Skip to content
Zenga News

امریکا نے اسرائیلی فضائی اڈوں پر 10 فوجی کارگو طیارے بھیجے، کان کی رپورٹ

اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ طیارے نیگیو میں اترے، جب امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی اہلکار کے مطابق ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 4 منٹ مطالعہ
File photo: IDF Chief of General Staff Lt. Col. Herzi Halevi (with brown boots) visited the Nevatim Airbase in February 2023 – IAF Commander Gen. Maj. Tomer Bar left of him. As part of the visit, he met with aircrew fighters and members of the techni
File photo: IDF Chief of General Staff Lt. Col. Herzi Halevi (with brown boots) visited the Nevatim Airbase in February 2023 – IAF Commander Gen. Maj. Tomer Bar left of him. As part of the visit, he met with aircrew fighters and members of the techni تصویر: Roy Kur / Wikimedia Commons · CC BY-SA 3.0

تل ابیب — اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ امریکا نے جنوبی اسرائیل کے فضائی اڈوں پر 10 فوجی کارگو طیارے بھیجے ہیں، جب واشنگٹن اور اسرائیل ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں۔

کان کے مطابق یہ طیارے نیگیو کے علاقے میں واقع اووڈا اور نیواٹم فضائی اڈوں پر اترے۔ یہ رپورٹ مڈل ایسٹ آئی اور انڈونیشیا کے ادارے ریپبلیکا نے بھی نقل کی، جس نے ترکی کی خبر رساں ایجنسی اناضول کا حوالہ دیا۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

کان نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ خطے میں دیگر اڈوں پر کئی اور امریکی فوجی طیارے بھیجے گئے، جن میں اردن، سعودی عرب اور قطر کے اڈے شامل ہیں۔ زنگا نیوز کو دستیاب رپورٹ کے نسخوں کے مطابق نشریاتی ادارے نے یہ نہیں بتایا کہ ہر ملک میں کتنے طیارے گئے۔

ایک اسرائیلی اہلکار کا بیان

ایک اسرائیلی اہلکار نے کان کو بتایا کہ دونوں ممالک قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ "اسرائیل اور امریکا قریبی ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں، اور اگرچہ اس معاملے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا، امریکا اور اسرائیل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کسی بھی فیصلے کے لیے تیاری کر رہے ہیں،" اہلکار نے کہا، جیسا کہ مڈل ایسٹ آئی نے نقل کیا۔ یہ الفاظ انگریزی رپورٹ سے لیے گئے ہیں۔ ریپبلیکا نے یہی بیان انڈونیشی زبان میں شائع کیا۔

ریپبلیکا کے مطابق اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ ایسا کوئی فیصلہ کس شکل میں ہو سکتا ہے یا کب کیا جائے گا۔ دونوں رپورٹوں میں اہلکار کا نام نہیں دیا گیا۔

روانگی کا مقام

ریپبلیکا نے بتایا کہ طیارے امریکی ریاست ٹیکساس کے فورٹ بلس سے روانہ ہوئے۔ اس نے اس مقام کو امریکی فوج کے فضائی دفاع کے سب سے بڑے مراکز میں سے ایک قرار دیا، جہاں انٹرسیپٹر میزائلوں اور فضائی دفاعی بیٹریوں کی سہولتیں موجود ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی کے کان کی رپورٹ کے خلاصے میں روانگی کے مقام کا ذکر نہیں تھا، اس لیے یہ تفصیل صرف ریپبلیکا کے بیان پر مبنی ہے۔

کیا تصدیق شدہ نہیں ہے

ریپبلیکا کے مطابق امریکا کی جانب سے اڈوں کی تیاری کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ طیاروں پر لدا سامان واضح نہیں، اور ایران پر کسی حملے سے متعلق واشنگٹن کے حتمی فیصلے کا علم نہیں۔

رپورٹس اس پیش رفت کو ممکنہ کارروائی کی تیاری قرار دیتی ہیں۔ ان میں یہ نہیں کہا گیا کہ حملے کا حکم دیا جا چکا ہے یا کوئی تاریخ طے ہو چکی ہے۔ زنگا نیوز نے طیاروں کی نقل و حرکت کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ یہ معلومات کان کی رپورٹنگ اور نشریاتی ادارے کے حوالے سے بیان کیے گئے ایک نامعلوم اسرائیلی اہلکار سے آئی ہیں۔

ذرائع میں امریکی حکومت، اسرائیلی حکومت یا ایران کا کوئی بیان شامل نہیں تھا۔ اردن، سعودی عرب اور قطر کے اپنے علاقوں میں امریکی طیاروں کی آمد سے متعلق بھی ان کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔

پس منظر

ریپبلیکا کے مطابق اس ہفتے کے آغاز میں کان نے بتایا تھا کہ واشنگٹن نے خلیجی ریاستوں کو ایران کے خلاف ایک مختصر اور محدود فوجی مہم کے امکان سے خبردار کیا تھا۔ اس تنبیہ کی تفصیلات، جن میں یہ شامل ہے کہ کون سے ممالک کو یہ پیغام ملا اور اس میں کیا کہا گیا، دستیاب مواد میں فراہم نہیں کی گئیں۔

ریپبلیکا کے مطابق کان نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ امریکی فوج نے خلیجی خطے میں فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ٹیکساس سے پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام منتقل کیے ہیں۔ پیٹریاٹ نظام آنے والے میزائلوں اور طیاروں کو روکنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے نظام منتقل کیے گئے یا وہ کہاں نصب کیے گئے۔

مجموعی طور پر رپورٹس کئی دنوں کے دوران اسرائیل اور خلیجی مقامات پر امریکی فوجی نقل و حرکت کی ایک سیریز بیان کرتی ہیں۔ ان کی کسی سرکاری عہدیدار نے باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ منصوبہ بندی کی حیثیت پر اسرائیلی اہلکار کا یہ کہنا کہ "ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا" واحد براہ راست تبصرہ ہے۔

ریپبلیکا کے مضمون کی اشاعت 29 اکتوبر 2026 کو ہوئی، جو جمعرات کا دن تھا، جبکہ مڈل ایسٹ آئی کی اپ ڈیٹ ان کے صفحات پر درج وقت کے مطابق 30 اکتوبر کی ابتدائی ساعتوں میں شائع ہوئی۔ دونوں نے بنیادی دعوے کان سے منسوب کیے ہیں۔

رپورٹس کئی سوالات کھلے چھوڑتی ہیں، جن میں یہ شامل ہے کہ طیاروں میں کیا سامان تھا، کیا پیٹریاٹ نظام اور طیاروں کی نقل و حرکت آپس میں جڑی ہیں، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کن فیصلوں کی توقع ہے۔ اسرائیلی اہلکار کے بیان میں صرف یہ کہا گیا کہ دونوں ممالک اس فیصلے کی تیاری کریں گے جو وہ کریں گے۔

امریکا، اسرائیل یا خطے کی دیگر حکومتوں کی جانب سے کوئی ردعمل آنے پر زنگا نیوز اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج