پاکستانی فوج کی افغان سرحد پر فائرنگ کا جواب، سکیورٹی ذرائع
سکیورٹی ذرائع کے مطابق، جو انتارا کے حوالے سے سامنے آئے ہیں اور جنہیں شنہوا نے رپورٹ کیا، ہفتے کے روز خیبر پختونخوا میں افغان فورسز کی سرحد پر فائرنگ کے جواب میں پاکستانی فوج نے بھی فائر کیا۔
اسلام آباد — پاکستانی فوج نے ہفتے، 17 اکتوبر کو خیبر پختونخوا صوبے میں پاک-افغان سرحد کے ساتھ افغان فورسز کی فائرنگ کا جواب دیا، جیسا کہ انتارا کے حوالے سے سکیورٹی ذرائع نے بتایا، جس نے شنہوا کی رپورٹ شائع کی تھی۔
یہ موقف غیر نامزد سکیورٹی ذرائع کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ انتارا کی رپورٹ میں کسی نامزد اہلکار کا بیان یا فوج کا کوئی باضابطہ اعلامیہ نقل نہیں کیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا موقف
سکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ غیر ملکی عسکریت پسندوں کو پاکستانی علاقے میں داخل ہونے میں مدد دینے کے لیے کی گئی ہو سکتی تھی۔ انتارا نے رپورٹ کیا کہ ذرائع نے ان افراد کے لیے "دہشت گرد" کا لفظ استعمال کیا جنہیں، ان کے بقول، سرحد پار کرنا تھا۔ رپورٹ میں اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی دستوں نے فائرنگ کا جواب دیا اور سرحد کے افغان جانب کی کئی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔
ذرائع نے بتایا کہ اس جھڑپ میں کچھ مسلح افغان اہلکاروں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ انتارا کی رپورٹ میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد نہیں دی گئی اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ کیا پاکستانی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ افغان جانب کی ایک چوکی اور ایک اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق جوابی کارروائی میں اڈے کے تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد افغان فورسز اپنی سرحدی چوکی سے پیچھے ہٹ گئیں۔
انہی ذرائع کے مطابق رپورٹ تیار ہونے کے وقت اس علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج چوکس ہے اور ملک کی سرحد کے دفاع اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
کیا تصدیق شدہ نہیں ہے
یہ رپورٹ غیر نامزد ذرائع کے ایک ہی گروہ کے بیان پر مبنی ہے۔ فراہم کردہ مواد میں اس کی تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
انتارا کی تحریر میں افغان حکومت یا افغان فورسز کا ردِعمل شامل نہیں۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ افغان حکام لڑائی کے آغاز یا نشانہ بنائے جانے والے اہداف کے بارے میں اس موقف کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں۔
رپورٹ میں اس ضلع یا سرحدی گزرگاہ کا نام نہیں دیا گیا جہاں یہ تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے آغاز کا وقت بھی نہیں بتایا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کہ کتنی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا گیا، اور ہلاکتوں کی کسی تعداد کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ دعویٰ کہ فائرنگ غیر ملکی عسکریت پسندوں کے داخلے کو ممکن بنانے کے لیے کی گئی، صرف سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہے۔ ان عسکریت پسندوں کے بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
پس منظر
خیبر پختونخوا شمال مغربی پاکستان کا ایک صوبہ ہے۔ انتارا نے اس علاقے کو، جہاں یہ تبادلہ ہوا، پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع بیان کیا ہے۔
یہ رپورٹ شنہوا نے تحریر کی اور انتارا نے 18 اکتوبر 2026 کو شائع کی، یعنی مبینہ جھڑپوں کے ایک دن بعد۔ واقعات کا بیان انہی دو ذرائع کے ذریعے پہنچنے والے سکیورٹی ذرائع کے موقف پر مبنی ہے۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟