Skip to content
Zenga News

سعودی عرب نے ریاض اور الخرج میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا، ابتدائی انتباہی الرٹ کے بعد

سعودی سivil ڈیفنس نے انادولو ایجنسی کے مطابق ابتدائی انتباہ کے بعد دارالحکومت اور الخرج صوبے میں خطرہ ٹل جانے کی اطلاع دی۔ اس نے رہائشیوں سے اجتماعات اور فلم بندی سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: A picture of the the Riyadh skyline, taken from the Diplomatic Quarter
File photo: A picture of the the Riyadh skyline, taken from the Diplomatic Quarter تصویر: Thesadcactus / Wikimedia Commons · CC BY-SA 4.0

ریاض — سعودی حکام نے پیر کے روز کہا کہ ریاض اور الخرج صوبے میں خطرہ ٹل گیا ہے، جہاں دونوں علاقوں کے لیے ابتدائی انتباہی الرٹ جاری کیے گئے تھے، انادولو ایجنسی کے مطابق۔

سعودی سivil ڈیفنس نے یہ تازہ اطلاع سماجی رابطے کی پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں جاری کی، انادولو نے رپورٹ کیا۔ ایجنسی کے مطابق بیان میں رہائشیوں پر زور دیا گیا کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور "اجتماع اور فلم بندی سے گریز" کریں۔

بیان میں کیا کہا گیا

انادولو کے مطابق یہ اعلان ان پہلے کے الرٹ کے بعد سامنے آیا، جن میں حکام نے دونوں علاقوں میں خطرے سے خبردار کیا تھا۔ ایجنسی کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ الرٹ کب جاری ہوئے یا کب ختم ہوئے۔ رپورٹ میں اعلان کی تاریخ 19 اکتوبر 2026 دی گئی ہے۔

انادولو نے سivil ڈیفنس کے پیغام کو دو حصوں پر مشتمل بیان کیا: خطرہ ٹلنے کی اطلاع، اور عوام کے لیے رہنمائی۔ رہنمائی میں لوگوں کو سرکاری ہدایات پر عمل کرنے اور جمع ہونے یا فلم بندی نہ کرنے کو کہا گیا۔

کیا تصدیق شدہ نہیں ہے

انادولو کی رپورٹ، جو اس واقعے کے بارے میں واحد ماخذ ہے، خطرے کی نوعیت بیان نہیں کرتی جس کی وجہ سے الرٹ جاری ہوئے۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ریاض یا الخرج میں کوئی واقعہ پیش آیا، کوئی چیز روکی گئی، یا کسی قسم کا نقصان یا جانی نقصان ہوا۔

رپورٹ میں کسی اور سعودی عہدیدار کا حوالہ نہیں دیا گیا، اور حوثی گروپ کا مؤقف بھی شامل نہیں۔ زینگا نیوز نے سivil ڈیفنس کے بیان یا الرٹ کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔

پس منظر

انادولو کے مطابق یہ انتباہ سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران جاری ہوئے۔ ایجنسی نے کہا کہ اس میں مملکت کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرون حملے شامل ہیں۔ رپورٹ میں مخصوص حملوں، تاریخوں یا مقامات کی تفصیل نہیں دی گئی، اور یہ نہیں بتایا گیا کہ پیر کے الرٹ کا کسی ایسے حملے سے تعلق تھا یا نہیں۔

انادولو کے خلاصے میں کہا گیا کہ کشیدگی بڑھنے کے ساتھ سivil ڈیفنس رہائشیوں سے سرکاری ہدایات پر عمل، اجتماعات سے گریز اور فلم بندی نہ کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایجنسی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ حکام نے لوگوں کو فلم بندی سے کیوں منع کیا۔

انادولو کی رپورٹ میں الخرج کو دارالحکومت ریاض کے ساتھ ایک صوبے کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ ایجنسی نے اس علاقے کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

زینگا نیوز سعودی حکام، سivil ڈیفنس یا دیگر ذرائع کی جانب سے الرٹ اور ان کی وجہ کے بارے میں مزید معلومات فراہم کیے جانے پر اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج