Skip to content
Zenga News

سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقی علاقے کی طرف داغے گئے حوثی میزائلوں میں سے تین کو روک لیا

یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے حوثی افواج کی جانب سے سعودی عرب کے مشرقی علاقے کی طرف داغے گئے تین بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے۔ یہ اطلاع مڈل ایسٹ آئی نے دی ہے۔

Onur Irmako
Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 2 منٹ مطالعہ
File photo: Eastern Province Saudi Arabia
File photo: Eastern Province Saudi Arabia تصویر: Shahzad Ali / Wikimedia Commons · CC BY-SA 3.0

سعودی عرب — یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے حوثی افواج کی جانب سے منگل کی صبح سویرے سعودی عرب کے مشرقی علاقے کی طرف داغے گئے تین بیلسٹک میزائل روک کر تباہ کر دیے۔ یہ اطلاع مڈل ایسٹ آئی کے مطابق ہے۔

مڈل ایسٹ آئی نے 27 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی لائیو بلاگ اپڈیٹ میں اتحاد کے بیان کی اطلاع دی۔ یہ آؤٹ لیٹ اس رپورٹ کا واحد ذریعہ ہے۔ زنگا نیوز نے اس موقف کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔

موقع سے، سوشل میڈیا پر

سول ڈیفنس کے الرٹس

مڈل ایسٹ آئی کے مطابق، سعودی سول ڈیفنس نے ممکنہ دشمن خطرے کے پیش نظر پہلے خبردار کرنے والے الرٹس جاری کیے تھے۔ یہ الرٹس مشرقی علاقے اور خرج گورنری پر محیط تھے۔

مڈل ایسٹ آئی نے کہا کہ بعد ازاں سول ڈیفنس نے بتایا کہ دونوں علاقوں میں خطرہ ٹل چکا ہے۔

کیا معلوم نہیں

مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ میزائل کہاں سے داغے گئے یا ان کا ہدف کیا تھا۔ اس میں داغے جانے یا روکے جانے کا درست وقت بھی نہیں دیا گیا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ملبہ کہاں گر سکتا ہے۔

رپورٹ میں کسی جانی یا مالی نقصان کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں حوثیوں کا ردعمل شامل نہیں ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ اتحاد یا سعودی حکام نے مزید تفصیلات فراہم کی ہیں یا نہیں۔

چونکہ یہ موقف ایک ہی آؤٹ لیٹ کے اتحاد کے بیان کے خلاصے پر مبنی ہے، اس لیے میزائلوں کی تعداد اور تینوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ اتحاد کے بیانات ہیں جنہیں مڈل ایسٹ آئی نے نقل کیا ہے۔ ذرائع مواد میں کوئی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں تھی۔

پس منظر

ذریعے میں اتحاد کو سعودی قیادت والا بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ یمن میں کام کرتا ہے۔ اس میں حوثیوں کو میزائل داغنے والی افواج کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ اس میں تنازع یا پہلے کے حملوں کے بارے میں مزید پس منظر نہیں دیا گیا۔

زنگا نیوز اتحاد، سعودی حکام یا دیگر آؤٹ لیٹس کی جانب سے مزید معلومات شائع ہونے کی صورت میں اس رپورٹ کو اپ ڈیٹ کرے گا۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے سرکاری بیان یا ذریعے پر مبنی ہے اور ہر بات اسی سے منسوب کی گئی ہے۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج