Skip to content
Zenga News

عراقی صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں پر ریاستی کنٹرول کے لیے بڑی طاقتوں کو خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا

عراقی صدارت کے ترجمان نے الجزیرہ کو بتایا کہ ہتھیاروں کو ریاست تک محدود رکھنے کے لیے بڑی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ، کی جانب سے عراق کی خودمختاری کے احترام کا عزم درکار ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: This is a photograph of the Green Zone in Baghdad taken by Robert Smith released into the public domain.
File photo: This is a photograph of the Green Zone in Baghdad taken by Robert Smith released into the public domain. تصویر: User:Bobsmith040689 / Wikimedia Commons · Public domain

بغداد — عراقی صدارت کے ایک ترجمان نے اتوار کے روز کہا کہ الجزیرہ کے مطابق ہتھیاروں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کے لیے بڑی طاقتوں، خاص طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ، کو عراق کی خودمختاری کے احترام کا عزم کرنا ہوگا۔

یہ بیان 18 اکتوبر 2026 کو الجزیرہ عربی کے ٹیلی گرام چینل پر ایک بریکنگ نیوز پوسٹ میں نقل کیا گیا۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ ترجمان نے یہ بات الجزیرہ سے کہی۔ اس بیان کا یہ چینل پوسٹ ہی واحد ذریعہ ہے۔ زینگا نیوز کو دستیاب مواد میں مکمل انٹرویو شائع شدہ نہیں تھا۔

پوسٹ کے مطابق ترجمان نے کہا کہ ہتھیاروں کو "ریاست تک محدود رکھنا" بڑی طاقتوں کے عزم پر منحصر ہے۔ پوسٹ میں امریکہ کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ترجمان کسی خاص واقعے، تجویز یا حکومتی منصوبے کا جواب دے رہے تھے یا نہیں۔

کیا تصدیق شدہ نہیں ہے

پوسٹ میں ترجمان کا نام نہیں لیا گیا۔ اس میں مزید بیانات کے الفاظ بھی نہیں دیے گئے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ صدارت امریکہ یا دیگر ممالک سے کیا توقع رکھتی ہے، اور نہ ہی یہ کہ بیان میں کن مسلح گروہوں یا ہتھیاروں کا ذکر تھا۔

جائزہ لیے گئے ذرائع میں امریکہ، عراقی حکومت یا دیگر عراقی حکام کا کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ زینگا نیوز ترجمان کے بیانات یا ان کے پس منظر کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

عربی زبان کے ذرائع میں "ہتھیاروں کو ریاست تک محدود رکھنا" کا فقرہ عام طور پر اس تصور کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ صرف سرکاری ریاستی قوتوں کے پاس اسلحہ ہونا چاہیے۔ ٹیلی گرام پوسٹ میں اس اصطلاح کی تعریف نہیں کی گئی، اور یہ رپورٹ پوسٹ میں شامل بیان سے آگے صدارت سے کسی مخصوص پالیسی کو منسوب نہیں کرتی۔

پس منظر

یہ بیان اسی دن سامنے آیا جس دن مصر کی جامعہ الازہر نے علاقائی تنازع پر ایک الگ اپیل جاری کی، جیسا کہ انڈونیشیا کے ادارے ریپبلیکا نے رپورٹ کیا۔ اس اپیل میں عراق کا ذکر نہیں تھا۔

18 اکتوبر 2026 کے ایک بیان میں جامعہ الازہر کے گرینڈ امام شیخ احمد الطیب نے عرب اور اسلامی ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ثالثی کمیٹی کی فوری تشکیل کا مطالبہ کیا۔ ریپبلیکا کے مطابق یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا جب مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے دور کے تنازع میں سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی۔

الطیب نے عرب اور مسلم رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ مذہب، خون اور زبان کے رشتوں کو قائم رکھیں اور دانش و مکالمے کو ترجیح دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تقسیم اور داخلی تنازعات نے عرب اور اسلامی دنیا کو کمزور کیا ہے، ان کی سلامتی اور خودمختاری کو خطرے میں ڈالا ہے اور وسائل ضائع کیے ہیں۔

جامعہ الازہر نے کہا کہ تجویز کردہ کمیٹی میں عرب اور اسلامی ممالک کی دانشمند اور مخلص شخصیات شامل ہونی چاہئیں جو بحران کم کرنے اور تنازعات حل کرنے میں مدد کریں۔ ادارے نے کہا کہ وہ کمیٹی کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ریپبلیکا نے اس اقدام کو ادارے کی سیاست اور سفارت کاری میں نسبتاً نادر قدم قرار دیا، اور کہا کہ اسے بڑی حد تک علامتی سمجھا جائے گا۔

یہ دونوں خبریں مختلف اداروں سے آئی ہیں اور مختلف بیانات سے متعلق ہیں۔ دونوں ذرائع میں سے کوئی بھی عراقی صدارت کے بیان کو الازہر کی اپیل یا سعودی-حوثی جھڑپوں سے نہیں جوڑتا۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج