Skip to content
Zenga News

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ "غیر مجاز" راستے استعمال کرنے کے بعد چار ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرائے

ایران کے انقلابی گارڈز کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں چار ٹینکر بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرائے۔ الجزیرہ نے 30 اکتوبر 2026 کو اپنی براہِ راست کوریج میں یہ دعویٰ رپورٹ کیا۔ اس کے حق میں کسی آزاد تصدیق کا حوالہ نہیں دیا گیا۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ

آبنائے ہرمز — ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں چار ٹینکر "غیر مجاز" راستے استعمال کرنے کے بعد بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرائے۔ یہ بات الجزیرہ انگلش کی 30 اکتوبر 2026 کو ایران جنگ سے متعلق براہِ راست کوریج کے مطابق کہی گئی۔

یہ دعویٰ IRGC کی جانب سے سامنے آیا ہے، جسے الجزیرہ نے آگے پہنچایا۔ دستیاب مواد میں ان واقعات کی آزاد تصدیق شامل نہیں۔ اس میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ آیا کوئی جہاز متاثر ہوا، کسی کو نقصان پہنچا، یا کوئی کارگو گرا۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

پاسداران کا موقف

الجزیرہ کے خلاصے کے مطابق، IRGC کا کہنا ہے کہ چار ٹینکر آبنائے کے ان راستوں پر چلنے کے بعد بارودی سرنگوں سے ٹکرائے جنہیں اس نے غیر مجاز قرار دیا۔ الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ IRGC ان واقعات کو جہازوں کے راستوں کے انتخاب سے جوڑ رہی ہے۔ ذرائع یہ وضاحت نہیں کرتے کہ اس کی مراد کون سے راستے ہیں، یا ان کی اجازت یا پابندی کس نے دی تھی۔

کیا تصدیق شدہ نہیں

ذرائع چاروں ٹینکروں کے نام نہیں بتاتے۔ وہ ان کے پرچم، مالکان، آپریٹرز یا کارگو کی تفصیل نہیں دیتے۔ وہ یہ بھی نہیں بتاتے کہ آبنائے میں یہ واقعات کب اور کہاں پیش آئے۔

مواد میں جہازوں کے آپریٹرز، سمندری حکام یا دیگر حکومتوں کا کوئی بیان شامل نہیں۔ کسی بیان میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ بارودی سرنگیں کس نے بچھائیں۔ راستوں کو "غیر مجاز" قرار دینے کے IRGC کے دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔

چونکہ صرف ایک فریق کا دعویٰ رپورٹ ہوا ہے، اس لیے ان واقعات کو IRGC کا دعویٰ ہی سمجھا جانا چاہیے۔ دیگر ذرائع سے تصدیق ہونے تک انہیں ثابت شدہ حقیقت نہیں مانا جا سکتا۔

مکہ کے علاقے پر ڈرون سے متعلق الگ رپورٹ

العربیہ کے ٹیلیگرام چینل پر 30 اکتوبر کو ایک الگ پوسٹ میں کہا گیا کہ سعودی قیادت والے اتحاد نے مکہ کے علاقے کے اوپر ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا۔ اس پوسٹ میں چینل نے اس حملے کا ذمہ دار حوثی ملیشیا کو ٹھہرایا۔ یہ پوسٹ ایک غیر تصدیق شدہ سوشل میڈیا آئٹم ہے۔ دستیاب مواد سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اتحاد یا کسی دوسرے سرکاری ادارے نے اس بارے میں مزید تفصیلی بیان جاری کیا ہے یا نہیں۔

پوسٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرون کہاں گرا، آیا کوئی نقصان ہوا، یا ہدف کیا تھا۔ اس میں اس واقعے کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کے رپورٹ شدہ واقعات سے بھی نہیں جوڑا گیا۔ یہ دونوں خبریں یہاں اس لیے شامل کی گئی ہیں کہ دونوں ایک ہی دن شائع ہوئیں۔ ذرائع ان کے درمیان کوئی تعلق قائم نہیں کرتے۔

پس منظر

الجزیرہ اس تنازع کو "Iran war live" کے عنوان سے براہِ راست بلاگ میں کور کر رہا ہے۔ فراہم کردہ مواد میں جنگ کی پیش رفت، آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے قواعد، یا بارودی سرنگوں کے پہلے واقعات کے بارے میں مزید پس منظر شامل نہیں۔ اس لیے اس رپورٹ میں ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔

مزید تفصیلات IRGC، جہازوں کے آپریٹرز اور سمندری حکام کے بیانات پر منحصر ہوں گی۔ زیرِ جائزہ مواد میں ان میں سے کوئی بیان شامل نہیں تھا۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج