لولا برازیل کے صدر کے طور پر چوتھی مدت کے لیے کامیاب، فلاویو بولسونارو کو دوسرے مرحلے میں شکست
برازیل کی الیکטورل عدالت کے مطابق صدر لوئیز اِناسیو لولا دا سلوا نے 25 اکتوبر کے دوسرے مرحلے کے انتخاب میں 51.76 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ فلاویو بولسونارو نے ووٹنگ کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی ہے۔

ساؤ پالو — برازیل کے صدر لوئیز اِناسیو لولا دا سلوا نے اتوار، 25 اکتوبر کو صدارتی دوسرے مرحلے کے انتخاب میں چوتھی مدت کے لیے کامیابی حاصل کی۔ ملک کی الیکٹورل عدالت نے اعلان کیا کہ انہوں نے سینیٹر فلاویو بولسونارو کو چار ملین سے زائد ووٹوں سے شکست دی۔
تقریباً تمام پولنگ اسٹیشن بند ہونے کے وقت، سپریم الیکٹورل کورٹ (TSE) نے کہا کہ لولا کو درست ووٹوں کا 51.76 فیصد اور بولسونارو کو 48.24 فیصد ملا۔ یہ اعداد و شمار انتونارا نے بوگوتا سے رپورٹ کیے۔ بی بی سی بنگلہ نے بھی یہی فیصد بتائے۔
بولسونارو نے نتیجہ تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے ووٹنگ کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے، الجزیرہ کے مطابق، جس نے انتخابی دن سپریم کورٹ کے جج کرسٹیانو زینن کی جانب سے دیے گئے دو گھنٹے کے ووٹنگ اضافے کا حوالہ دیا۔ الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ بولسونارو نے اس توسیع کو "ناقابلِ قبول" قرار دیا۔ اس نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ دونوں امیدواروں نے اضافی ووٹنگ وقت مانگا تھا۔ بی بی سی بنگلہ کے مطابق بولسونارو نے نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کیا اور مطالبہ کیا کہ نتیجہ منسوخ کیا جائے۔
انتونارا اور بی بی سی بنگلہ کے مطابق لولا کی مدت 5 جنوری 2027 کو شروع ہونے والی ہے۔
پہلے مرحلے سے پلٹاؤ
انتونارا کے مطابق بولسونارو 4 اکتوبر کے پہلے مرحلے میں 47.03 فیصد کے ساتھ آگے تھے، جبکہ لولا کو 45.16 فیصد ملے تھے۔ ایجنسی کے مطابق لولا 1989 میں برازیل میں دو مرحلوں والے نظام کے نافذ ہونے کے بعد پہلے مرحلے میں دوسرے نمبر پر رہنے کے باوجود دوسرے مرحلے میں جیتنے والے پہلے امیدوار ہیں۔
انتونارا نے رپورٹ کیا کہ نتائج آنے کے ساتھ مقابلہ کانٹے کا رہا۔ بڑے شہروں اور گنجان آباد شمال مشرقی علاقے سے ووٹوں کی گنتی ہونے کے ساتھ لولا کی برتری بڑھتی گئی۔
بی بی سی بنگلہ کے مطابق بہت کم لوگوں کو توقع تھی کہ لولا تین ہفتوں میں نتیجہ پلٹ دیں گے۔ اس کے مطابق سڑکوں پر ریلیوں اور سوشل میڈیا پر بھرپور مہم نے ان کی واپسی میں مدد دی۔ عرب نیوز نے اس نتیجے کو ایک ایسی حیرت انگیز کامیابی قرار دیا جو رائے عامہ کے جائزوں، روایات اور اینٹی انکمبنٹ مزاج کے خلاف گئی۔ اس نے کہا کہ اس نتیجے نے لاطینی امریکہ میں دائیں بازو کی انتخابی کامیابیوں کا سلسلہ روک دیا۔
فلاویو بولسونارو، 45 سال، سابق صدر جائر بولسونارو کے سب سے بڑے بیٹے ہیں۔ انتونارا کے مطابق اس نتیجے سے خاندان کی صدارت میں واپسی کی کوشش ختم ہو گئی۔
الجزیرہ کی شائع کردہ ایسوسی ایٹڈ پریس کی تصویر کے کیپشن کے مطابق لولا اور ان کے running mate جیرالڈو الکمن نے ساؤ پالو میں فتح کی ریلی میں حامیوں سے خطاب کیا۔
ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں الجزیرہ عربی کے نیوز چینل نے لولا کے حوالے سے کہا کہ یہ انتخاب "جھوٹ، افواہوں اور جعلی خبروں کے محور کی شکست" ہے۔ یہ پوسٹ صرف ایک سرخی تھی۔ اس رپورٹ میں الفاظ یا سیاق و سباق کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
بین الاقوامی ردعمل
الجزیرہ کے مطابق کئی ممالک کے رہنماؤں اور سیاستدانوں نے لولا کو مبارکباد دی۔
میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین باؤم نے ایکس پر لکھا: "جمہوریت زندہ باد، برازیل کے عوام جیت گئے۔" کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے لولا کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے لکھا کہ کینیڈا اور برازیل کو "اس موقع سے فائدہ اٹھا کر انہیں مزید مضبوط بنانا چاہیے"۔
چلی کے صدر خوزے انتونیو کاسٹ نے کہا کہ انہوں نے لولا کو مبارکباد دینے کے لیے فون کیا۔ انہوں نے ایکس پر کہا کہ دونوں ممالک معاشی انضمام اور خطے میں منظم جرائم کے خلاف جدوجہد پر کام کریں گے۔ کیوبا کے صدر میگوئل دیاز-کانیل نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اس کامیابی کو "تاریخی" قرار دیا۔
چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے باقاعدہ بریفنگ میں کہا کہ بیجنگ نے لولا کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین "برازیل کے ساتھ مل کر چین-برازیل مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی کی تعمیر کو آگے بڑھانے" کے لیے تیار ہے۔ کریملن کے ترجمان دмитری پیسکوف نے کہا کہ لولا نے دوطرفہ تعلقات اور برکس ممالک کے گروپ کے لیے بہت کچھ کیا ہے، اور ماسکو کو امید ہے کہ اسی طرح کا تعاون جاری رہے گا۔
امریکہ میں ردعمل سیاسی خطوط پر تقسیم رہا۔ سینیٹر برنی سینڈرز نے لولا کو اس "غیر معمولی دوبارہ انتخابی کامیابی" پر مبارکباد دی۔ نیویارک شہر کے میئر زوہران ممدانی نے ایکس پر لکھا: "متحد عوام کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی!" کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کے میڈیا دفتر کے بیان میں کہا گیا کہ وہ جمہوریت کے دفاع کے عزم میں برازیل اور دنیا بھر کے شراکت داروں کے ساتھ کھڑے ہونے پر "فخر" محسوس کرتے ہیں۔
کانگریس مین رو کھنہ نے بھی ایکس پر پوسٹ کیا۔
"دنیا بھر میں لوگ انتہا پسندی کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔ لولا کے برازیل میں ہونے کے ساتھ، انہوں نے ابھی جیت حاصل کی ہے۔" — رو کھنہ، امریکی کانگریس مین
کھنہ نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ "نتائج کا احترام کریں اور برازیل کے انتخابات کو سبوتاژ نہ کریں۔"
ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے دو گھنٹے کی توسیع کا حوالہ دیتے ہوئے نتیجے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر برازیل میں کسی قدامت پسند حکومت نے ایسا کیا ہوتا تو "امریکہ کے مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ میں ہر شخص اپنے ہوش کھو دیتا"۔
ٹیلی گرام پوسٹ میں کواڈز نیوز نیٹورک نے کہا کہ فلاویو بولسونارو کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے رجھانے کی کوشش کی، جنہوں نے پہلے مرحلے کے بعد ان کو فون کیا اور اسرائیل آنے کی دعوت دی۔ اس رپورٹ کے لیے دیکھے گئے مواد میں کسی دوسرے ذریعے نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔
پس منظر
بی بی سی بنگلہ کے مطابق لولا، جو سابق دھاتی مزدور ہیں، پہلی بار 1989 میں صدارتی انتخاب لڑے۔ وہ جنوری 2003 سے دسمبر 2010 تک دو مدتوں کے لیے صدر رہے۔ انتونارا کے مطابق انہوں نے 2022 میں تیسری مدت جیتی۔ نئی مدت ان کی چوتھی ہوگی اور صدارت سے وقفے کے بعد ان کی تیسری مدت ہوگی۔
بی بی سی بنگلہ نے کہا کہ لولا کو ملک کے اندر اور باہر مشکلات کا سامنا ہے۔ اس نے نئی کانگریس کو برازیل کے جمہوری دور کی سب سے دائیں بازو کی کانگریس قرار دیا۔ اس کے مطابق 48 فیصد سے زائد ووٹرز نے بولسونارو کو چنا، جو ظاہر کرتا ہے کہ ملک اب بھی گہرا تقسیم شدہ ہے۔
نشریاتی ادارے نے کہا کہ لولا کو ٹرمپ انتظامیہ کے مخاصمانہ رویے سے بھی نمٹنا ہوگا۔ اس کے مطابق ٹرمپ نے فلاویو بولسونارو کی براہِ راست حمایت نہیں کی، لیکن کولمبیا اور ہونڈوراس کے صدارتی انتخابات میں دائیں بازو کے فاتحین کی حمایت کی تھی۔ کواڈز نیوز نیٹورک نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ بولسونارو نے ٹرمپ کے ساتھ قربت پر مہم چلائی، جس کی انتظامیہ نے برازیل پر بھاری ٹیرف عائد کیے ہیں۔
بی بی سی بنگلہ کے مطابق بولسونارو نے برازیل کو واشنگٹن کے قریب لانے کا وعدہ کیا۔ لولا نے امریکہ کو انتخابات میں مداخلت نہ کرنے کی تنبیہ کی اور کہا کہ برازیل کبھی "کسی اور کا پچھواڑا" نہیں بنے گا۔
بی بی سی بنگلہ نے کہا کہ برازیل واحد بڑا جنوبی امریکی ملک ہے جس کی حکومت دائیں بازو کی نہیں۔ ارجنٹائن، چلی اور کولمبیا میں قدامت پسند رہنما ہیں۔ اس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ برازیل کے پاس دنیا میں نایاب زمینی معدنیات کے دوسرے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔
ماحولیاتی گروپوں کے مطابق جائر بولسونارو کے دور میں ایمیزون میں جنگلات کی کٹائی اور آگ ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی، جیسا کہ بی بی سی بنگلہ نے رپورٹ کیا۔ نشریاتی ادارے کے مطابق انہیں خدشہ ہے کہ اگر ان کے بیٹے جیت گئے تو ماحولیاتی پالیسی مزید ڈھیلی ہو جائے گی۔
بی بی سی بنگلہ نے جائر بولسونارو کو پچھلے انتخاب کا نتیجہ پلٹنے کی سازش پر 27 سال قید کی سزا سنائے جانے کی ایک پرانی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا۔ وہ رپورٹ ستمبر 2025 کی ہے۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Al Jazeera Englishen · 26 اکتوبر، 2026
- BBC Banglabn · 26 اکتوبر، 2026
- Antaraid · 26 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 26 اکتوبر، 2026
- Quds News Network (Telegram)en · 26 اکتوبر، 2026
- Arab Newsen · 26 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟