اقوام متحدہ: افغانستان میں اس موسمِ سرما میں 19.2 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کریں گے
اقوام متحدہ کے انسانی امدادی ادارے OCHA کے مطابق، جیسا کہ عرب نیوز نے رپورٹ کیا، سرما کے کمزور موسم کے دوران افغانستان میں شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار افراد کی تعداد بڑھ کر 19.2 ملین ہو جائے گی۔

جنیوا — اقوام متحدہ نے منگل کے روز کہا ہے کہ سرما کے کمزور موسم کے دوران افغانستان میں شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 19.2 ملین ہونے کا امکان ہے، جیسا کہ عرب نیوز نے رپورٹ کیا ہے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ان میں سے پانچ ملین افراد کو ہنگامی سطح کی بھوک کا سامنا ہونے کی توقع ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق کمزور موسم نومبر سے اپریل تک جاری رہتا ہے۔
اقوام متحدہ کا بیان
OCHA کے افغانستان کے لیے ترجمان اولگا چیریوکو نے جنیوا میں ایک پریس بریفنگ کے دوران یہ اعداد و شمار پیش کیے، جیسا کہ عرب نیوز نے رپورٹ کیا۔
چیریوکو نے کہا: "شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 19.2 ملین ہونے کا امکان ہے، جن میں سے پانچ ملین افراد کو ہنگامی سطح کی بھوک کا سامنا ہونے کی توقع ہے۔" یہ بات عرب نیوز کے حوالے سے بتائی گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق، انہوں نے ہنگامی سطح کو "قحط سے ایک قدم دور" قرار دیا۔
یہ اعداد و شمار تخمینے ہیں۔ عرب نیوز نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تعداد پہلے ہی پوری ہو چکی ہے۔ اس کے مطابق توقع ہے کہ یہ صورتحال نومبر سے اپریل تک کمزور موسم پر لاگو ہوگی۔
رپورٹ میں کیا نہیں بتایا گیا
عرب نیوز کی یہ رپورٹ مختصر ہے اور اقوام متحدہ کے اندازے تک پہنچنے کے طریقے کے بارے میں مزید تفصیل نہیں دیتی۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ متوقع اضافے کی وجہ کیا ہے، اور نہ ہی پچھلے سالوں سے موازنہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کون سے صوبے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ اس میں OCHA یا دیگر امدادی اداروں کو ملنے والی یا درکار مالی امداد کا ذکر نہیں ہے۔
عرب نیوز نے افغان حکام یا دیگر امدادی تنظیموں کا ردِعمل شامل نہیں کیا۔ زینگا نیوز نے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔ اس رپورٹ کی تمام تفصیلات عرب نیوز کے جنیوا بریفنگ کے بیان سے منسوب ہیں۔
پس منظر
شدید غذائی عدم تحفظ وہ اصطلاح ہے جو بریفنگ میں اقوام متحدہ نے استعمال کی، جیسا کہ عرب نیوز نے رپورٹ کیا۔ ادارے کے مطابق، ہنگامی سطح کی بھوک، جس تک پانچ ملین افراد کے پہنچنے کی توقع ہے، چیریوکو کے الفاظ میں قحط سے ایک قدم نیچے ہے۔
OCHA، جس کی جانب سے چیریوکو افغانستان کے بارے میں بات کرتی ہیں، نے یہ بریفنگ جنیوا میں منعقد کی۔ عرب نیوز کی رپورٹ 20 اکتوبر 2026 کو شائع ہوئی، اور اس کے خلاصے کے مطابق یہ اندازہ سرما کے مہینوں پر محیط ہے۔
افغانستان کی خبروں پر نظر رکھنے والے قارئین کے لیے، ماخذ کے اہم نکات تین اعداد و شمار اور ایک مدت تک محدود ہیں: شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنے والے 19.2 ملین افراد، ان میں سے پانچ ملین کو متوقع ہنگامی بھوک، اور نومبر سے اپریل تک کمزور موسم۔ صورتحال کی پیش رفت اور اس اندازے میں تبدیلی جانچنے کے لیے OCHA یا اقوام متحدہ کے دیگر اداروں کی مزید معلومات درکار ہوں گی۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 18 اکتوبر، 2026پاکستانی فوج کی افغان سرحد پر فائرنگ کا جواب، سکیورٹی ذرائع
- 19 اکتوبر، 2026یورپی یونین نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں کی مذمت کی
- 20 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ: افغانستان میں اس موسمِ سرما میں 19.2 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کریں گے
- 20 اکتوبر، 2026Pakistan FM Dar urges Taliban to stop terror from Afghan soil
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟