محمود خلیل نے امریکی سپریم کورٹ سے ان کے آزادیٔ اظہار اور حراست کے مقدمے کی سماعت کی درخواست کی
کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالب علم کہتے ہیں کہ وفاقی ججوں کو ایسی حراست کا جائزہ لینے کا اختیار ہونا چاہیے جسے وہ انتقامی قرار دیتے ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق اس فیصلے کا اثر فلسطین کی حمایت کرنے والے دیگر غیر شہری کارکنوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
واشنگٹن — کولمبیا یونیورسٹی کے سابق گریجویٹ طالب علم محمود خلیل نے امریکی سپریم کورٹ سے اپنے مقدمے کی سماعت کی درخواست کی ہے۔ ان کے وکلا نے پیر کے روز بتایا کہ ان کا مؤقف ہے کہ وفاقی عدالتوں کو ایسی حراست کا جائزہ لینے کا اختیار ہونا چاہیے جسے وہ اظہارِ رائے کا انتقام قرار دیتے ہیں۔
مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق خلیل کی درخواست میں دلیل دی گئی ہے کہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ وفاقی عدالتوں کو سزا یا انتقام کے طور پر کی گئی حراست کے خلاف "ہیبیas" درخواستوں کی سماعت سے نہیں روکتا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر قانون ایسے جائزے پر پابندی لگاتا ہے تو اس کا اطلاق ان کے کیس پر غیر آئینی ہے۔
خلیل کے وکیل اور آئینی قانون کے ماہر بہر عظمی نے سینٹر فار کونسٹی ٹیوشنل رائٹس کے زیرِ اہتمام ایک ورچوئل پریس بریفنگ میں صحافیوں سے بات کی۔ عظمی نے کہا: "عدالت کے سامنے اصل سوال اس غیر معمولی طور پر امیگریشن اختیار کو ہتھیار بنانے کے واضح طور پر غیر آئینی ہونے کا نہیں ہے۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا وفاقی عدالتیں، حبسِ بے جا کی عظیم رٹ کے ذریعے، اس انتہائی غیر قانونی انتظامی اقدام کا جائزہ لے سکتی ہیں۔"
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق خلیل نے زوم پر منعقدہ اس بریفنگ میں بھی بات کی۔
درخواست کا مقصد
ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں کوئدس نیوز نیٹ ورک نے کہا کہ خلیل چاہتے ہیں کہ عدالت ٹرمپ انتظامیہ کو انھیں دوبارہ حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے سے روکے۔ چینل کے مطابق ان کی قانونی ٹیم سمجھتی ہے کہ یہ مقدمہ آئینی حقوق اور فلسطین کی حمایت کرنے والے کارکنوں کی حکومتی انتقام کو چیلنج کرنے کی صلاحیت کے لیے خطرہ ہے۔ اس پوسٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ان غیر شہری رہائشیوں پر وسیع اثرات ڈال سکتا ہے جو فلسطین کے حق میں بولنے کے خلاف انتظامیہ کے کریک ڈاؤن کی زد میں آئے ہیں۔ اس نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے اسکالر بدر خان سوری کو ان میں سے ایک کے طور پر نامزد کیا۔
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ خلیل کے امیگریشن کیس کے آگے بڑھنے کے دوران وفاقی جج کو مداخلت کا کوئی حق نہیں تھا، کیونکہ انتظامیہ انھیں ملک بدر کرنا چاہتی ہے۔ امیگریشن کے مقدمات ان امیگریشن ججوں کے سامنے سنے جاتے ہیں جو محکمۂ انصاف کے تحت کام کرتے ہیں۔ وفاقی جج آزاد ہوتے ہیں۔
مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق خلیل کو امریکہ سے نکالے جانے کا حکم پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔ وہ اس حکم کے خلاف اپیل کر رہے ہیں۔ ادارے نے کہا کہ وفاقی جج کے پہلے رہائی کے حکم کی وجہ سے، اپیل جاری رہنے کے دوران انھیں دوبارہ حراست میں نہیں لیا جا سکتا۔
پس منظر
امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے مارچ 2025 میں خلیل کو گرفتار کیا۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق یہ گرفتاری ٹرمپ انتظامیہ کے اس عزم کے تحت ہوئی کہ غیر شہریوں میں اسرائیل مخالف بیانات کا خاتمہ کیا جائے گا۔ سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے انھیں بتایا کہ ان کا طالب علم ویزا اور گرین کارڈ منسوخ کیا جا چکا ہے۔
ادارے کی رپورٹ کے مطابق خلیل 104 دن امیگریشن حراست میں رہے اور اس دوران ان کے پہلے بچے کی پیدائش بھی ہوئی جس میں وہ شریک نہ ہو سکے۔ ان کی شادی ایک امریکی شہری سے ہوئی ہے۔ کوئدس نیوز نیٹ ورک نے انھیں امریکہ کا مستقل رہائشی بتایا، جبکہ مڈل ایسٹ آئی نے انھیں سابق گرین کارڈ ہولڈر کے طور پر بیان کیا۔
نیو جرسی کی ایک وفاقی عدالت نے جون 2025 میں ان کی رہائی کا حکم دیا۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق جج نے پایا کہ خلیل نہ تو کسی کے لیے خطرہ ہیں اور نہ ہی فرار ہونے کا امکان رکھتے ہیں۔ جج نے انتظامیہ کی جانب سے ان کی گرفتاری کے لیے استعمال کی گئی مبہم خارجہ پالیسی شق کو ناکافی جواز بھی قرار دیا۔
گزشتہ ماہ خلیل نے کولمبیا یونیورسٹی کے خلاف وفاقی مقدمہ دائر کیا، جیسا کہ مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی نے ان جیسے افراد کے ساتھ امتیازی سلوک، ہراسانی اور امیگریشن اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری کی اجازت دی۔ کولمبیا کے اسکول آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز کی طلبہ تنظیم پیلیسٹائن ورکنگ گروپ اور اس کے صدر محمد ابراہیم زبیری اس مقدمے میں شامل ہو گئے ہیں۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ خلیل ایک فلسطینی مسلمان ہیں جن کے پاس الجزائر کا پاسپورٹ ہے، جبکہ زبیری ایک پاکستانی مسلمان ہیں۔
سپریم کورٹ نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ آیا وہ اس مقدمے کی سماعت کرے گی۔
خبر کیسے آگے بڑھی
- 20 اکتوبر، 2026Politically motivated crimes in Baden-Württemberg nearly double since 2022
- 20 اکتوبر، 2026Islamic Supreme Council of Canada to meet Pope Leo XIV at Vatican
- 20 اکتوبر، 2026Rogers Says Michigan Voters Worry About El-Sayed
- 20 اکتوبر، 2026ٹرمپ نے قومی سلامتی کے حوالے سے 12 ممالک پر سفری پابندی کے حکم نامے پر دستخط کر دیے
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Quds News Network (Telegram)en · 19 اکتوبر، 2026
- Middle East Eyeen · 19 اکتوبر، 2026
- Anadolu Agencyen · 19 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Englishen · 19 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟