میکرون نے وزیر داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیا، فرانس بھر میں ہنگامہ آرائی کے بعد
ایلیزے محل کے مطابق صدر ایمانوئل میکرون نے فرانس کے کئی شہروں میں تشدد کے بعد وزیر داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1,500 کاروباری اداروں کو نشانہ بنایا گیا اور قریباً 2,400 گرفتاریاں ہوئیں۔
![File photo: Secretary of State Michael R. Pompeo arrives to meet with French Foreign Minister Jean-Yves Le Drian in Paris, France, on November 16, 2020. [State Department photo by Ron Przysucha/ Public Domain]](https://thumb.wikimedia.org/wikipedia/commons/thumb/5/58/Secretary_Pompeo_Arrives_to_Meet_with_French_Foreign_Minister_Le_Drian_in_Paris_%2850610423656%29_%28cropped%29.jpg/1920px-Secretary_Pompeo_Arrives_to_Meet_with_French_Foreign_Minister_Le_Drian_in_Paris_%2850610423656%29_%28cropped%29.jpg?utm_source=commons.wikimedia.org&utm_campaign=imageinfo&utm_content=thumbnail)
پیرس — فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کئی فرانسیسی شہروں میں احتجاج اور تشدد کے بعد اپنے وزیر داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیا ہے، ایلیزے محل نے پیر، 19 اکتوبر 2026 کو یہ بات کہی۔
یہ اطلاع پہلے الجزیرہ کے عربی چینلز نے ٹیلیگرام پر جاری کی، جنہوں نے صدارتی دفتر کا حوالہ دیا۔ بعد ازاں انادولو ایجنسی نے یہ فیصلہ رپورٹ کیا اور واقعات کو پورے فرانس میں فسادات قرار دیا۔
تشدد کی شدت
انادولو کی طرف سے حوالہ دیے گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے تشدد میں تقریباً 1,500 کاروباری اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہی اعداد و شمار کے مطابق گرفتاریاں قریباً 2,400 تھیں۔ ذرائع یہ نہیں بتاتے کہ یہ اعداد و شمار کس ادارے نے مرتب کیے یا گرفتاریاں کس مدت میں کی گئیں۔
الجزیرہ کی پوسٹس میں کہا گیا کہ احتجاج اور تشدد ملک کے "کئی شہروں" میں ہوا، تاہم ان شہروں کے نام نہیں لیے گئے۔
ذرائع کیا نہیں بتاتے
دستیاب مواد میں وزیر داخلہ کا نام درج نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ وزیر نے استعفیٰ کی پیشکش کب کی یا کیا وجہ بتائی۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ احتجاج کا محرک کیا تھا، اس میں کون شریک ہوا، یا کتنے افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹس میں وزیر داخلہ کا کوئی بیان شامل نہیں۔ ایلیزے کے بیانات مختصر صورت میں پہنچائے گئے، اور زیرِ جائزہ ذرائع میں صدارتی دفتر کا کوئی براہِ راست اقتباس شائع نہیں ہوا۔
الجزیرہ کی دو ٹیلیگرام پوسٹس غیر تصدیق شدہ سوشل میڈیا مواد ہیں۔ ایلیزے کے فیصلے کے بارے میں ان کا بیان انادولو کی رپورٹ سے ہم آہنگ ہے، جو اسی واقعے پر ایک خبر رساں ادارے کا بیان ہے۔ ان پوسٹس میں مزید تفصیلات نہیں ہیں۔
ذرائع میں نقصانات کے تخمینوں، پولیس اہلکاروں یا شہریوں کے زخمی ہونے، یا کسی پر فرد جرم عائد ہونے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔ یہ بھی واضح نہیں کہ گرفتار افراد اب بھی حراست میں ہیں یا نہیں۔
پس منظر
فرانس میں وزیر داخلہ پولیسنگ اور امنِ عامہ کا ذمہ دار ہوتا ہے اور سڑکوں پر تشدد پھوٹنے کی صورت میں عموماً حکومت کا سب سے نمایاں چہرہ ہوتا ہے۔ بدامنی کے دور کے بعد استعفیٰ کی پیشکش وزیر کے لیے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ صدر اسے قبول یا مسترد کر سکتا ہے۔ اس معاملے میں ایلیزے کے مطابق میکرون نے اسے مسترد کیا۔
ذرائع ہنگامہ آرائی کو کسی وسیع تر سیاسی بحث سے نہیں جوڑتے، اور یہ رپورٹ ایسا کوئی تعلق نہیں جوڑتی۔ تحریر کے وقت زیرِ جائزہ مواد میں مزید سرکاری بیانات، گرفتاریوں سے متعلق عدالتی اعداد و شمار اور متاثرہ شہروں کی تفصیلات شائع نہیں ہوئی تھیں۔
زینگا نیوز اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا اگر ایلیزے، وزارتِ داخلہ یا فرانسیسی حکام اس فیصلے، ہفتے کے واقعات یا گرفتاریوں پر مزید معلومات جاری کرتے ہیں۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 18 اکتوبر، 2026مہنگائی کے خلاف احتجاج فرانس میں پرتشدد ہو گیا، 1,200 گرفتار
- 19 اکتوبر، 2026فرانسیسی وزیر اعظم کا دعویٰ: صدارتی انتخاب سے قبل انتہائی بائیں بازو نے احتجاج کے ذریعے افراتفری پھیلانے کی کوشش کی
- 19 اکتوبر، 2026فرانس میں طلبہ احتجاج کے بینرز پر 'بسم اللہ' کا نعرہ پھیل گیا
- 19 اکتوبر، 2026میکرون نے وزیر داخلہ کا استعفیٰ مسترد کر دیا، فرانس بھر میں ہنگامہ آرائی کے بعد
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Anadolu Agencyen · 19 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Mubasher (Telegram)ar · 19 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 19 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟