سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے یمن میں حوثیوں کی میزائل سرنگوں اور لانچ پلیٹ فارمز کو تباہ کر دیا
سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے یمن میں حوثیوں کے زیرِ کنٹرول میزائل ذخیرہ گاہوں، لانچ مقامات اور محاذ کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

یمن — سعودی قیادت والے اتحاد نے 26 اکتوبر 2026 کو کہا کہ اس نے یمن میں حوثی اہداف کے خلاف فوجی کارروائی کی ہے، جن میں بیلسٹک میزائل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی سرنگیں اور انھیں داغنے کے لیے استعمال ہونے والے پلیٹ فارمز شامل ہیں۔
اتحاد نے اس کارروائی کو ایک ایسی کارروائی قرار دیا جو "خطرے کے ذرائع کو بے اثر کرنے" کے مقصد سے کی گئی، جیسا کہ Middle East Eye کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ یہ دعوے خود اتحاد کی طرف سے سامنے آئے ہیں۔ جن ذرائع کا جائزہ لیا گیا ان میں کوئی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے۔
موقع سے، سوشل میڈیا پر
اتحاد کے مطابق اس نے کیا نشانہ بنایا
Middle East Eye کے مطابق، اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے پانچ سرنگیں تباہ کیں جنھیں حوثی بیلسٹک میزائل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس نے ایک میزائل ڈپو اور چار پلیٹ فارمز تباہ کیے جو بیلسٹک میزائل داغنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے حوثیوں کے "مورچوں، ان کے ارکان کے اجتماعات اور یمن کے اندر محاذی لائنوں پر ان کے فوجی سازو سامان" کے خلاف بھی کارروائیاں کیں، جیسا کہ Middle East Eye نے رپورٹ کیا۔ رپورٹ میں ان اہداف کی تفصیل نہیں دی گئی اور تباہ شدہ سازو سامان کے اعداد و شمار بھی نہیں دیے گئے۔
اتحاد کا ردعمل
Al Arabiya کے ٹیلیگرام چینل پر 26 اکتوبر کو 04:14 GMT پر ایک پوسٹ شائع ہوئی، جس کی سرخی میں ایک بیان اتحاد سے منسوب کیا گیا تھا۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ اتحاد نے خطرے کے ذرائع کو بے اثر کرنے کے لیے "معیاری کارروائی" کی۔ اس میں اسے ان نام نہاد "بار بار حملوں" کا جواب قرار دیا گیا جو اس کے بقول "حوثی ملیشیا" کی طرف سے ہوئے۔
ٹیلیگرام پوسٹ ایک سوشل میڈیا آئٹم ہے اور اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ لفظ "ملیشیا" چینل کی رپورٹ کے مطابق اتحاد کی اپنی توصیف ہے۔ یہ ایسی تعبیر نہیں ہے جس کی تصدیق Zenga News نے کی ہو۔
Middle East Eye نے اپنا بیان تقریباً 80 منٹ بعد، 05:38 GMT پر شائع کیا۔ اس نے اتحاد کے بیانات ایک لائیو بلاگ میں پیش کیے اور ہر دعوے کو اتحاد سے منسوب کیا۔ اس ادارے نے محاذی کارروائیوں کے لیے لفظ "claimed" استعمال کیا۔
کیا تصدیق نہیں ہوئی
دستیاب رپورٹس میں کئی سوالات کے جواب نہیں ملتے۔
- مقامات۔ دونوں ذرائع نہیں بتاتے کہ یمن میں سرنگیں، ڈپو، لانچ پلیٹ فارمز یا محاذی پوزیشنیں کہاں واقع ہیں۔
- وقت۔ ذرائع نہیں بتاتے کہ حملے کب ہوئے یا کارروائی کتنی دیر جاری رہی۔ وہ صرف یہ وقت بتاتے ہیں جب بیانات رپورٹ ہوئے۔
- جانی نقصان۔ دونوں رپورٹس میں ہلاکتوں، زخمیوں یا شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر نہیں۔ کسی بھی ذریعے سے جانی نقصان کے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
- حوثیوں کا ردعمل۔ ذرائع میں حوثیوں کا کوئی بیان شامل نہیں۔ وہ نہیں بتاتے کہ گروہ اتحاد کے تباہی کے دعوے کی تصدیق کرتا ہے یا تردید۔
- "بار بار حملے"۔ ٹیلیگرام پوسٹ میں بار بار ہونے والے حوثی حملوں کو کارروائی کی وجہ بتایا گیا ہے۔ مواد یہ نہیں بتاتا کہ کون سے حملے مراد ہیں، وہ کب ہوئے یا ان کا نشانہ کون تھا۔
- آزادانہ تصدیق۔ کسی آزاد مبصر، صحافی یا بین الاقوامی ادارے کا حوالہ نہیں دیا گیا جو بیان کردہ نقصان کی تصدیق کرے۔
پانچ سرنگوں، ایک ڈپو اور چار لانچ پلیٹ فارمز کے اعداد و شمار صرف اتحاد کے اپنے بیان سے آتے ہیں۔ جب تک حوثی، آزاد مانیٹرز یا دیگر ادارے ان حملوں کے بارے میں رپورٹ نہیں کرتے، یہ اعداد و شمار دعوے ہی رہیں گے۔
پس منظر
اتحاد کی قیادت سعودی عرب کر رہا ہے اور وہ یمن میں حوثیوں کے خلاف برسرِپیکار ہے۔ Middle East Eye کی رپورٹ میں "یمن کے اندر محاذی لائنوں" کا ذکر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمینی تصادم کی لائنیں اب بھی قائم ہیں۔ ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ یہ لائنیں کہاں تک ہیں یا ان میں کیا تبدیلی آئی ہے۔
دونوں رپورٹس میں اتحاد کا بیان ایک جیسے انداز میں ہے۔ اس میں کارروائی کو کسی مخصوص علاقے پر حملے کے بجائے صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جیسے ذخیرہ شدہ اور داغنے کے لیے تیار بیلسٹک میزائل۔ دونوں رپورٹس اس کارروائی کو حوثی کارروائیوں کے جواب کے طور پر پیش کرتی ہیں، لیکن وہ اس موقف کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کرتیں۔
اگر حوثی ردعمل دیتے ہیں، اتحاد مزید تفصیلات جاری کرتا ہے، یا حملوں کی آزادانہ تصدیق سامنے آتی ہے تو Zenga News اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 21 اکتوبر، 2026یمن کی وزارتِ صحت کے مطابق تعز میں کشتیوں پر حملوں میں آٹھ ماہی گیر ہلاک
- 21 اکتوبر، 2026حوثیوں کا بیلسٹک میزائل عدن ایئرپورٹ کو نشانہ بناتا ہے، العربیہ کی رپورٹ
- 27 اکتوبر، 2026شام نے یمن میں فوج بھیجنے کی تردید کر دی، تجزیہ کار سعودی عرب کی دیگر مدد پر غور کر رہے ہیں
- 27 اکتوبر، 2026سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے یمن میں حوثیوں کی میزائل سرنگوں اور لانچ پلیٹ فارمز کو تباہ کر دیا
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Middle East Eyeen · 26 اکتوبر، 2026
- Al Arabiya (Telegram)ar · 26 اکتوبر، 2026
- Arab Newsen · 27 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 26 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 26 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 26 اکتوبر، 2026
- Al Arabiya (Telegram)ar · 26 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 26 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟