کرک میں چرچ حملے میں ہلاکتوں کی تعداد نو ہو گئی، اردن کے وزیر صحت
وزیر صحت ابراہیم البدور نے جمعہ کو جنوبی اردن کے علاقے حمود میں چرچ پر ہونے والی فائرنگ میں مزید دو زخمیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ حکام نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔

کرک، اردن — جنوبی اردن کے کرک گورنریٹ کے گاؤں حمود میں ایک چرچ پر فائرنگ سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر نو ہو گئی ہے، جیسا کہ وزیر صحت ابراہیم البدور نے ہفتے کے روز AFP کو بتایا۔ یہ حملے کے ایک دن بعد کی بات ہے۔
وزیر کے مطابق نازک حالت میں زیرِ علاج دو افراد زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔ انہوں نے AFP کو بتایا کہ ہفتے کی صبح早 آٹھویں متاثرہ شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی تھی۔
موقع سے، سوشل میڈیا پر
البدور نے کہا، "حمود گاؤں کے چرچ پر حملے میں ہلاکتوں کی تعداد نازک حالت میں موجود ایک دوسرے شخص کی موت کے بعد بڑھ کر نو ہو گئی ہے۔" یہ بیان مڈل ایسٹ آئی نے نقل کیا، جس نے ان کے تبصرے AFP کے حوالے سے شائع کیے۔
سکیورٹی اداروں کی تصدیق
عربی زبان کے چینل الجزیرہ عربی کی ٹیلیگرام پر ایک پوسٹ میں بتایا گیا کہ اردن کے پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے کرک میں نویں زخمی شخص کی ہلاکت کا اعلان کیا، جسے اس نے "دہشت گردانہ جرم" قرار دیا۔ یہ پوسٹ سوشل میڈیا کا مواد ہے اور اس کے الفاظ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس کا عدد وہی ہے جو وزیر صحت نے AFP کو دیا، جیسا کہ مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا۔
پہلے جاری ہونے والے اعداد
ہفتے کو اس سے پہلے انڈونیشیا کی خبر رساں ایجنسی انتارا نے آٹھ ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی۔ اس نے البدور کے حوالے سے بتایا، جنہوں نے سرکاری نشریاتی ادارے المملکہ سے بات کی تھی۔ انتارا کے مطابق، انہوں نے کہا کہ پرنس علی ملٹری ہسپتال میں نازک حالت میں زیرِ علاج دو میں سے ایک شخص چل بسا، جس سے کُل تعداد آٹھ ہو گئی۔
انتارا نے وزیر کے حوالے سے بتایا کہ اس وقت 27 زخمی ہسپتال میں زیرِ علاج تھے، جن میں سے ایک کی حالت نازک تھی۔ ذرائع نویں ہلاکت کے بعد ہسپتال میں موجود افراد کی تازہ تعداد نہیں بتاتے۔ وہ یہ بھی واضح نہیں کرتے کہ آخری ہلاک ہونے والا شخص وہی تھا جسے پہلے بیان میں نازک حالت میں بتایا گیا تھا۔
ہلاکتوں کے دونوں اعداد ایک ہی دن کے مختلف لمحات کی عکاسی کرتے ہیں۔ انتارا کی رپورٹ میں آٹھ ہلاکتیں بتائی گئیں، جبکہ بعد کی رپورٹوں، یعنی مڈل ایسٹ آئی اور ٹیلیگرام پوسٹ میں نو ہلاکتیں ہیں۔
واقعہ کیسے پیش آیا
انتارا کے مطابق یہ حملہ جمعہ، 23 اکتوبر کو ہوا۔ کرک گورنریٹ کے حمود میں چرچ پر ایک نماز جنازہ کے دوران دو مسلح افراد کار سے اترے اور فائرنگ کی۔ انتارا میں گاؤں کا نام "Hamoud" لکھا گیا ہے جبکہ مڈل ایسٹ آئی میں "Hammoud"۔ یہ رپورٹ "Hammoud" استعمال کرتی ہے۔
انتارا نے بتایا کہ اردن کی وزارت داخلہ نے اس واقعے کو ایک انتہا پسند گروہ کی جانب سے کیا گیا دہشت گرد حملہ قرار دیا۔ ایجنسی نے وزارت کا براہِ راست حوالہ نہیں دیا اور نہ ہی گروہ کا نام بتایا۔
انتارا نے ایک الگ رپورٹ کا لنک بھی دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ حملے کے بعد اردن نے تین دن کے سوگ کا اعلان کیا۔ اس رپورٹ کا متن ذرائع میں شامل نہیں تھا، اس لیے اس کی تفصیلات یہاں کی نہیں جا سکیں۔
کیا تصدیق شدہ نہیں
ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ دونوں مسلح افراد کون تھے۔ وہ یہ بھی نہیں بتاتے کہ انہیں گرفتار کیا گیا، ہلاک کیا گیا یا وہ اب بھی فرار ہیں۔ کسی گروہ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کی بھی خبر نہیں دی گئی۔ ذرائع کوئی محرک بھی نہیں بتاتے۔
ذرائع ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی شناخت، عمروں یا قومیت کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتے۔ اس رپورٹ میں ان کے نام نہیں دیے گئے۔ ذرائع یہ بھی نہیں بتاتے کہ نماز جنازہ میں کتنے لوگ شریک تھے یا یہ جنازہ کس کا تھا۔
فائرنگ کی تفصیلات ایک ہی خبر رساں ایجنسی، انتارا، کی رپورٹ سے لی گئی ہیں، جو اردنی حکام کا حوالہ دیتی ہے۔ وزارت داخلہ کا اپنا بیان ذرائع میں شامل نہیں تھا، اس لیے اس کے الفاظ براہِ راست جانچے نہیں جا سکے۔ عینی شاہدین یا دیگر حکام کی آزادانہ رپورٹیں بھی دستیاب نہیں تھیں۔
وزیر صحت کے اعداد AFP اور المملکہ کے ساتھ انٹرویوز میں دیے گئے۔ دونوں دوسرے ذرائع کے ذریعے نشر ہوئے، اور اصل ریکارڈنگ یا متن نہیں دیکھا گیا۔
پس منظر
کرک گورنریٹ جنوبی اردن میں واقع ہے۔ حمود اسی علاقے کا ایک گاؤں ہے۔ ذرائع اس کمیونٹی یا چرچ کے بارے میں مزید تفصیل نہیں دیتے۔
اس حملے پر قومی سطح پر ردِعمل سامنے آیا۔ انتارا کے مطابق وزارت داخلہ نے اسے دہشت گردی قرار دیا۔ الجزیرہ عربی کی ٹیلیگرام پوسٹ کے مطابق پبلک سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ نے بھی یہی اصطلاح استعمال کی۔ انتارا کے منسلک کردہ رپورٹ میں تین روزہ سوگ کا اعلان بتایا گیا ہے۔
وزیر صحت کے بیانات سے ایک دن کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں تبدیلی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ جمعہ کو جائے وقوعہ پر کتنے افراد ہلاک ہوئے۔ انتارا کے مطابق آٹھ کا عدد اس وقت سامنے آیا جب ایک نازک زخمی ہسپتال میں چل بسا۔ البدور کے AFP کو دیے گئے بیان کے مطابق نویں ہلاکت دوسرے نازک زخمی کی موت کے بعد ہوئی۔
اگر ہسپتال میں زیرِ علاج کوئی اور زخمی ہلاک ہوا تو یہ تعداد بدل سکتی ہے۔ البدور کے پہلے بیان کے مطابق ایک زخمی اب بھی نازک حالت میں تھا۔ جائزہ لیے گئے ذرائع میں اردنی حکام نے زخمیوں کی حالت پر مزید تازہ معلومات نہیں دیں۔
زینگا نیوز حکام کی جانب سے حملہ آوروں، متاثرین یا تفتیش سے متعلق مزید معلومات جاری ہونے پر اس رپورٹ کو اپڈیٹ کرے گا۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Antaraid · 24 اکتوبر، 2026
- Middle East Eyeen · 24 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 24 اکتوبر، 2026
- BBC News Arabicar · 25 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟