ٹرمپ نے ایران جنگ دوبارہ شروع کرنے کے سوال پر کچھ کہنے سے انکار کر دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات "ٹھیک چل رہے ہیں"، تاہم انہوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ آیا وہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کریں گے۔ ایرانی حکام نے وسیع تر جوابی کارروائی کی تنبیہ کی ہے۔

واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات "ٹھیک چل رہے ہیں"، تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا وہ تہران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کریں گے۔ فلوریڈا میں ہیلوین پارٹی کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران بار بار معاہدوں سے پیچھے ہٹ چکا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران "معاہدہ کرنا چاہتا ہے" اور "ہم دیکھیں گے کہ آیا وہ معاہدہ کرتے ہیں۔" قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کی مدت کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ واشنگٹن "اتنی جلدی میں نہیں" ہے، جیسا کہ مڈل ईسٹ آئی نے رپورٹ کیا۔ ایک الگ ٹیلی گرام پوسٹ میں، الجزیرہ عربی چینل نے ان کے حوالے سے کہا کہ جب ان سے اگلے ہفتے کے لیے جنگ دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے "میڈیا کے سامنے" اس پر بات کرنے سے انکار کیا۔ اس پوسٹ کی کسی خبر رساں ادارے یا سرکاری ٹرانسکرپٹ سے تصدیق نہیں ہوئی، اور اس کے الفاظ کو دیگر اداروں کی رپورٹ کردہ باتوں سے جانچا نہیں جا سکا۔
موقع سے، سوشل میڈیا پر
ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ نے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور صنعتی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے "پک ایکس ماؤنٹین" پر حملے کی دھمکی بھی دہرائی، جہاں امریکہ کے مطابق ایک جوہری مقام موجود ہے، اور کہا کہ امریکہ "یہ سب بہت جلد کر سکتا ہے"، جیسا کہ مڈل ईسٹ آئی نے رپورٹ کیا۔
ایرانی حکام نے بھی جوابی تنبیہات جاری کی ہیں۔ بی بی سی فارسی کے مطابق ایران کے وزیر دفاع مہرداد اخلاقی نے کہا کہ کسی حملے کے جواب کی "حدود اور وقت" کا تعین ایران کو دھمکی دینے والے نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ "ہر جارحیت کا متناسب، فیصلہ کن اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔" ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے کہا کہ کوئی نئی جنگ مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گی، اور "امریکی تنصیبات، سازوسامان، افواج اور مفادات" کو جہاں بھی ان تک رسائی ممکن ہوگی، نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تنازع پچھلی جنگ سے "کہیں زیادہ طویل" ہو سکتا ہے۔
بی بی سی فارسی نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کمانڈروں کو کسی بھی خطرے کا "فوری" اور "جغرافیائی حدود کے بغیر" جواب دینے کا حکم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی نئی فوجی یا "دہشت گردانہ" کارروائی کو ختم کرنے کا وقت اور شرائط ایران طے کرے گا۔ بی بی سی فارسی کے مطابق یہ ہدایت رہبر معظم کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہوئی۔
الگ سے، قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اتوار کے روز رپورٹ کیا کہ جمعے کی شام خلیجی پانیوں سے گزرتے ہوئے ایک مائع قدرتی گیس (LNG) بردار جہاز پر "نامعلوم پروجیکٹائل" سے حملہ ہوا۔ اس جہاز کا نام الماعید ہے اور یہ قطر گیس ٹرانسپورٹ کی ملکیت ہے۔ ایجنسی کے مطابق عملے کے کسی رکن کو چوٹ نہیں آئی اور ماحول پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ کمپنی نے کہا کہ جہاز "محفوظ" ہے اور اب بھی چل سکتا ہے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران آبنائے ہرمز میں پابندیاں نافذ کر چکا ہے اور ان جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں وہ "خلاف ورزی کرنے والے" کہتا ہے۔ امریکہ نے ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ ثالث کے طور پر کام کرنے والا قطر حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر چکا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ملک نے برطانیہ کی خفیہ ایجنسی سیکرٹ انٹیلی جنس سروس، جسے ایم آئی سکس کہا جاتا ہے، کو "دشمن" گروہوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ رائل نیوی اور رائل ایئر فورس کو ایران کے انسدادِ دہشت گردی اقدامات کے تحت فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جیسا کہ بی بی سی فارسی نے رپورٹ کیا۔ ایران نے اس فیصلے کی ایک وجہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ برطانوی فوجی تعاون کو قرار دیا ہے۔
جرمن گیس ذخیرہ کرنے والے اداروں نے بھی سردیوں سے پہلے ذخائر کم ہونے کی تنبیہ کی ہے۔ بی بی سی فارسی کے مطابق جرمن صنعتی ادارے INES نے کہا کہ اکتوبر کے آخر تک ذخیرے کی سطح 61.35 فیصد تک پہنچ گئی، اور اس موقع پر ملک کا ذخیرہ سال کے اس وقت کے لیے ریکارڈ کم سطح پر ہے۔
کیا غیر مصدقہ ہے
ذرائع سے واضح نہیں ہوتا کہ آیا ٹرمپ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ٹرمپ کے بیانات سے منسوب ٹیلی گرام پوسٹ کی سرکاری ٹرانسکرپٹ سے تصدیق نہیں ہوئی۔ ذرائع یہ بھی نہیں بتاتے کہ قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کب کسی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں، یا آیا الماعید پر کسی مخصوص فریق نے حملہ کیا۔
یہ کیوں اہم ہے
خلیج کے باشندوں کے لیے، جہازوں پر مبینہ حملے اور آبنائے ہرمز میں پابندیاں ایک اہم آبی گزرگاہ کے ذریعے ایندھن اور سامان کی آمدورفت کو متاثر کرتی ہیں۔ ایران کے اس بیان سے کہ کسی بھی جوابی کارروائی کا دائرہ خطے سے باہر تک جا سکتا ہے، یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ تنازع دیگر ممالک اور بیرون ملک امریکی افواج اور مفادات تک پھیل سکتا ہے۔
پس منظر
ذرائع مشرق وسطیٰ کی ایک ایسی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں ایران، امریکہ اور اسرائیل شامل رہے ہیں۔ ایران نے کہا ہے کہ ان دونوں ممالک کے ساتھ برطانوی فوجی تعاون ایم آئی سکس اور رائل نیوی اور رائل ایئر فورس سے متعلق اس کے فیصلے کا ایک عنصر تھا۔ رپورٹس کے مطابق قطر، جہاں امریکہ کی بڑی فوجی موجودگی ہے، مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
آگے کیا ہوگا
ٹرمپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ قطر نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ذرائع نئے دور کی کوئی تاریخ نہیں بتاتے۔ ایرانی فوج نے کہا ہے کہ وہ اپنے اہداف کی فہرست اپڈیٹ کر رہی ہے اور اپنی عملی تیاری مضبوط بنا رہی ہے۔ واشنگٹن اور تہران کی مزید بیانات متوقع ہیں، تاہم ذرائع میں ان کا کوئی شیڈول درج نہیں۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟