Skip to content
Zenga News

اقوام متحدہ کے ماہرین نے اسرائیل پر مغربی کنارے کے زیتون کاشتکاروں کے تحفظ پر زور دیا

اقوام متحدہ کے حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زیتون کی کٹائی کے دوران آبادکاروں کے حملے بڑھ رہے ہیں اور انہوں نے اسرائیل سے فلسطینی کاشتکاروں کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل میں انتخابات 27 اکتوبر کو ہونے والے ہیں۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: This is the other side of the monument, The top has a part of verse 35 of Surah (24) An-Noor which describes the blessed olive tree, its the same from the front side other than that, the left side has an image of an olive tree, the right
File photo: This is the other side of the monument, The top has a part of verse 35 of Surah (24) An-Noor which describes the blessed olive tree, its the same from the front side other than that, the left side has an image of an olive tree, the right تصویر: Monkeymoon69 / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

جنیوا — اقوام متحدہ کے حقوق کے ماہرین نے پیر کے روز اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے میں فلسطینی کاشتکاروں کا تحفظ کرے، کیونکہ سالانہ زیتون کی کٹائی کے دوران آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بات عرب نیوز کے مطابق کہی گئی ہے۔

ماہرین نے ایک بیان میں کہا، "فلسطینی کاشتکاروں کا تحفظ کیا جانا چاہیے اور انہیں اپنی زمین تک محفوظ رسائی حاصل ہونی چاہیے۔ مگر سال بہ سال تشدد، تباہی اور پابندیاں شدت اختیار کر رہی ہیں۔"

ماہرین نے کہا کہ کٹائی کا موسم ایسا وقت ہونا چاہیے جب کاشتکار اپنی زمین پر محفوظ اور باوقار طریقے سے کام کر سکیں۔ انہوں نے موجودہ موسم کو خوف، نقصان، تشدد اور تباہی کا موسم قرار دیا۔

ماہرین نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ یقینی بنائے کہ اس کی فورسز آبادکاروں کے حملوں سے فلسطینی کاشتکاروں کی حفاظت کریں۔ انہوں نے اسرائیل سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ کاشتکاروں کی زمین تک رسائی میں مداخلت بند کرے۔ ماہرین نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ "فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالے"۔

اقوام متحدہ کے انسانی امدادی ادارے OCHA کے مطابق مغربی کنارے میں 2025 کی زیتون کی کٹائی سے منسلک 178 آبادکار حملے ریکارڈ کیے گئے۔ ان حملوں سے 88 فلسطینی بستیاں متاثر ہوئیں۔ OCHA نے یہ بھی کہا کہ 6,000 سے زائد درختوں اور پودوں کو "توڑ پھوڑ کا نشانہ" بنایا گیا۔ ادارے کے مطابق یہ تعداد 2024 میں ریکارڈ کی گئی تعداد سے تقریباً دگنی ہے اور گزشتہ چھ برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔

ماہرین نے نقصان کے طویل مدتی اثرات سے خبردار کیا۔ "زیتون کے درختوں کو پختہ ہونے میں کئی برس لگتے ہیں اور وہ نسلوں تک خاندانوں کی کفالت کر سکتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ درختوں کی تباہی ایک سے زائد فصلوں پر اثر ڈالتی ہے۔ اس سے مقامی غذائی نظام، ثقافتی روایات اور فلسطینی کمیونٹیز کے خوراک کے حق پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔

اس بیان پر سات ماہرین نے دستخط کیے ہیں۔ ان میں خوراک کے حق سے متعلق خصوصی نمائندہ صوفیہ مونسالو سوارez اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق سے متعلق خصوصی نمائندہ فرانچیسکا البانیز شامل ہیں۔ عرب نیوز نے رپورٹ کیا کہ خصوصی نمائندے انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ آزاد ماہرین ہیں۔ وہ خود اقوام متحدہ کی نمائندگی نہیں کرتے۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا اسرائیل نے اس بیان پر کوئی ردعمل دیا ہے۔ اس میں درختوں سے متعلق OCHA کے اعداد و شمار کے علاوہ فلسطینی ہلاکتوں یا املاک کے نقصان کا کوئی اندازہ بھی نہیں دیا گیا۔

پس منظر

عرب نیوز کے مطابق اسرائیل 1967 سے مغربی کنارے پر قابض ہے۔ اس علاقے میں تقریباً 5 لاکھ اسرائیلی اور 30 لاکھ فلسطینی آباد ہیں، جیسا کہ اس ادارے نے بتایا۔

عرب نیوز نے رپورٹ کیا کہ 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات سے پہلے مغربی کنارے میں تشدد بڑھ رہا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ ووٹنگ فلسطینی زیتون کی کٹائی کے موسم میں ہو رہی ہے، جس میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے بارہا خلل ڈالا گیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو اپنے دائیں بازو کے حامیوں، بشمول آبادکاری کے حامی ووٹرز، کی حمایت مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ میں اس سیاسی دعوے کا کوئی ذریعہ نہیں دیا گیا۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 19 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ جیسی تباہی کبھی نہیں دیکھی
  2. 19 اکتوبر، 2026Europe's ties with Israel fray ahead of October 27 election
  3. 19 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ کے ماہرین نے اسرائیل پر مغربی کنارے کے زیتون کاشتکاروں کے تحفظ پر زور دیا
  4. 19 اکتوبر، 2026مغربی کنارے میں بھوک کے بحران سے متعلق ڈبلیو ایف پی کا انتباہ

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج