Skip to content
Zenga News

یورپی یونین نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں کی مذمت کی

یورپی یونین نے ایرینا نیوز کے مطابق افغانستان میں چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

Onur Irmako
Zenga News ایشیا ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: Le jardin de l'UNESCO, aménagé en 1958 par le sculpteur japonais Isamu Noguchi (1904-1988), a marqué son temps et influencé le domaine de l'architecture de paysage. www.unesco.org/visit/fr/notices/jardins.htm Inaugurée en novembre 1958, l
File photo: Le jardin de l'UNESCO, aménagé en 1958 par le sculpteur japonais Isamu Noguchi (1904-1988), a marqué son temps et influencé le domaine de l'architecture de paysage. www.unesco.org/visit/fr/notices/jardins.htm Inaugurée en novembre 1958, l تصویر: Jean-Pierre Dalbéra from Paris, France / Wikimedia Commons · CC BY 2.0

برسلز — یورپی یونین نے 19 اکتوبر کو ایرینا نیوز کے مطابق اسلامی امارت افغانستان کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور صنفی بنیاد پر امتیاز کی مذمت کی۔ اس بلاک نے یہ بیان یونیسکو کے 225ویں ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں جاری کیا۔

یورپی یونین نے خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا، خاص طور پر چھٹی جماعت سے آگے تعلیم پر پابندی کے خاتمے کا۔ اس نے ان پالیسیوں کو بلا شرط واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ بیان کے مطابق افغانستان وہ واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو چھٹی جماعت سے آگے سرکاری تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یورپی یونین کے مطابق اس پابندی سے 22 لاکھ سے زیادہ لڑکیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

یورپی یونین نے افغانستان میں 2026 کے دوران خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ یونیسکو کی جانب سے فراہم کردہ متبادل تعلیمی مواقع رسمی، جامع اور معیاری تعلیم کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ یورپی یونین نے اس شعبے میں یونیسکو کی کوششوں کا خیر مقدم کیا۔

بیان میں آزاد افغان میڈیا، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے یورپی یونین کی حمایت کی بھی تصدیق کی گئی۔ اس میں کہا گیا کہ یہ حمایت ان افراد کے لیے ہے جو خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں، باوجود اس کے کہ انہیں خطرات اور پابندیوں کا سامنا ہے۔ یورپی یونین نے یونیسکو کے میڈیا و معلوماتی خواندگی، دستاویزی ورثے، اظہار رائے کی آزادی اور صحافیوں کی حفاظت سے متعلق اقدامات کو نمایاں کیا۔

یورپی یونین نے افغانستان کے ثقافتی ورثے کو لاحق خطرات پر تشویش ظاہر کی۔ اس نے غیر قانونی آثار قدیمہ کی کھدائیوں، ثقافتی اشیا کی غیر قانونی اسمگلنگ اور ثقافتی پیشہ ور افراد، خاص طور پر خواتین، کی حفاظت اور روزگار کا حوالہ بھی دیا۔ یورپی یونین نے ملک میں یونیسکو کے کام کو سراہا۔ اس نے اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے اسٹریٹجک فریم ورک کی 2030 تک توسیع کا بھی خیر مقدم کیا۔

یورپی یونین نے کہا کہ وہ افغانستان میں یونیسکو کی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت جاری رکھے گی۔ ان میں تعلیم، ثقافتی تحفظ، میڈیا کی آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے متعلق پروگرام شامل ہیں۔

ذریعے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا اسلامی امارت نے اس بیان پر ردعمل دیا ہے۔ ایرینا نیوز کے مطابق امارت اسلامی کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد پہلے کہہ چکے ہیں کہ چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کی تعلیم زیر غور ہے اور حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ بات پہلے کہی گئی تھی اور یہ یورپی یونین کے بیان کا جواب نہیں ہے۔

پس منظر

2025 میں یورپی یونین اور یونیسکو نے 47 لاکھ یورو کی شراکت داری کا آغاز کیا۔ ایرینا نیوز کے مطابق اس پروگرام کا مقصد افغانستان میں کمیونٹی کی سطح پر ہنر کی تربیت اور خواندگی کی تربیت کے ذریعے معاشی بااختیاری کو فروغ دینا ہے۔

ایرینا نیوز نے فرانس 24 کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی رپورٹ کیا کہ یورپی حکومتیں اسلامی امارت کے حکام کے ساتھ رابطے بڑھا رہی ہیں۔ ان رابطوں میں تارکین وطن کی واپسی، اقتصادی امداد اور سفارتی نمائندگی شامل ہیں۔ یورپی حکومتیں اب بھی انتظامیہ کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے گریز کر رہی ہیں۔ یہ رپورٹ نیویارک ٹائمز کی ایلیان پیلتیئر کی تحقیقات پر مبنی ہے، جیسا کہ فرانس 24 نے بتایا۔ فرانس 24 کے مطابق اقوام متحدہ کے ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسلامی امارت کے دور میں جبری واپسی کے خطرات سے خبردار کر چکی ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق افغانستان کا معاشی بحران ان خدشات میں اضافہ کر رہا ہے۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 18 اکتوبر، 2026پاکستانی فوج کی افغان سرحد پر فائرنگ کا جواب، سکیورٹی ذرائع
  2. 19 اکتوبر، 2026یورپی یونین نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں کی مذمت کی
  3. 20 اکتوبر، 2026اقوام متحدہ: افغانستان میں اس موسمِ سرما میں 19.2 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کریں گے
  4. 20 اکتوبر، 2026Pakistan FM Dar urges Taliban to stop terror from Afghan soil

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج