Skip to content
Zenga News

ایران نے آبنائے ہرمز اور خلیجی پانیوں پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا

ایران کے مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور خلیجِ عمان فوجی کنٹرول میں ہیں، انڈونیشی خبر رساں ادارے انتارا نے ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے IRIB کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 4 منٹ مطالعہ

تہران — ایران کے مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی نے پیر، 26 اکتوبر کو کہا کہ آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور خلیجِ عمان مکمل طور پر ایران کی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہیں، انڈونیشی خبر رساں ادارے انتارا کے مطابق۔

انتارا کے مطابق بیان ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے IRIB سے نقل کیا گیا۔ یہ رپورٹ صرف انتارا پر انحصار کرتی ہے۔ زنگا نیوز نے ان بیانات یا آبی گزرگاہ کی صورتحال کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

عبداللہی نے کیا کہا

انتارا کے مطابق عبداللہی نے اس علاقے کی حد بیان کی جس پر، ان کے بقول، ایران کنٹرول رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا: "پورا خلیج فارس اور اس میں موجود جزائر، خلیجِ عمان اور اس کا ساحل، نیز آبنائے ہرمز کے مشرقی اور مغربی حصے، اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہیں۔" انتارا کی انڈونیشی زبان میں شائع ہونے والی رپورٹ میں درج یہ بیان یہاں ترجمہ کرکے پیش کیا گیا ہے۔

انھوں نے اس کے بعد بحری ٹریفک کے بارے میں کہا: "جب تک آبنائے ہرمز بند ہے، ایرانی احکامات کے دائرہ کار سے باہر اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے کسی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔" عبداللہی نے کہا، انتارا کے مطابق۔

انتارا نے یہ بھی بتایا کہ عبداللہی نے ان جہازوں کو خبردار کیا جو ایران کی طے کردہ راستوں سے باہر سفر کرنے کی کوشش کریں گے۔ ایجنسی کے بیان کے مطابق ایسے جہازوں کو خطرے کا سامنا ہوگا اور انھیں شدید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ راستے کون سے ہیں، ان پر کون عمل درآمد کرائے گا، یا نقصان کی نوعیت کیا ہوگی۔

رپورٹ میں کیا نہیں بتایا گیا

انتارا کی رپورٹ مختصر ہے اور کئی نکات واضح نہیں کرتی۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایران نے آبنائے کو کب بند قرار دیا، یا آیا ایرانی حکام نے بحری ٹریفک کے لیے کوئی باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اس میں یہ وضاحت نہیں کہ ایران بیان کردہ شرائط پر عمل درآمد کیسے کرائے گا۔ اس میں ان جہازوں کی تعداد کے بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں دیے گئے جنھیں روکا گیا، واپس بھیجا گیا یا ایرانی ہدایات کے تحت گزرنے دیا گیا۔

رپورٹ میں عبداللہی کے بیانات پر امریکہ، اسرائیل یا خلیجی ریاستوں کا ردعمل بھی شامل نہیں۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ شپنگ کمپنیوں یا سمندری حکام نے کوئی تبصرہ کیا ہے یا نہیں۔

انتارا کی رپورٹ کے ساتھ 10 ستمبر 2026 کو انادولو کے فوٹوگرافر فاطمہ بہرامی کی لی ہوئی ایک تصویر شائع کی گئی۔ کیپشن کے مطابق اس تاریخ کو ایران اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے کئی تجارتی جہاز ایران کے شہر بندر عباس کے قریب آبنائے ہرمز میں لنگرانداز تھے۔

انتارا کی شامل کردہ متعلقہ رپورٹس

انتارا نے اپنی رپورٹ میں دیگر مضامین کے روابط بھی شامل کیے ہیں۔ ان مضامین کی سرخیاں گردش کرنے والے دیگر دعووں کی نشاندہی کرتی ہیں، تاہم ان کا مواد اس رپورٹ کے جائزے میں شامل نہیں تھا اور اسے یہاں مستند نہیں سمجھا جا سکتا۔

ایک سرخی کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ مکمل طور پر بدل جائے گا۔ دوسری سرخی کے مطابق امریکی فوج نے کہا ہے کہ 95 فیصد سے زیادہ جہاز آبنائے ہرمز سے محفوظ طور پر گزرے۔ تیسری سرخی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب اسلامی (IRGC) نے بتایا کہ ایک ٹینکر سرنگ سے ٹکرا گیا اور آبنائے میں آگ لگ گئی۔ انتارا کی پیش کردہ سرخیوں کے مطابق پہلی اور تیسری سرخی ایرانی ذرائع سے ہیں، جبکہ دوسری امریکی فوج کی طرف سے ہے۔ ان سرخیوں میں بیان کردہ جہازرانی کی حفاظت سے متعلق دونوں مؤقف لہجے میں مختلف ہیں۔ زنگا نیوز نے ان متعلقہ مضامین کا جائزہ نہیں لیا ہے۔

پس منظر

انتارا کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں اہداف پر حملے شروع کیے، اور ایران نے جوابی کارروائی کی۔ ایجنسی نے ان اہداف، حملوں کے پیمانے یا ایران کے جواب کی تفصیل نہیں بتائی۔

انتارا نے بتایا کہ جون کے وسط میں ایران اور امریکہ نے جنگ بندی کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس کے بعد دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر دوبارہ حملے شروع کر دیے۔ ایجنسی نے ان بعد کے حملوں کی تفصیلات نہیں دیں۔

انتارا کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع حل طلب ہے۔

ایجنسی کے مطابق ایران کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز عملی طور پر، یعنی اس کے الفاظ میں "de facto"، ناکہ بندی کا شکار ہے۔ اس نے یہ نہیں بتایا کہ ناکہ بندی کس نے عائد کی یا یہ کب شروع ہوئی۔

انتارا نے آبنائے ہرمز کو خلیجی ریاستوں سے تیل اور مائع قدرتی گیس کی عالمی منڈیوں تک ترسیل کا ایک اہم راستہ قرار دیا۔ اس کے مطابق اس آبی گزرگاہ میں خلل نے خطے میں تیل کی برآمد اور پیداوار کی سطح کو بھی متاثر کیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ رپورٹ میں قیمتوں کے اعداد، برآمدی حجم یا ان اثرات کی تاریخوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔

انتارا کا یہ مضمون یوآنیتا ہاسٹریکا جوہان نے ترجمہ کیا اور فرانسسکا نِنڈیتیا نے اس میں ترمیم کی۔

ایران کے کنٹرول کا عملی طور پر کیسے اطلاق ہو رہا ہے اور آیا جہازوں کو ایرانی ہدایات کے تحت گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، اس کی تصدیق کے لیے ایرانی حکام، امریکی حکومت یا شپنگ حکام کے مزید بیانات درکار ہوں گے۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج