عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کے لیے تیار ہے، تہران نے آبنائے ہرمز کی شرائط طے کر دیں
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ تنازع کے لیے تیار ہے اور اس نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط مقرر کی ہیں۔ یہ بیان الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو سے سامنے آیا ہے۔
دوحہ — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ دوبارہ جنگ کو خارج از امکان قرار نہیں دیتا اور "تمام صورتوں" کے لیے تیار ہے۔ یہ بات 31 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والے الجزیرہ کے ایک انٹرویو میں کہی گئی۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کے لیے شرائط بھی پیش کیں۔
عراقچی نے کہا کہ ایران نے "اپنے ہتھیاروں کو جدید بنایا ہے، اپنی کمزوریوں پر قابو پایا ہے اور نئے ہتھیاروں کا تجربہ کیا ہے"، اور اس کی افواج "تیاری کی بلند ترین سطح" پر ہیں، جیسا کہ اسی انٹرویو میں بتایا گیا۔ الجزیرہ کا یہ انٹرویو مڈل ایسٹ آئی نے لائیو بلاگ میں شائع کیا، اور اسی نے یہ بیانات رپورٹ کیے۔ زنگا نیوز کو دستیاب مواد میں ان فوجی دعوؤں کی کسی آزاد تصدیق کا ذکر نہیں ہے۔
آبنائے ہرمز کے بارے میں عراقچی نے کہا کہ قطری ثالثوں کے ساتھ مشاورت کے نتیجے میں آبی راستہ دوبارہ کھولنے کی تجویز کردہ مدت پانچ دن سے کم کر کے دو دن کر دی گئی ہے۔ زنگا نیوز کو دستیاب مواد میں انہوں نے اس شیڈول کی مزید تفصیل نہیں دی۔
عراقچی کے بیان کے مطابق ایران کی شرائط میں وہ پابندیاں ہٹانا شامل ہے جو مبینہ طور پر اسلام آباد یادداشت کے بعد عائد کی گئیں، خطے میں امریکی افواج کی تعداد کم کرنا، تیل کی چھوٹ بحال کرنا، اور منجمد ایرانی فنڈز جاری کرنا، بشمول وہ رقوم جو قطر میں رکھی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان شرائط پر آبنائے کو دوبارہ کھولنا واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک ایرانی وفد قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ مشاورت جاری رکھنے کے لیے قطر پہنچا ہے۔ انہوں نے امریکی حکام کے ساتھ کسی فوری ملاقات کا امکان مسترد کر دیا۔
عراقچی نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے خط کو، جس میں مکالمے کی خواہش ظاہر کی گئی، "مثبت قدم" قرار دیا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اختلافات پیدا کرنے کی کوئی بھی کوشش واشنگٹن کی ایک اور غلطی ہوگی۔
یہ کیوں اہم ہے
آبنائے ہرمز خلیج سے تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ عراقچی کے بیانات آبی راستے کے دوبارہ کھلنے کو مطالبات کے ایک سلسلے سے جوڑتے ہیں، جن میں پابندیوں میں نرمی، خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں کمی اور منجمد فنڈز تک رسائی شامل ہیں۔ اس لیے جہاز رانی کی بحالی ان مذاکرات پر منحصر ہے جو ابھی شروع نہیں ہوئے۔ ماخذ میں یہ بیان نہیں کیا گیا کہ حالیہ ہفتوں میں جہاز رانی پر کیا اثر پڑا، اور رپورٹ میں آبنائے سے گزرنے والی ٹریفک کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔
پس منظر
عراقچی کے بیانات میں اسلام آباد یادداشت کو ان پابندیوں کی بنیاد کے طور پر ذکر کیا گیا ہے جنہیں ایران ہٹوانا چاہتا ہے۔ ماخذ میں اس یادداشت کی شرائط یا تاریخ بیان نہیں کی گئی۔ عراقچی کے مطابق قطر اور پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد دونوں ممالک کے ثالثوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے قطر میں ہے۔
عراقچی کے تبصرے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دور کے بعد سامنے آئے ہیں۔ ماخذ "دوبارہ جنگ" کے امکان کا ذکر کرتا ہے، جس سے پہلے کی لڑائی کا مفہوم نکلتا ہے، لیکن ان واقعات کی تفصیل نہیں دیتا۔ زنگا نیوز کو دستیاب مواد میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کب ہوئے یا کس طرح ختم ہوئے۔
آگے کیا ہوگا
عراقچی نے کہا کہ ایران کی شرائط کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے ملاقات کی کوئی تاریخ نہیں دی، اور امریکی حکام کے ساتھ فوری ملاقات کا امکان مسترد کیا۔ ماخذ میں دو دن کی اس مدت کے علاوہ کسی طے شدہ ووٹ، آخری تاریخ یا ملاقات کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ آیا امریکہ نے ایران کی شرائط قبول کی ہیں۔ زنگا نیوز کو عراقچی کے بیانات پر واشنگٹن کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟