Skip to content
Zenga News

بنگلہ دیش نے دو بنگلہ دیشیوں کی سزائے موت پر سعودی سفیر کو طلب کر لیا

ڈھاکا نے مکہ میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت کے بعد سعودی عرب کے سفیر سے تفصیلات طلب کی ہیں۔ بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں گرفتاری، مقدمے یا سزاؤں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔

Zenga News مشرق وسطیٰ ڈیسک · مدیر Onur Irmako · تازہ کاری · 3 منٹ مطالعہ
File photo: On Sunday, October 18, Foreign Minister Abul Hassan Mahmood Ali delivered a speech at a press conference held at the UNCLOS conference room of the Ministry of Foreign Affairs in Dhaka. Minister of State for Foreign Affairs Shahriar Alam w
File photo: On Sunday, October 18, Foreign Minister Abul Hassan Mahmood Ali delivered a speech at a press conference held at the UNCLOS conference room of the Ministry of Foreign Affairs in Dhaka. Minister of State for Foreign Affairs Shahriar Alam w تصویر: Press Information Department / Wikimedia Commons · Public domain

ڈھاکا — بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے ڈھاکا میں تعینات سعودی سفیر کو طلب کیا تاکہ مکہ میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کی حالیہ سزائے موت کی تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔ یہ اطلاع بی بی سی بنگلہ نے 18 اکتوبر 2026 کو دی۔

بی بی سی بنگلہ کے مطابق وزارت نے سفیر کے ساتھ ملاقات کی اور اس معاملے کی مکمل روداد طلب کی۔ اس ملاقات سے متعلق وزارت کا اپنا بیان ماخذ مواد میں شامل نہیں تھا۔

سعودی عرب کا مؤقف

سعودی وزارتِ داخلہ نے بدھ 14 اکتوبر کو ایک بیان میں سزائے موت کا اعلان کیا جو سعودی پریس ایجنسی نے جاری کیا، جیسا کہ بی بی سی فارسی اور بی بی سی اردو نے بتایا۔ وزارت کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے مکہ کی ایک مسجد میں "غیر اخلاقی اور فحش" رویے کے الزام میں دونوں افراد کو گرفتار کیا۔ اس کے مطابق تحقیقات کے بعد معاملہ عدالت میں گیا، جس نے الزامات ثابت پائے اور دونوں افراد کو موت کی سزا سنائی۔

بی بی سی فارسی کے مطابق سعودی حکام نے الزامات کی مزید تفصیلات شائع نہیں کیں۔

بنگلہ دیش کا ردِعمل

بی بی سی فارسی اور بی بی سی اردو کے مطابق جدہ میں بنگلہ دیشی قونصلیٹ نے جمعرات 15 اکتوبر کو سعودی وزارتِ خارجہ کو خط لکھ کر تفصیلات طلب کیں۔ بی بی سی فارسی نے بتایا کہ بنگلہ دیش نے ان سزاؤں کی مذمت کی اور وضاحت طلب کی۔

جدہ میں بنگلہ دیشی قونصل خانے کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ سعودی حکام نے گرفتاری، قانونی کارروائی یا سزاؤں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ بی بی سی اردو نے انہی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سعودی حکام نے سفارت خانے کے ذریعے یہ تصدیق نہیں کی کہ دونوں افراد بنگلہ دیشی ہیں۔

بی بی سی فارسی کے مطابق اسی وجہ سے یہ معلوم نہیں کہ لاشیں کہاں رکھی گئی ہیں یا انہیں کب اور کیسے حوالے کیا جائے گا۔ اس نے مزید بتایا کہ چونکہ بنگلہ دیش کو باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا گیا، اس لیے سفارت خانہ ان افراد کے اہلِ خانہ سے رابطہ کرنے یا انہیں معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

قانونی سوالات

بی بی سی کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی، کیونکہ اس نے اہلِ خانہ یا سفارت خانے کو مطلع کیے بغیر سزاؤں پر عمل درآمد کیا۔ بریک (BRAC) کے مائیگریشن پروگرام کے سربراہ شریف الحسن نے کہا کہ سعودی عرب نے اس عمل کے دوران کنونشن کی خلاف ورزی کی، جیسا کہ بی بی سی اردو نے بتایا۔

کنونشن کے آرٹیکل 36 کے مطابق اگر کسی غیر ملکی شہری کو گرفتار یا حراست میں لیا جائے تو اس کے ملک کے سفارت خانے کو، اگر وہ شخص ایسا چاہے، بغیر تاخیر کے مطلع کیا جانا چاہیے۔ بی بی سی اردو اور بی بی سی فارسی نے بتایا کہ سعودی عرب نے یہ کنونشن 1981 میں منظور کیا تھا۔

برطانیہ میں مقیم بین الاقوامی قانون کے ماہر رحمان رashid نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں افراد کو اپیلوں کے ختم ہونے کے بعد سزا سنائی گئی۔ بی بی سی اردو کے مطابق انہوں نے کہا، "سفارت خانے کو معلوم ہونا چاہیے تھا۔" انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل ایک ہی دن میں مکمل نہیں ہوا۔ ان کے مطابق دونوں افراد سے بار بار پوچھا جانا چاہیے تھا کہ آیا وہ قونصلر مدد چاہتے ہیں، اور اگر وہ انکار کرتے تو سعودی حکام ذمہ دار نہ ہوتے۔

سابق سفیر ہمایوں کبیر نے مختلف رائے دی۔ انہوں نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ چونکہ مقدمہ سعودی عرب کے داخلی قانونی نظام کا حصہ تھا، اس لیے سعودی حکام پر بنگلہ دیش کو مطلع کرنے کی کوئی قانونی ذمہ داری نہیں تھی۔ ان کے مطابق اگر بنگلہ دیش درخواست کرے تو وہ پھر بھی جواب دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں کیا ہوا، یہ معلوم نہیں۔

پس منظر

بی بی سی فارسی کے مطابق سعودی وزارتِ داخلہ نے "دہشت گردی سے متعلق" جرائم پر پانچ سعودی شہریوں کو سزائے موت دینے کا بھی اعلان کیا۔ یہ واضح نہیں کہ وہ جرائم کب سرزد ہوئے تھے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے 2025 میں 300 سے زائد افراد کو پھانسی دی۔ وہاں سزائے موت منشیات سے متعلق اور بعض سکیورٹی جرائم سمیت مختلف جرائم پر دی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں منصفانہ مقدمے کے معیار کے حوالے سے ملک پر تنقید کرتی رہی ہیں۔

ذرائع

یہ رپورٹ نیچے دیے گئے ذرائع سے لکھی گئی اور کم از کم دو سے تصدیق کی گئی۔

AIنیچے دیے گئے ذرائع سے اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا۔ہم اے آئی کیسے استعمال کرتے ہیں

کوئی غلطی دیکھی؟

متعلقہ کوریج