سینٹکوم نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیوں کے آپشنز پیش کیے
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بریفنگ دی، ایجنسی انتارا کے مطابق، جس نے وال اسٹریٹ جرنل کا حوالہ دیا۔ ایران کے ساتھ تنازع ابھی تک حل طلب ہے۔

واشنگٹن — امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکوم) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے جمعرات، 29 اکتوبر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے آپشنز پیش کیے، انڈونیشیائی خبر رساں ایجنسی انتارا کے مطابق، جس نے وال اسٹریٹ جرنل کا حوالہ دیا۔
زنگا نیوز کی اس رپورٹ میں شامل تمام معلومات انڈونیشیائی خبر رساں ایجنسی انتارا سے لی گئی ہیں، جو اپنی رپورٹ کو وال اسٹریٹ جرنل اور اس اخبار کے حوالے کردہ غیر مصرح ذرائع سے منسوب کرتی ہے۔ زنگا نیوز نے ان تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔
موقع سے، سوشل میڈیا پر
بریفنگ
انتارا کے جرنل کی رپورٹ کے خلاصے کے مطابق بریفنگ وائٹ ہاؤس میں ہوئی۔ انتارا کے مطابق جرنل کے ذرائع نے بتایا کہ کوپر نے کئی آپشنز پیش کیے۔ انتارا کے ذریعے پہنچنے والی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ آپشنز کیا تھے۔
انتارا کے مطابق امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ اور مشترکہ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔
یہ نشست اس سے ایک دن پہلے ہونے والی اسی طرح کی بریفنگ کے بعد ہوئی۔ انتارا کے مطابق بدھ کو وائٹ ہاؤس میں فوجی حکام نے نائب صدر جے ڈی وینس کو بھی اسی نوعیت کی پیشکش کی تھی۔
ماخذ مواد میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بریفنگ کے بعد ٹرمپ نے کوئی فیصلہ کیا یا نہیں۔ اس میں کسی ممکنہ کارروائی کے لیے کوئی ٹائم لائن بھی نہیں دی گئی۔
ٹرمپ کے پہلے کے بیانات
انتارا کے مطابق ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ واشنگٹن "آپریشن ایپک فیوری" کے تحت ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں کر سکتا ہے۔ ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے یہ بیانات کب دیے تھے۔
انتارا کے مطابق ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر تہران شدید اضافے سے بچنا چاہتا ہے تو اسے مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔ ایجنسی کی انڈونیشیائی زبان کی رپورٹ میں ان کا یہ قول درج ہے: "اگر وہ عقلمند ہیں تو وہ مذاکراتی میز پر واپس آئیں گے۔" یہ الفاظ انڈونیشیائی سے کیے گئے ترجمے پر مبنی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ کے اصل انگریزی بیان سے مختلف ہوں۔
انتارا نے مزید بتایا کہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کو بھی کھلا رکھا ہے۔
پس منظر
انتارا نے تنازع کا خاکہ یوں پیش کیا۔ 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں کئی اہداف پر حملے کیے۔ انتارا کے مطابق تہران نے اسرائیل میں اہداف اور خطے میں امریکی تنصیبات پر حملوں سے جواب دیا۔
انتارا کے مطابق جون 2026 کے وسط میں تہران اور واشنگٹن نے جنگ بندی کے مقصد سے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ ایجنسی کے مطابق اس کے کچھ ہی عرصے بعد دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر دوبارہ حملے شروع کر دیے۔
انتارا نے تنازع کو تاحال حل طلب قرار دیا۔ اس کے مطابق دونوں ممالک اس بات پر اختلاف رکھتے ہیں کہ تصفیہ کیسے ہو اور جنگ کیسے ختم کی جائے۔
انتارا کی رپورٹ میں دو متعلقہ خبروں کے لنک بھی شامل تھے۔ ایک میں اردن اور ایران کے درمیان امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی تک پہنچنے کی کوششوں پر بات چیت کا ذکر تھا۔ دوسری میں امریکہ کی اس سفارش کا ذکر تھا کہ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے سے گریز کریں۔ فراہم کردہ خلاصے میں ان دونوں خبروں کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
جس کی تصدیق نہیں ہوئی
رپورٹ میں وائٹ ہاؤس، سینٹکوم یا پینٹاگون کا بریفنگز کے بارے میں کوئی بیان شامل نہیں ہے۔ اس میں جرنل کے ذرائع کے نام نہیں دیے گئے۔ اس میں کوپر کے پیش کردہ آپشنز کے مواد کی تفصیل نہیں دی گئی۔ نہ ہی اس میں مبینہ منصوبہ بندی یا ٹرمپ کے بیانات پر ایران کا ردِعمل بیان کیا گیا ہے۔
ذرائع
یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔
- Antaraid · 30 اکتوبر، 2026
- Anadolu Agencyen · 30 اکتوبر، 2026
- Al Jazeera Arabic (Telegram)ar · 30 اکتوبر، 2026
AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں
کوئی غلطی دیکھی؟