یادداشت مفاہمت پر دستخط کیے تھے۔ اس کے تحت واشنگٹن نے تیل کی چھوٹ کی ضمانت دی تھی اور کہا تھا کہ وہ ایرانی تیل کی برآمدات پر مزید کوئی پابندی نہیں لگائے گا۔ ان کے مطابق یہ یادداشت کئی ماہ بعد ٹوٹ گئی، اور امریکہ نے تمام چھوٹیں منسوخ کر دیں۔

آتاس کے مطابق ایران اپنے منجمد اثاثے جاری کرنے کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں قطر میں رکھے گئے 6 ارب ڈالر بھی شامل ہیں۔ وہ پابندیاں اٹھانے کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق ان پابندیوں میں توانائی اور جوہری شعبوں پر عائد اقدامات، اور وہ پابندیاں شامل ہیں جو یادداشت ٹوٹنے کے بعد لگائی گئیں، اور جن سے ان کے بقول ایرانی معیشت پر شدید دباؤ پڑا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق جمعے کے روز قطری ثالث ایک ایسی کوشش کے تحت تہران میں موجود تھے جس کا مقصد بظاہر امریکہ-ایران جنگ بندی کی بحالی پر مذاکرات تھے۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج