Skip to content
Zenga News

آبادکاروں نے المزرعۃ الشرقیہ کے قریب فلسطینی زمین پر بھیڑیں چرائیں

کواڈس نیوز نیٹ ورک کی ٹیلیگرام پوسٹ کے مطابق اسرائیلی آبادکار رام اللہ کے مشرق میں فلسطینیوں کی ملکیت زمین پر بھیڑیں چرا رہے ہیں۔ اس دعوے کی کسی خبر رساں ادارے یا سرکاری بیان نے تصدیق نہیں کی ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: Al-Mazra'a al-Sharqiya
File photo: Al-Mazra'a al-Sharqiya تصویر: יעקב / Wikimedia Commons · CC0

رام اللہ — اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ کے مشرق میں واقع گاؤں المزرعۃ الشرقیہ کے قریب فلسطینیوں کی ملکیت زمین پر بھیڑیں چرائی ہیں، جیسا کہ کواڈس نیوز نیٹ ورک کی ٹیلیگرام پر 31 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک پوسٹ میں بتایا گیا ہے۔

پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ چرائی سے فلسطینیوں کی زرعی زمین پر تجاوز ہوتا ہے اور کسانوں کی اپنی جائیداد تک رسائی محدود ہوتی ہے۔ پوسٹ میں بھیڑوں کی تعداد، شامل آبادکاروں کی تعداد یا رقبے کی وسعت نہیں بتائی گئی۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ آبادکار کس بستی سے آئے تھے، اور اس میں اسرائیلی حکام یا فلسطینی اتھارٹی کا کوئی بیان شامل نہیں تھا۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

کواڈس نیوز نیٹ ورک ایک فلسطینی میڈیا ادارہ ہے، اور یہ پوسٹ ایک سوشل میڈیا پوسٹ ہے۔ اس رپورٹ کے لیے دیکھے گئے ماخذی مواد میں کسی خبر رساں ادارے یا سرکاری بیان نے اس بیان کی تصدیق نہیں کی۔ واقعے کا وقت، اس کا پیمانہ اور زمین کی ملکیت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

یہ کیوں اہم ہے

رام اللہ کے گرد دیہات میں فلسطینی دیہی زندگی کا مرکزی حصہ چرائی اور زراعت ہے۔ پوسٹ کے بیان کے مطابق اگر آبادکار کھیتوں میں مویشی چرائیں تو کسان اپنے کھیتوں تک پہنچ یا ان سے فائدہ اٹھا نہیں پا سکتے۔ پوسٹ میں اسے جائیداد تک رسائی پر پابندی قرار دیا گیا ہے۔

اس علاقے کے بہت سے فلسطینی دیہات مسلمان برادریاں ہیں، اور ان کی زرعی زمین ان کی روزمرہ معیشت کا حصہ ہے۔ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زمین تک رسائی کا مسئلہ کئی برسوں سے بار بار اٹھتا رہا ہے۔

پس منظر

المزرعۃ الشرقیہ رام اللہ کے مشرق میں ایک فلسطینی گاؤں ہے، جو رام اللہ اور البیرہ گورنری کا انتظامی مرکز ہے۔ مغربی کنارہ 1967 سے اسرائیلی فوجی قبضے میں ہے۔ وہاں بنائی گئی اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی برادری کی اکثریت کے نزدیک بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں، اگرچہ اسرائیل اس مؤقف کو تسلیم نہیں کرتا۔

فلسطینی چرواہوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان چراگاہوں کی زمین پر تنازعات حالیہ برسوں میں پورے مغربی کنارے میں رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ ماخذی مواد میں المزرعۃ الشرقیہ میں پہلے کے واقعات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

آگے کیا ہوگا

ماخذی مواد میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسرائیلی یا فلسطینی حکام نے کوئی تحقیقات شروع کی ہیں، پوسٹ کا جواب دیا ہے، یا زمین کے بارے میں کوئی اقدام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اشاعت کے وقت تک مزید کوئی بیان رپورٹ نہیں ہوا۔

کواڈس نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ ایک واحد سوشل میڈیا پوسٹ ہے۔ تفصیلات کی تصدیق کے لیے آزاد اداروں، مقامی حکام یا اسرائیلی فوج کی مزید رپورٹنگ درکار ہوگی۔

الگ سے، منامہ سے متعلقہ ایک خبر میں شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے ہفتے کے روز کہا کہ "شام کی مکہ اتحاد میں شمولیت کا جائزہ لینے کے لیے بات چیت جاری ہے"، جیسا کہ سیریئن عرب نیوز ایجنسی (سانا) کے حوالے سے انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا۔ یہ رپورٹ شام اور علاقائی سلامتی سے متعلق ہے اور المزرعۃ الشرقیہ کے واقعات سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

خبر کیسے آگے بڑھی

  1. 28 اکتوبر، 2026نیدرلینڈز نے اسرائیل کی شرکت پر یوروویژن 2027 سے دستبرداری کا اعلان کیا، نشریاتی ادارے کا دعویٰ
  2. 30 اکتوبر، 2026اسرائیل نے عرب ووٹرز کی بڑی تعداد پر قطر اور ترکیہ کو موردِ الزام ٹھہرایا، دونوں ممالک کا انکار
  3. 31 اکتوبر، 2026غزہ میں 48 گھنٹوں کے دوران چھ فلسطینی ہلاک، 26 زخمی: وزارت صحت
  4. 31 اکتوبر، 2026آبادکاروں نے المزرعۃ الشرقیہ کے قریب فلسطینی زمین پر بھیڑیں چرائیں

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج