لیکud کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی انتخابات چوری ہوئے، پولیس کو منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا
نیتن یاہو کے اتحاد نے حتمی نتائج کے مطابق 120 میں سے 53 نشستیں جیتیں۔ لیکud کا الزام ہے کہ عرب قیادت والی جماعتوں نے ووٹ خریدے، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
یروشلم — بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکud نے کہا ہے کہ اسرائیل کے 27 اکتوبر کے انتخابات عرب قیادت والی جماعتوں کے ہاتھوں "چوری" ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے منظم دھاندلی کے دعوے کی کوئی بنیاد نہیں ملی، ریپبلیکا کے حوالے سے اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں یہ بات بیان کی گئی ہے۔
حتمی سرکاری نتائج جمعے کی صبح جاری کیے گئے۔ سینٹرل الیکشن کمیٹی کے مطابق نیتن یاہو کے دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کے اتحاد نے 120 نشستوں والی کنیسیٹ میں 53 نشستیں جیتیں، جو اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں سے کم ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق لیکud 27 نشستوں کے ساتھ اب بھی سب سے بڑی واحد جماعت ہے۔
موقع سے، سوشل میڈیا پر
سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد نے 48 نشستیں جیتیں۔ کمیٹی کے مطابق باقی 19 نشستیں عرب قیادت والی جماعتوں کے حصے میں آئیں۔ عرب نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ پچھلی پارلیمان میں نیتن یاہو کے اتحاد کی نشستیں اپنی انتہائی بلندی پر 68 تھیں۔
لیکud کے الزامات
لیکud نے کہا کہ انتخابات چوری ہوئے، یہ بیان عرب نیوز نے جمعرات کی تاریخ کے ساتھ شائع کیا۔ ریپبلیکا نے ٹائمز آف اسرائیل کے حوالے سے لیکud کا بیان بدھ کی تاریخ سے منسوب کیا ہے، یعنی ووٹنگ کے اگلے دن۔ اس لیے ذرائع میں وقت کے تعین پر اختلاف ہے۔
"اسرائیل میں انتخابات چوری ہوئے ہیں!" جماعت نے عرب نیوز کے مطابق کہا۔ اس نے الزام لگایا کہ مبینہ مداخلت کا مقصد پارلیمان پر غیر ملکی قبضہ ممکن بنانا اور دائیں بازو کی حکومت کو گرانا تھا۔ عرب نیوز کے مطابق لیکud نے غیر ملکی مدد کے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
ریپبلیکا نے ٹائمز آف اسرائیل کے حوالے سے بتایا کہ لیکud نے کئی مبینہ جرائم کی فہرست دی۔ ان میں ووٹروں کو رشوت دینا، دھمکیاں، تشدد، جعلسازی اور ایسا سافٹ ویئر استعمال کرنا شامل ہیں جو مبینہ طور پر ٹرن آؤٹ بڑھانے کے لیے قواعد کی خلاف ورزی کرتا تھا۔ جماعت نے یہ الزام بھی لگایا کہ رَعام پارٹی کے بیلٹ کے ساتھ نقدی والے لفافے تقسیم کیے گئے۔ مزید یہ کہ پولنگ عملے کو ڈرانے دھمکانے، دوہرے ووٹ ڈالنے، اور کچھ مقامات پر ووٹروں کی تعداد اور بیلٹ لفافوں کے مابین عدم مطابقت کا الزام بھی لگایا گیا۔
لیکud نے کہا کہ اس نے سینکڑوں گواہیاں اور دیگر مواد جمع کیا ہے۔ ریپبلیکا کے مطابق یہ مواد پولیس، شن بیت داخلی سلامتی ایجنسی اور سینٹرل الیکشن کمیٹی کو فراہم کیا گیا ہے۔ جماعت نے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
عرب نیوز نے سیاستدانوں اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والے ان دعوؤں کی بھی رپورٹ کی ہے کہ قطر نے ووٹ خریدنے کے لیے عرب قیادت والی جماعتوں کو مالی معاونت فراہم کی۔ جماعتوں اور قطر دونوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ریپبلیکا کی رپورٹ کے مطابق عرب قیادت والی جماعتوں نے لیکud کے الزامات کو وسیع تر سطح پر بھی مسترد کیا اور کہا کہ نیتن یاہو ان کی کامیابیوں کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پولیس اور الیکشن حکام کا ردِعمل
ریپبلیکا کے مطابق، جس نے جمعرات کو شائع ہونے والی جیروسلم پوسٹ اور ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹوں کا حوالہ دیا، اسرائیلی پولیس نے کہا کہ اس کے پاس انتخابات چوری ہونے کے دعوے کی تحقیقات کی کوئی بنیاد اور کوئی انٹیلیجنس نہیں ہے۔ پولیس نے کہا کہ ووٹنگ انتخابی سالمیت سے متعلق بہت کم واقعات کے ساتھ ہوئی، حتیٰ کہ بعض پچھلے انتخابات کے مقابلے میں بھی۔
پولیس نے انفرادی مبینہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا ہے۔ ریپبلیکا کے مطابق رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ انتخابی دن کے بعد جنوبی اسرائیل میں کم از کم سات افراد کو دھوکہ دہی میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا۔ ریپبلیکا کا متن ان مقدمات کے انتظام کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے ہی کٹ گیا۔
سپریم کورٹ کے جج نوم سوہلبرگ، جو سینٹرل الیکشن کمیٹی کے سربراہ ہیں، نے عرب نیوز کے مطابق غیر ملکی مداخلت کے شبہات شن بیت کو بھیجے۔ ایجنسی کے نام خط میں انہوں نے کہا کہ وہ ان الزامات کی تصدیق نہیں کر سکتے، تاہم انہیں اتنا سنگین سمجھتے ہیں کہ ان کی تحقیقات ضروری ہے۔
شن بیت نے تصدیق کی کہ وہ مشتبہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔ عرب نیوز کے مطابق ایجنسی نے کہا کہ یہ تحقیقات "جمہوری اور قانونی طریقے سے ووٹ دینے کے لیے نکلنے والے پورے طبقے پر الزام تراشی یا اسے موردِ الزام ٹھہرانے" کے لیے نہیں ہے۔
کمیٹی نے حتمی نتائج کے ساتھ جاری بیان میں کہا کہ تحقیقات کے بارے میں گردش کرنے والی کچھ معلومات بالکل بے بنیاد ہیں۔ اس نے کہا کہ تحقیقات صدر آئزک ہرزوگ کو پیش کیے جانے والے نتائج پر اثرانداز نہیں ہوگی اور یہ آبادی کے کسی خاص طبقے سے متعلق نہیں ہے۔ کمیٹی نے شن بیت سے اس کے نتائج ایک ہفتے کے اندر طلب کیے ہیں۔
سیاسی ردِعمل
عرب نیوز کے مطابق آئزنکوٹ نے نیتن یاہو کے کیمپ پر الزام لگایا کہ وہ نتیجے کی قانونی حیثیت ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ وہ اپنی اکثریت کھو چکا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ہرزوگ نے اسے ملک کے لیے ایک حساس لمحہ قرار دیا اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات سے بھی خبردار کیا کہ جمہوری حق استعمال کرنے والی پوری کمیونٹی کو بدنام نہ کیا جائے۔
رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ عرب جماعتوں کی کامیابی کے بعد نیتن یاہو نے ان پر تنقید تیز کر دی۔ ریپبلیکا کے مطابق انہوں نے ان جماعتوں کے کچھ ووٹوں کی درستی پر سوال اٹھایا ہے، تاہم وسیع پیمانے پر ہیرا پھیری کا کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا۔ ریپبلیکا نے یہ بھی کہا کہ لیکud کے تازہ ترین سرکاری بیان کے مطابق، مبینہ خلاف ورزیاں کسی منظم کارروائی کی شکل میں قومی نتیجے پر اثرانداز ہونے کا کوئی ثبوت عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔
اتحادی مذاکرات
عرب نیوز کے مطابق نیتن یاہو عہدے پر برقرار ہیں، جبکہ جماعتیں اتحاد کے بارے میں غور کر رہی ہیں اور حکومتی اکثریت تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔
عرب قیادت والے گروپوں کی جیتی ہوئی 19 نشستیں، جن میں رَعام اور جوائنٹ لسٹ شامل ہیں، فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں اگر آئزنکوٹ کا اتحاد 61 نشستوں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق آئزنکوٹ نے عرب قیادت والی جماعتوں کے ساتھ تعاون کے امکان کو کھلا رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسا اتحاد سیاسی طور پر حساس ہوگا۔ اس مقام پر اس رپورٹ کا متن کٹ گیا۔
پس منظر
عرب نیوز کے مطابق اسرائیل کی آبادی میں عرب شہریوں کا حصہ تقریباً 20 فیصد ہے اور ان کی اکثریت فلسطینی نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ ریپبلیکا نے انہیں آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ قرار دیا ہے۔
عرب نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ نیتن یاہو اور لیکud نے انتخابات سے پہلے عرب قیادت والی جماعتوں کے خلاف مہم چلائی اور انہیں اسرائیل کے لیے خطرہ قرار دیا۔ ناقدین نے اسے عرب شہریوں کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش قرار دیا۔ عرب نیوز کے مطابق ان حملوں اور نیتن یاہو اور ان کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت سے متعلق عوامی بے چینی نے عرب ووٹ کی غیرمعمولی بلند شرح میں کردار ادا کیا۔
شن بیت کے نتائج، جو الیکشن کمیٹی کے مطابق ایک ہفتے میں متوقع ہیں، ان الزامات کی تحقیقات میں اگلا باقاعدہ قدم ہیں۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟