Skip to content
Zenga News

ایران ایئر کے 20 سے 30 طیارے جنگ میں تباہ ہونے کا دعویٰ

ایران کی سرکاری ملکیت والی قومی فضائی کمپنی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران 20 سے 30 طیارے تباہ ہوئے۔ ان کے مطابق فضائی کمپنی کو تقریباً 1,000 مسافر طیاروں کی ضرورت ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: This photo is from a press conference and/or unveiling ceremony of new air defense systems held at Iran's Khatam al-Anbia Air Defense Base.
File photo: This photo is from a press conference and/or unveiling ceremony of new air defense systems held at Iran's Khatam al-Anbia Air Defense Base. تصویر: Hossein Razaqnejad / Wikimedia Commons · CC BY 4.0

تہران — ایران کی سرکاری ملکیت والی قومی فضائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے پیر کے روز نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق کہا کہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ کے دوران 20 سے 30 طیارے تباہ ہوئے۔ ایران ایئر، جو ہوما کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، کے سی ای او طاہر عبدالحی نے یہ بات ایک نیوز کانفرنس میں کہی۔ اس رپورٹ کا ماخذ تسنیم ہے، جس نے عبدالحی کے بیانات نقل کیے۔ انادولو ایجنسی نے 19 اکتوبر 2026 کو یہ موقف رپورٹ کیا۔

عبدالحی کے مطابق ایران کو تقریباً 1,000 مسافر طیاروں کی ضرورت ہے، لیکن اس کے پاس صرف 300 کے قریب ہیں۔ ان میں سے 130 سے 140 جنگ سے پہلے فعال تھے۔ ان کے مطابق ان میں سے 20 سے 30 طیارے تنازع کے دوران تباہ ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران 70 سے 80 طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

عبدالحی نے کہا کہ اسرائیلی حملوں سے ایران ایئر کے طیاروں کو خاص طور پر شدید نقصان پہنچا۔ ان کے بقول دیگر آپریٹرز کے کچھ طیاروں کو ایک ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ فضائی کمپنی کا ایک طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ یہ دعوے صرف عبدالحی کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں طیاروں کے نقصان کی کسی آزاد تصدیق کا ذکر نہیں ہے۔

فضائی کمپنی کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی پابندیوں اور پابندیوں نے ایران ایئر کی کارروائیوں کو بتدریج کمزور کیا ہے۔ ان کے مطابق ان سے فعال بیڑے میں کمی آئی ہے اور منافع بخش راستوں تک رسائی محدود ہوئی ہے۔ انہوں نے سپیئر پارٹس کے حصول میں مشکلات، مالی تنگی اور عملے کی کمی کو بڑی رکاوٹیں قرار دیا۔

عبدالحی نے کہا کہ ایران ایئر میں 9,000 سے زائد افراد ملازم ہیں۔ ان کے مطابق جیسے جیسے فعال طیاروں کی تعداد کم ہو رہی ہے، کمپنی کو اپنی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔ انہوں نے قومی فضائی کمپنی کی نجکاری کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ ایران ایئر تجارتی ہوابازی سے بالاتر قومی اسٹریٹجک مفادات کی خدمت کرتی ہے۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ملک جنگ کے مسلسل اثرات سے دوچار ہے، جسے رپورٹ میں ایران کے فوجی اور شہری ڈھانچے کو وسیع نقصان پہنچانے والا قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں طیاروں کی تعداد کے علاوہ اس نقصان کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔

رپورٹ سے واضح نہیں کہ 70 سے 80 نشانہ بنائے گئے طیاروں میں سے کتنوں کو ہدف بنایا گیا، یا باقی فعال طیاروں میں سے کتنے اس وقت پرواز کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ طیارے کب تباہ ہوئے۔

پس منظر

امریکی پابندیوں نے ایران کی نئے طیاروں، سپیئر پارٹس، دیکھ بھال کی خدمات اور بین الاقوامی مالی معاونت تک رسائی محدود کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کے 2018 میں جوہری معاہدے سے دستبرداری اور پابندیوں کی دوبارہ بحالی نے بوئنگ اور ایئربس سے طیاروں کی خریداری کو متاثر کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس سے بعض طیارے گراؤنڈ ہو گئے اور دیکھ بھال کے اخراجات بڑھ گئے۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج