یونیسف کے مطابق غزہ میں ایک لاکھ سے زائد بچے...
یونیسف کے اندازے کے مطابق غزہ میں 60,000 بچے ایسے ہیں جنہوں نے جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی والدین میں سے ایک یا دونوں کو ہلاک ہوتے دیکھا ہے، انتاра کی رپورٹ کے مطابق۔

جنیوا — اقوام متحدہ کے بچوں کے ہنگامی فنڈ (یونیسف) نے منگل کے روز کہا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں 60,000 سے زائد بچے والدین میں سے ایک یا دونوں سے محروم ہو چکے ہیں، جن میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو جنگ بندی کے اعلان کے بعد محروم ہوئے۔ انتاра کی رپورٹ کے مطابق، ادارے کا کہنا ہے کہ علاقے میں انسانی صورتحال اب بھی نازک ہے۔
ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ یونیسف کے اندازے کے مطابق غزہ میں 60,000 بچوں نے جنگ کے دوران یا جنگ بندی کے بعد والدین میں سے ایک یا دونوں کو ہلاک ہوتے دیکھا ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک اندازہ ہیں۔ انتاра نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تعداد کیسے شمار کی گئی۔
ادارے نے یہ بھی کہا کہ جنگ بندی کے اعلان کے ایک سال سے زائد عرصے بعد بھی 340 سے زائد بچے ہلاک اور سینکڑوں مزید زخمی ہو چکے ہیں۔ انتاра نے ان اعداد و شمار کی وضاحت نہیں کی کہ یہ کن تاریخوں کا احاطہ کرتے ہیں یا ان کے ذرائع کیا ہیں۔
یونیسف کے مطابق تقریباً 800,000 بچے اب بھی بے گھر ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر خیموں یا بمباری سے تباہ شدہ عمارتوں میں رہتے ہیں۔
یونیسف نے کہا کہ علاقے میں انسانی ضروریات بہت زیادہ ہیں اور دستیاب فنڈز ناکافی ہیں۔ ادارے نے تنازع کے فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بندی کی شرائط کی پاسداری کریں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عمل کریں، اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
انتاра نے یہ بھی بتایا کہ اقوام متحدہ غزہ کی انسانی صورتحال کو اب بھی انتہائی تشویشناک قرار دیتا ہے۔ اقوام متحدہ نے وسیع پیمانے پر تباہی، طبی سہولیات میں خلل اور باشندوں تک خوراک اور بنیادی سامان کی رسائی میں رکاوٹوں کا حوالہ دیا۔ انتاра کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ جائزہ کس ادارے نے لیا یا کب لیا گیا۔
انتاра نے رپورٹ کیا کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی افواج غزہ میں حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، اور اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے اہداف عسکری تنصیبات اور حماس کے ارکان ہیں۔ انتاра نے لکھا کہ اسرائیلی فوج نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔ اسرائیلی فوج کا مؤقف انتاра کے بیان کے مطابق درج کیا گیا ہے اور اس رپورٹ میں اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
پس منظر
انتاра کے مطابق تنازع اکتوبر 2023 میں اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اسرائیل پر غزہ کی پٹی سے بڑے پیمانے پر حملہ ہوا۔ انتاра کے مطابق اس کے بعد اسرائیل نے زمینی کارروائی شروع کی جس سے علاقے کا بڑا حصہ بڑی حد تک تباہ ہو گیا۔
انتاра کے مطابق اکتوبر 2025 سے جنگ بندی نافذ ہے۔ انتاра نے رپورٹ کیا کہ اس دوران علاقے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہی ہیں۔
انتاра کی رپورٹ ایک ہی ذریعے پر مبنی ہے۔ اس بیان کے لیے دیگر اداروں کی خبروں کی جانچ نہیں کی گئی اور اعداد و شمار کی کسی دوسرے ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 20 اکتوبر، 2026MSF reports intimidation of Palestinians by settlers in West Bank
- 20 اکتوبر، 2026یونیسف کے مطابق غزہ میں ایک لاکھ سے زائد بچے...
- 20 اکتوبر، 2026اسرائیلی فائرنگ سے غزہ میں چار فلسطینی ہلاک، طبی ذرائع کا کہنا ہے
- 20 اکتوبر، 2026Jerusalem church leaders urge international community to protect Palestinians
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟